ریاست کو میسر"دام شنیدن"۔ مشتری ہوشیار باش

مخبر کو غالب نے فرشتہ سے تشبیہ دی تھی اور دْکھ بھرے دل سے حیرت کا اظہار صرف اس امر پر کیا کہ ’’آدمی کوئی ہمارا‘‘ شاعر کے کردہ یا ناکردہ گناہوں کی رپورٹ لکھتے وقت آس پاس موجود تھا یا نہیں۔ غدر/جنگ آزادی کے دنوں میں فسادِ خلق سے گھبرا کر اپنے گھر میں محصور ہوئے غالب یہ بھی نہ طے کرسکے کہ ’’کلیسا‘‘ یا ’’کعبہ‘‘ میں سے کس کے آگے سرجھکائیں۔ ’’کلیسا‘‘ اور ’’کعبہ‘‘ یاد رہے یہاں علامتوں کی صورت استعمال ہوئے ہیں۔ مسئلہ درحقیقت یہ تھا کہ زوال کی زد میں آئے بہادر شاہ ظفر سے وفاداری برقرار رکھی جائے یا بھاپ سے ریل چلانے اور پنشن کی باقاعدہ ادائیگی یقینی بنانے والے برطانوی نظام کے آگے سرنگوں کردیا جائے۔ ’’فرشتوں‘‘ کی لکھی ’’منفی‘‘ رپورٹوں سے گھبراکر غالب نے بالآخر ’’جنون میں بکنے‘‘ کی عادت اختیار کرلی۔ یہ عادت اپنا لینے کے بعد انہیں یقین رہا کہ ’’آگہی‘‘ یعنی ان کے حقیقی خیالات جاننے کو بے چین دوست نما دشمن ان کی بات کو غور سے سننے کے تمام میسر ذرائع استعمال کرنے کے باوجود ان کے دل کی بات جان ہی نہیں پائیں گے۔ ان کا ’’مدعا‘‘ عنقا رہے گا۔
ہمارے ہاں گزشتہ چند مہینوں سے ’’دام شنیدن‘‘ یعنی ان آلات کا بہت چرچا ہے جن کے استعمال سے ریاست شہریوں کو موبائل فونز کے ذریعے بھیجے پیغامات اور گفتگو وغیرہ نہ صرف سن سکتی ہے بلکہ انہیں ریکارڈ کرنے کی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہے۔ اس حوالے سے ریاست کو جو قوت حاصل ہے اس کا مظاہرہ چند ٹیپس کی صورت ہوا۔ بہت ذہانت ومہارت سے چند لوگوں کے مابین گفتگو کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر ریلیز کرنے کے بعد انہیں 24/7چینلوں کی بدولت وسیع تر پیمانے پر اچھالا گیا۔ لوگوں کی نجی گفتگو کو منظر عام پر لانے کی جو لہر چلی اس کا نشانہ عمران خان اور ان کی اہلیہ تھے۔ بعدازاں کچھ ایسے افراد خصوصاََ دو خواتین کی گفتگو بھی منظر عام پر لائی گئی مقصد جس کا سپریم کورٹ کے اب ریٹائر ہوئے چیف جسٹس صاحب کے خاندان اور قریبی دوستوں کی عمران خان سے مبینہ ’’عقیدت‘‘ کو بے نقاب کرنا تھا۔
اہم لوگوں کے مابین ٹیلی فون پر ہوئی گفتگو روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے برسرعام لانے کا چلن شروع ہوا تو اس کی زد میں آئے چند افراد نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے عزت مآب جج بابر ستار صاحب نے اس معاملے کا ثابت قدمی سے پیچھا کیا اور سختی سے اس امر کا تقاضہ بھی کہ دورِ حاضر میں ریاست کے پاس لوگوں کی نجی گفتگو میں نقب لگانے کی صلاحیت کو قانون وضوابط کے تحت لایا جائے۔ یوں نہ ہو کہ ایسی صلاحیت کچھ ریاستی افسر چند افراد کو سیاسی وذاتی وجوہات کی بنیاد پر بدنام کرنے کی غرض سے استعمال کرنا شروع ہوجائیں۔ ذاتی طورپر میں ان کی جانب سے لئے فیصلے کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں۔ یہ حقیقت یاددلانے کو لیکن مجبور ہوں کہ دورِ حاضر میں دنیا کی کمزور ترین ریاست کی اولین ترجیح بھی ان جدید ترین آلات کا حصول ہے جو اسے اپنے شہریوں (رعایا) پر کڑی نگاہ رکھنے کے قابل بنائے۔
یاد ہمیں یہ بھی رکھنا ہوگا کہ رعایا پر کڑی نگاہ رکھنے کا نظام ہمارے خطے میں صدیوں سے نہایت منظم انداز میں چلایا جارہا ہے۔بہت کم لوگوں کو غالباََ یاد رہا ہو گا کہ ’’اخبار نویس‘‘ کا لفظ برطانوی دور سے قبل قائم ہوئی سلطنتوں کے ان ’’مخبروں‘‘ کے لئے استعمال ہوتا تھا جو دارالحکومت سے کئی دور شہروں میں قیام پذیر ہوئے وہاں کے ماحول پر نگاہ رکھتے تھے۔ سارا دن بازاروں اور کوچوں میں لوگوں سے گفتگو کے بعد وہ دربار کے لئے ’’روزنامچہ‘‘ تیار کرتے۔ اس کے ذریعے آگاہ کیا جاتا کہ عوام کے دلوں میں بادشاہ وقت اور اس کے دربار کے بارے میں کیا محسوس کیا جارہا ہے۔ اخبار نویسوں کے تیار کردہ روزنامچے ’’ڈاک‘‘ کے برق رفتار اور تازہ دم گھوڑوں پر مشتمل نظام کے ذریعے نہایت سرعت سے دربار تک پہنچائے جاتے۔ مذکورہ نظام ’’ڈاک‘‘ کہلاتا تھا۔ہندوستان میں وارد ہوکر برطانوی حکمرانوں نے ورثے میں ملے اخبار نویسوں اور ڈاک کے نظام کو نہ صرف سراہا بلکہ بہت چاہت سے اپنا بھی لیا۔مختلف اضلاع میں تعینات ہوئے ڈپٹی کمشنر اپنے علاقوں کی تاریخ بھی مرتب کرتے۔آج بھی پنجاب کے مختلف اضلاع کی ’’مقامی سیاست‘‘ اور وہاں کی ’’تاریخ‘‘ جاننے کے لئے میں ان ’’گزٹیٹر‘‘ سے رجوع کرتا ہوں جو تقریباََ200سال قبل وہاں تعینات ڈپٹی کمشنروں نے لکھے تھے۔دورِ حاضر میں لوگوں کے دلوں کا حال جاننے کے لئے ریاستوں کو اخبار نویسوں اور ڈاک کا نظام قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ میرے اور آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون ریاست کا سب سے بڑا مخبر ہے۔ وہ میرے ہاتھ میں ہے تو ریاست کا کوئی بھی افسر کہیں دور بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر چند بٹن دباکر معلوم کرسکتا ہے کہ میں اس وقت کس مقام پر موجود ہوں۔ میری گاڑی میں لگاٹریکر بھی میری ’’لوکشن‘‘ بتادیتا ہے۔میرے گھر یا گاڑی میں چھوٹی سی چپ(Chip)چسپاں کرکے وہاں ہوئی گفتگو بآسانی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ اپنے شہریوں(رعایا) پر نگاہ رکھنے اور ان کے دلوں کا حال جاننے کی جو سہولت دورِ حاضر کی ریاست کو میسر ہے اسے کسی ضابطے میں لانا ممکن نہیں رہا۔ کوشش کرنے میں اگرچہ حرج نہیں۔
احتیاطاََ یہ بھی یاددلانا چاہوں گا کہ ٹیلی فون پر ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگ کو ’’ناپسندیدہ لوگوں‘‘ کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنے کی جو لہر چلی تھی یہ بدنصیب اس کے اولیں ’’زخمیوں‘‘ میں سے ایک تھا۔ مریم نواز صاحبہ کی وزیر اعظم ہائوس سے ہوئی ایک گفتگو ان دنوں ریکارڈ ہوئی جب ان کے والد وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ اسے میڈیا کو لیک کرکے مجھے عمران حکومت کے دوران شریفوں سے ’’ٹوکریاں‘‘ لینے والا بکائوصحافی ثابت کرنے کی کوشش ہوئی۔ میں دو ٹکے کا صحافی اپنی ساکھ کے تحفظ کیلئے کسی عدالت سے رجوع کرنے کے قابل ہی نہیں تھا۔ وہ لوگ قابل رشک حد تک خوش نصیب ہیں جن کی ٹیلی فون پر ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تو ریاستی حلقوں میں مشفق عدالت کی بدولت تھرتھلی مچ گئی۔
جدید ریاست کو میسر ’’دام شنیدن‘‘ کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں البتہ مصر رہوں گا کہ ’’مشتری ہوشیار باش‘‘۔ بہتر یہی ہے کہ غالب کی طرح ’’جنون میں بکنے‘‘ کی عادت اپنالی جائے تانکہ کوئی مخبر آپ کے دل کی بات جان ہی نہ پائے۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...