خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

28 ستمبر 2014

حسن محمد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کی پوری تاریخ ان کے سامنے ہے بلکہ وہ خود اس تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ 2013ءکے عام انتخابات کے حوالے سے ملک بھر میں تحریک انصاف کا احتجاج تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے۔ عمران خان کا الزام یہ ہے کہ 2013ءکے الیکشن میں قوم کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوا ہے۔ عوامی تحریک نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا۔ ان کا موقف یہ تھا۔ کہ انتخابی نظام میں تبدیلی لائے بغیر موجود سسٹم کے تحت آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ممکن ہی نہیں۔ میں نے حسن محمد صاحب سے رابطہ کیا کہ وہ پاکستان منعقد ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ایک سینئر ترین افسر کے طور پر عملاً فرائض ادا کرتے رہے ہیں حسن محمد کہنے لگے کہ میرے خیال میں تو اصل دھاندلی عام انتخابات سے پہلے یہ شروح ہوگئی تھی جب تحریک طالبان پاکستان نے کچھ سیاسی جماعتوں کو خاص طور پر ٹارگٹ بنا کر ان کے انتخابی جلسوں میں بم دھما کے کیے اور ان کے لئے الیکشن مہم چلانا ممکن نہ رہنے دیا۔ آزاد اور منصفانہ الیکشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کو اپنی اپنی انتخابی مہم چلانے کا ایک جیسا حق دیا جائے۔ لیکن الیکشن کمیشن اور نگران حکومت دونوں ہی اس اعتبار سے نا کام رہے کہ وہ دہشت گردوں کی کاروائیوں سے متاثرہ سیاسی جماعتوں کو تحفظ فراہم نہ کرسکے۔ عمران خان اپنے ساتھ ہونے والی انتخابی دھاندلیوں کی تو بات کرتے ہیں۔ لیکن اس ظلم و زیادتی کی مذمت نہیں کرتے جو دہشت گرد تنظیموں نے کچھ سیاسی جماعتوں کو نا کام بنانے کے لئے پوری انتخابی مہم کے دوران جاری رکھا۔ حسن محمد صاحب نے کہا کہ میرے نزدیک دوسری بڑی انتخابی دھاندلی یہ تھی کہ الیکشن کمیشن کے بعض عہدیداروں نے یہ نعرے تو کئی بار پوری شدت سے بلند کئے کہ عام انتخابات میں کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران ٹیکس نادہندگان، بینکوں قرضے واپس نے دینے والوں یا بینکوں سے اربوں اور کروڑوں روپے کے قرضے معاف کروانے والوں، ملک وقوم کی دولت کرپشن کے ذرائع لوٹنے والوں اور بوگس ڈگری کی بنیاد پر سابق انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کااس دفعہ سختی سے احتساب کیا جائے گا اور ایسا کوئی امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ حسن محمد نے کہا کہ مجھے آپ ایک بھی ٹیکس نادہندہ کا نام بتادیں جسے الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہو۔ جن سیاست دانوں نے بینکوں کے قرضے معاف کروائے۔ ان کو معاف کی گئی رقوم معمولی نہیں تھی۔ کروڑوں روپے اور بعض صورتوں میں اربوں روپے فردو احد یا ان کے خاندان پر واجب الادا تھے۔ ایسے افراد کا الیکشن میں حصہ لینا اور پر کامیاب ہو جانا قوم کے ساتھ ایک گھناونی وار دات نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک سیاسی خاندان ایسا بھی ہے جس کے ذمے نیشنل بینک کا تین ارب روپے سے زیادہ قرضہ ہے۔ انہوں نے یہ قرضہ معاف بھی نہیں کروایا بلکہ قرض واپس دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اس خاندان کے کئی افراد اسمبلیوں کے ارکان اور بلند ترین حکومتی عہدوں پر موجود ہیں۔ کیا الیکشن کمیشن کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ ان کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیتا۔ جو ارکان اسمبلی قومی یا صوبائی اسمبلی کے پانچ دفعہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اور ان کا ٹیکس نمبر ہی نہیں ہے۔ ان سے بڑا ٹیکس نادہندہ اورکون ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو 2013ءکے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیسے مل گئی۔ پھر جعلی ڈگری والے وہ ارکان پارلیمنٹ جن کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے سے اسمبلی کو رکنیت چھوڑنا پڑی۔ اس میں سب سے بڑی مثال جمشید دستی کی ہے۔ ان کے کاغذات نامزدگی کیسے منظور ہوگئے۔ عمران خان جو عام انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے حوالے سے خود کو سب سے بڑا چیمپین سمجھتے ہیں۔ جعلی ڈگری والے جمشید دستی اب ان کی جماعت میں ہیں اور کئی جعلی ڈگری والے بھی عمران خان کے اردگرد موجود ہیں لیکن اس انتخابی فراڈ کے خلاف عمران خان خاموش ہیں۔ ایک محتاط تجزیے کے مطابق 18 ہزار ارب ( 18000 بلین روپے) ہمارے کرپٹ سیاستدانوں کی بدترین لوٹ کھسوٹ کی نذر ہوچکے ہیں۔ یہ لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک بینکوں میں جمع کروانے کو ترجیح دی جاتی ہے حسن محمد صاحب نے کہا کہ مجھے کسی سیاست دان کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔ قوم کو تمام لٹیرے سیاست دانوں کے نام معلوم ہیں۔ اسٹیٹ بینک والوں، ایف بی آر اور نیب کو بھی ان کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ واپڈا اور دیگر سرکاری محکمے بھی اپنے نادہندگان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کس طرح کی سکروٹنی کی ہے کہ ہر طرح کے نادہندگان اسمبلیوں میں دوبارہ پہنچ گئے ہیں۔ حسن محمد نے کہا کہ 2013ءکے عام انتخابات کے ایک اور پہلو کی طرف بھی میں الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں نے انفرادی طور پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے انتخابی مہم میں استعمال کیے۔حسن محمد نے کہا کہ ان ڈھیروں خرابیوں کے بعد بھی میری اپنی پیارے پاکستان کے لئے یہی دعا ہے کہخدا کرے کے میری ارض پاک پر اترےوہ فصل گل جسے اندیشہ روال نہ ہو