علامہ اقبال کی مادر علمی اور نظریہ پاکستان

16 نومبر 2014
علامہ اقبال کی مادر علمی اور نظریہ پاکستان

ارضی سیالکوٹ میںایک سو سال سے بھی زیادہ قدیم وہ تعلیمی ادارہ جہاں علامہ اقبال نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبال کی اس تاریخ مادر علمی کے طلباء نظریہ پاکستان سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ان طلباء سے میرا بھی یہی نظریاتی رشتہ ہے جس کے باعث وہ مجھے بھی اکثر اپنی تقاریب میں اظہار خیال کیلئے دعوت دیتے رہتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کو سمجھنے کیلئے قائداعظم کا یہ مختصر ترین فرمان ہی کافی ہے کہ ’’ پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز ہندوستان میں پہلے غیر مسلم نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ہندوستان میں جب پہلا فرد مسلمان ہوا تو ایک نئی قوم وجود میں آگئی۔
قائداعظم کے اس فرمان کے بعد کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے۔ نظریہ پاکستان کی کوئی اور تشریح ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی اور یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ پاکستان صرف اور صرف اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، جس دو قومی نظریے کی اساس پر پاکستان قائم ہوا تھا اس کی حفاظت اس لئے ضروری ہے کیوں کہ کسی بھی عمارت کے استحکام کی ضمانت بنیادوں کی مضبوطی کے بغیر نہیں دی جاسکتی۔ اسلام کا اپنا ایک جامع اور مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام کے جامع نظام حیات کو نافذ کرنے کیلئے ایک آزاد ریاست کی ضرورت تھی۔ اسی ضرورت کی اساس پر پاکستان کا مطالبہ کیا گیا۔ جب اس مطالبے کو ایک طویل جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے بعد تسلیم کروا کر ہم پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر ہمار ایہ فرض بنتا ہے کہ ہم اس سر زمین پاک پر اسلام کے اس مکمل ضابطہ حیات کو نافذ کریں جس کا ہم نے تحریک پاکستان کے دوران پوری دنیاکے سامنے اعلان کیا تھا۔ اسلام انفرادی اور اجتماعی زندگی کیلئے ہمارا کامل راہنما ہے۔ اسلام کے اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ سو پہلے رسول کریمؐ کے دور میں قابل عمل تھے۔ اپریل 1943ء کا واقعہ ہے کہ سرحد مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے قائداعظم سے پیغام کی درخواست کی۔ آپ نے اس درخواست کے جواب میں فرمایا:۔’’میں تمہیں کیا پیغام دو کیوں کہ ہمارے پاس پہلے ہی ایک عظیم پیغام موجود ہے جو ہماری راہنمائی اور بصیرت افروزی کیلئے کافی ہے۔ وہ عظیم پیغام ہے خدا کی کتاب قرآن کریم۔‘‘
قائداعظم نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد (دکن) کے طلباہکے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’میں نے قرآن کریم اور قوانین اسلام کے مطالعہ کی اپنے طور پر کوشش کی ہے۔ اس عظیم کتاب کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔ زندگی کا روحانی پہلو ہویا معاشرتی، سیاسی ہو یا معاشی غرضیکہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطہ سے باہر ہو۔ قرآنی تعلیمات اور طریق عمل نہ صرف مسلمانوں کیلئے بہترین ہیں بلکہ اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کیلئے حسن سلوک اور آئینی حقوق کا جو حصہ ہے۔ اس سے بہتر کا تصور بھی ممکن نہیں۔ کچھ لوگ اپنی کم علمی یا شعوری بددیانتی کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ قائداعظم اگر پاکستان میں اسلام کی بنیادی اصولوں کی حکمرانی کے حق میں نہیں تھے۔ تو قائداعظم نے یہ کیوں ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم کی تعلیمات میں زندگی کے تمام شعبوں کیلئے رہنما اصول موجود ہے۔ سیاست، معاشرت اور معیشت ان تمام شعبوں کا الگ الگ نام لیکر قائداعظم نے فرمایا کہ کوئی بھی شعبہ اسلامی تعلیمات کے احاطہ سے باہر نہیں ہے یعنی ہر شعبہ زندگی کیلئے قرآن میں ہدایات موجود ہیں۔ ہندووں کے لیڈر گاندھی نے کہا تھا کہ ’’اگر مذہب کو اس حال میں رہنے دیا جائے کہ یہ بندے اور خدا کے درمیان ایک ذاتی اور نجی نوعیت کا تعلق ہے تو پھر ہندووں اور مسلمانوں کیلئے ایک سے زیادہ اشتراک کی وجوہات نکل آئیں گی جن کی بنیاد پر وہ مل جل کر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔قائداعظم نے گاندھی کے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام کے نزدیک مذہب کا یہ محدود اور مقید تصور درست نہیں ہے کہ مذہب خدا اور بندے کے درمیان پرائیوٹ تعلق کا نام ہے۔ اسلام میں اطاعت اور وفاکیشی کا مرکز خدا کی ذات ہے۔ ہماری پارلیمنٹ بھی قرآنی احکام اور اصولوں کی پابند ہوگی اور ہماری سیاست اور معاشرت کی حدود بھی قرآن کریم کے احکامات متعین کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کا بھی بہت مشہور ارشاد ہے کہ اگر انگریزوں سے آزادی کے بعد بھی ہندوستان کو دارالکفر ہی رہنا ہے اور ایک باطل کی حکومت قائم ہوجانی ہے تو پھر مسلمانوں کو ایسی آزادی وطن پر لعنت بھیجنی چاہئے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا تصور پیش ہی اس لئے کیا تھا کہ وہ اس کو اسلام کا گھر بنانا چاہتے تھے۔ اسلام سے محبت ہی نے علامہ اقبال کو تصور پاکستان پیش کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کی صورت میں ہندوئوں کے سیاسی اور معاشی غلبہ سے بھی مسلمانوں کو نجات حاصل ہوگئی لیکن قیام پاکستان کا اصل مقصد اسلامی ریاست کی تشکیل تھا۔ اگر انفرادی زندگی میں اسلام پر عمل کرنے کا ہی مسئلہ ہوتا تو وہ متحدہ انڈیا میں بھی ممکن تھا مسلمانوں کے لئے اپنی اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی واحد صورت یہی تھی کہ انڈیا کے مسلمانوں کا ایک آزاد اسلامی وطن قائم کیا جاتا۔بات بڑی واضح ہے اور اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن ہی نہیں کہ ہمیں جس رشتے نے ایک قوم بنایا وہ ایک اللہ، ایک رسولؐ اور ایک قرآن کا رشتہ ہے ۔اس رشتے سے منسلک ہو کر تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اسلام کی بنیاد پر ایک ملت کے نظریے کو اگر ہم تسلیم نہ کروا سکتے تو پاکستان کا قیام کبھی ممکن ہی نہ ہوتا۔ پھر اس سچائی سے بھی انکار ممکن نہیں کہ قرآن حکیم کے احکام صرف مذہبی اور اخلاقی معاملات تک محدود نہیں بلکہ قرآن وہ ضابطہ حیات ہے جس میں سول اور فوجداری قوانین بھی موجود ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق و فرائض کے حوالے سے بھی مکمل راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم کو قائداعظم مسلمانوں کا بنیادی ضابطہ زندگی قرار دیتے تھے اور اپنی ایک تقریر میں قائداعظم نے رسول کریمؐ کے اس حکم کا بھی حوالہ دیا تھا کہ ہر مسلمان قرآن کریم کا نسخہ اپنے پاس رکھے اور اسی طرح اپنا مذہبی راہنما خود بن جائے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں قران کریم کے احکام پر عمل کرنا شروع کردیں تو قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل خود بخود ہو جائے گی۔ پاکستان جس مسلم آئیڈیالوجی کی بنیاد پر معروض وجود میں آیا تھا اس اسلامی نظریے کا عکس ہماری عملی زندگیوں میں بھی نظر آنا چاہئے۔ پاکستان کے بانیوں قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کی سب سے بہتر شکل یہی ہے کہ ہم ان کی تعلیمات پر عمل بھی کریں۔