''اک روز زمین اوڑھ کے سوجائیں گے ہم لوگ''

پروفیسر سید محمد ابرارشاہ بخاری
peerji63@gmail.com

زندہ انسانوں کو سونے کے لئے بستر اور اوڑھنے کیلئے موسم کی مناسبت سے چادر، کھیس،کمبل یا رضائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا سے چلے جانے والوں کو آخری آرام گاہ قبر کا بچھونا اور اوڑ نے کے لئے منوں
مٹی ہے۔ شاعر نے یہ لازوال مصرعہ کہا ''اک روز زمین اوڑھ کے سوجائیں گے ہم لوگ'' دارالحکومت اسلام آباد میں جینا تو شاید مشکل ہو لیکن مرنا قدرے آسان ہے، وہ یوں کہ وفاقی دارلحکومت کے ترقیاتی ادارے نے مرنے والوں کو کچھ سہولیات دے رکھی ہیں سی ڈی اے کے زیر انتظام پہلے ایک وسیع و عریض قبرستان زیر وپوائنٹ کے قریب سیکٹر 8?H میں آباد کیا گیا۔جہاں زندگی کے مختلف شعبوں کی نامور شخصیات آسودہ خاک ہیں۔ وہاں جگہ ختم ہو جانے کے بعد سیکٹر 11?H میں نیا شہر خموشاں بنایا گیا ہے۔ سی ڈی اے کی قبرستان سروس میں میت کو آخری منزل تک پہنچانے کے لئے میت گاڑی اور تھوڑے سے معاوضے میں ابدی نیند کے لئے زمین کے بستر(قبر) کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔ قبرستان کے اندر کافی بڑی اور کورڈ جنازہ گاہ بھی موجود ہے جو بہت غنیمت ہے۔ میت کے غسل اور تکفین کی ذمہ داری لواحقین اور وارثین کی ہے۔مقام حیرت اور افسوس ہے کہ راولپنڈی کے پوش علاقے سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں، جہاں تقریبا ً100 فیصد لوگ تعلیم یافتہ اور مالی طور پر خوشحال اور آسودہ ہیں، وہاں کوئی قریبی بڑا قبرستان اور معقول و مناسب جنازہ گاہ موجود نہیں۔ راہی ملک عدم ہو جانے والوں کے لئے اتنے بڑے علاقے میں قریبی قبرستان اور جنازہ گاہ کا نہ ہونا لمحہ فکریہ اور مقام افسوس ہے۔ حال ہی میں مجھے اپنے محلہ کی ایک خاتون کے جنازے اور تدفین میں جانے کا موقع ملا۔ یہ خاتون ڈی بلاک سیٹلائیٹ ٹاو¿ن راولپنڈی کی قدیم رہائشی تھیں لیکن ا نہیں چکلالہ ائرفورس کے قبرستان میں آخری آرام گاہ ملی۔
موت سے کسی کو مفر نہیں۔ ہر ذِی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ 
روز و شب شام و سحر، لوگ چلے جاتے ہیں 
 نہیں معلوم، تہِ خاک تماشا کیا ہے؟
راولپنڈی کی نئی اور اچھی ہاو¿سنگ سوسائیٹیوں میں، رہائشی علاقے کے ساتھ قبرستان اور جنازہ گاہ کے لئے وسیع وعریض جگہ مختص کی گئی ہے یہ بہت خوش آئند بات ہے اور ایسا ہونا چاہئے کیوں کہ ز مین کے اوپر رہنے والوں کو جتنی جگہ چاہیے،زمین کے نیچے جانے والوں کی بھی اتنی ہی جگہ درکار ہے لیکن راولپنڈ ی کے قدیم اور زیادہ آبادی والے علاقوں میں قبرستان اور جنازہ گاہوں کا فقدان ہے۔ اس طرف متعلقہ اداروں اور حکام کی توجہ درکار ہے۔ امید ہے کہ ار بابِ اختیار مرنے والوں کو دوگز زمین فراہم کرنے اور لواحقین کو آسانی پہنچانے کے لئے ہر علاقے میں قریبی قبرستان اور جناز و گاہ کی سہولت مہیا کر دیں گے۔
ایک اور مسئلہ جو مشاہدے میں آیا یہ ہے کہ میت کے ورثاء اور لواحقین میت کے غسل اور کفن کے لئے کوئی بندہ ڈھونڈ تے رہتے ہیں، اصولاً تو میت کے ورثا کو تجہیزو تکفین خود کرنی چاہئے لیکن لوگوں کی اکثریت دین کے بارے میں کم علم ہے اور ان مسائل کا تو لوگوں کو علم ہی نہیں اس لئے یہ مشکل پیش آتی ہے اور اس مشکل کافی الحال کوئی حل بھی نظر نہیں آتا۔ یورپ اور امریکہ کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی بوڑھے اور بیمار والدین اور بزرگوں کو اولڈ ہوم بھیجنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ان حالات میں والدین اور بزرگوں کی خدمت اور تیمار داری تو ایک طرف ان کی تجہیز و تکفین اور تدفین بھی ایک بو جھ اور مسئلہ بنتی جاری ہے اس لئے اندریں حالات مناسب یہ ہے کہ ہر علاقے کی مسجد کے امام صاحب مردوں اور ان (امام صاحب) کی اہلیہ خواتین کی میتوں کوغسل اورکفن دیں۔ اگر وہ کام خوش دلی سے فی سبیل اللہ سرانجام دیں تو ان کے لئے بے حد اجر وثواب ہے ورنہ ان کی خدمت میں اس کار خیر کا مناسب سا ہدیہ پیش کردیا جائے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اسلام آباد کے مرکز آئی ایٹ میں واقع جامع مسجد قباء کی انتظامیہ نے میت کے غسل، کفن، جنازے اور تدفین کی خدمات بالکل مفت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہواہے لیکن یہ کام اداروں کے کرنے کا نہیں بلکہ میت کے ورثا اور لواحقین کا ہے اس لئے بہتر ہے کہ انہیں اس کام کی عملی تربیت دی جائے اوروہ میت کا حق ادا کر کے عند اللہ ماجور ہوں۔آخر میں (بقول اشفاق احمد) دعا ہے کہ اللہ ہمیں آسانیاں عطا فر مائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی سعادت اور توفیق عنایت کرے۔

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...