مریضوں کی تعداد میںکئی گنا اضافہ ... ڈاکٹروں ،نرسوںاورپیرا میڈیکل سٹاف کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا

22 مارچ 2012
لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) 24برسوں کے دوران صوبے میں دل کے مریضوں کی تعداد میںکئی گنا اضافے کے باوجود تاحال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ڈاکٹروں ،نرسوںاورپیرا میڈیکل سٹاف کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جبکہ بیڈز کی تعداد میں ہونے والا اضافہ(کُل 337بیڈز) بھی آٹے میں نمک کے برابر ہی رہا۔ ضروریات کے مقابلے میںبیڈز، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی شدید قلت کے باعث دوردراز سے روزانہ لاہور کا رخ کرنے والے 2000سے زائد دل کے مریض سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ان کیلئے قطاروں میں کھڑے ہوکر ای سی جی کروانا اور چیک اپ کا انتظار کرنا مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہو گیا ہے۔ اینجیوگرافی اورآپریشن کیلئے مہینوں وقت نہیں ملتا۔ 1988میںصوبائی دارالحکومت میں قائم ہونے والے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آج تک ڈاکٹروں، نرسوں ودیگر سٹاف کی آسامیوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے موجود سٹاف کیلئے کوشش بسیار کے باوجود مریضوں کو فوری توجہ دینا شدید مشکل ہوگیا ہے۔ ایمرجنسی میں پہنچنے والے جاں بلب مریضوں کا علاج جاتے ہی شروع کئے جانے کی بجائے ہسپتال کے قواعد و ضوابط کے مطابق پہلے انہیں پرچی اور ای سی جی کیلئے باقاعدہ لائن میں کھڑے ہوکر انتظار کے کرب سے گزرنا پڑتا ہے پرچی بنوانے کیلئے لمبی لائن اور پھر ای سی جی کیلئے اس سے بھی لمبی لائن دیکھ کر دل کا مریض چکرا جاتاہے آو¿ٹ ڈور تک پہنچنے کیلئے مریضوں کی اکثریت کو کئی منٹ پیدل چلنا پڑتا ہے جس سے ان کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے، سٹریچر اور ویل چیئر ہر مریض کے مقدر میں نہیں ہے جس کی وجہ سے مریض خواتین کیلئے علاج کے مراحل مزید مشکل ہوجاتے ہیں۔ مریضوں اور انکے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اصلاح احوال کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ روز نوائے وقت سروے میں قصور سے آنیوالی کلثوم نے کراہتے ہوئے کہاکہ مریض کو ایمرجنسی میں پہنچتے ہی اٹینڈ کرنے اور علاج شروع کرنے کا نظام بنایا جائے کیونکہ دوردراز سے آنے والے مریض یہاں پہنچ کر بھی کافی دیر تک علاج سے محروم رہتے ہیں۔ چناب نگر کے اعجاز نے بتایا کہ یہاںمفت علاج کے باوجود علاج شروع ہونے میں تاخیر کے باعث مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حافظ آباد سے آنےوالے نسیم احمد اور تنزیلہ نے کہا کہ غریبوں کا دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں ہمیں بھی غربت کی سزا مل رہی ہے، کئی ماہ سے اینجیو گرافی کا وقت نہیں ملا، امیر ہوتے تو فوراً اینجیوگرافی ہوجاتی۔ دوسری جانب رحیم یار خان سے علاج کیلئے آنےوالے وزیر احمد اور غلام اکبر نے کہا کہ پہلے چکر میں ہی کام ہوگیا ہے۔ دریں اثنا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے نوائے وقت کو بتایا کہ ہر طرح کی قلت کے باوجود یہاں پہنچنے والے ہر مریض کو ضرور اٹینڈ کیا جاتا ہے۔ 1988ءسے آج تک آبادی اور دل کے مریضوں میں اضافے کے باوجود ہم اسی سٹاف کے ساتھ بہترین خدمات دینے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث اگر ایسے چارہسپتال قائم ہوں تو بھی کم ہیں۔ ہمارے ہاں روزانہ سات آپریشن اور سالانہ دنیا بھر کے ہسپتالوں سے زیادہ 2000 آپریشن اور 16000سے زائد اینجیوگرافی کی جاتی ہے جبکہ 79فیصد مریضون کا علاج مفت ہوتا ہے۔