کچہری نیو جوڈیشل کمپلکس منتقل، وکلا کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مذاکرات ناکام

کچہری نیو جوڈیشل کمپلکس منتقل، وکلا کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مذاکرات ناکام

ملتان (سپیشل رپورٹر) ضلع کچہری کو نیو جوڈیشل کمپلیکس ملتان میں منتقل کردیاگیا آج سے مقدمات کی سماعت کمپلیکس میں ہوگی۔ رات گئے تک پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ضلع کچہری سے سامان منتقل ہوتا رہا جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مذکرات ناکام ہونے پروکلاء نے آج جنرل باڈی کا اجلاس طلب کرنے کے ساتھ ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز ضلع کچہری کو متی تل روڈ پر واقع نیو جوڈیشل کمپلیکس ملتان منتقل کرنے کی اطلاع موصول ہونے پر ڈسٹرکٹ بارکا وفد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات کے لئے پہنچ گیا۔ ملاقات کے بعد صدر ڈسٹرکٹ بار محمد یوسف زبیر نے میڈیا کو بیان جاری کیا کہ ملاقات میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد یاورعلی، جسٹس علی اکبر قریشی، جسٹس سردار محمد شمیم خان، جسٹس امین الدین خان اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان امیر محمد خان موجود تھے اور فاضل چیف جسٹس کو بتایا کہ کمپلیکس میں وکلاء کے لئے چیمبر، بار روم، لائبریری اور مسجد سمیت کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ نیز سائلوں کے لئے سہولیات کی کمی کے ساتھ پوری مطلوبہ تعداد میں عدالتیں بھی موجود نہیں ہیں اس لئے ضلع کچہری کو منتقل کرنے سے مسائل کا سامنا ہوگا تاہم صدر بارکے مطابق فاضل چیف جسٹس کو انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہاں تمام سہولیات موجود ہیں جس کی وجہ سے فاضل چیف جسٹس نے وکلاء کی بات ماننے سے انکارکردیا ہے اور احکامات دیئے کہ عدالتیں آج سے ہر صورت میں جوڈیشل کمپلیکس میں فرائض سرانجام دیں گی جس پر ڈسٹرکٹ بارکی جانب سے آج مکمل ہڑتال کرنے کے ساتھ ضلع کچہری میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا جائیگا۔ دریں اثناء گز شتہ رات پولیس کی بھاری نفری نے ضلع کچہری کی جانب جانے والے تمام راستے بلاک کردیئے اور ضلع کچہری کے اندر اور باہر نفری تعینات کر دی گئی جس کے بعد عدالتی عملہ کی مدد سے منی ٹرکوں، موٹر سائیکل رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے سامان ضلع کچہری سے نیو جوڈیشل کمپلیکس ملتان منتقل کرنا شروع کر دیا گیا اور یہ عمل رات گئے تک جاری رہا۔ دریں اثناء ضلع کچہری سے عدالتوں کی منتقلی کی اطلاع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی ضلع کچہری پہنچ گئی جو اس عمل کو دیکھتی رہی اوروکلاء کی جانب سے اس عمل کو وکلاء اور سائلوں کے لئے مشکلات کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وکلاء چار پانچ سال سے کچہری شفٹنگ کے مخالف تھے اور نئے جوڈیشل کمپلیکس میں نہیں جانا چاہتے تھے۔ گزشتہ رات جب اچانک ضلع کچہری کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تو وکلاء بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم پولیس نے یونیفارم میں موجود وکلاء کو بھی اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ اس دوران وکلاء اور پولیس کے درمیان سخت تلخ کلامی بھی ہوئی۔ جبکہ دوسری جانب صدر ڈسٹرکٹ بار ایم یوسف زبیر کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں نہ تو سائلین کے لئے سہولیات ہیں اور نہ ہی وکلاء کے چیبمرز بنائے گئے ہیں جب تک سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں وکلاء جوڈیشل کمپلیکس میں نہیں جائیں گے۔