UN ڈے ، میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو !

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
UN ڈے ، میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو !

تین روز بعد یعنی 24 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ اس بات سے بھلا کون آگاہ نہیں کہ اگر چہ مکمل طور پر امن کا گہوارا تو دنیاکا کوئی بھی خطہ نہیں مگر اس تلخ سچائی سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی وہ بد قسمت ترین جگہ ہے جہاں ستر برس کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود قابض بھارتی افواج تسلسل کے ساتھ غیر انسانی مظالم اس کچھ اس ڈھنگ سے ڈھا رہی ہیں جن کا تصور بھی کسی نارمل انسانی معاشرے میں نہیں کیا جا سکتا ۔
دوسری جانب سبھی جانتے ہیں کہ پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد ’’ لیگ آف نیشنز ‘‘ کے نام سے ایک عالمی ادارہ وجود میں آیا تھا جس کی ذمہ داری یہ قرار پائی تھی کہ جنگ و جدل کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے گا مگر اسے تاریخ کی ستم ظریفی کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے کہ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے محض اکیس برس بعد دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی جو 1945 کے اوائل تک جاری رہی اور یوں عالمی امن قائم رکھنے کی دعویدار ’’ لیگ آف نیشنز ‘‘ کا نام و نشان تک ختم ہو گیا ۔
تو اسی ادارے کے کھنڈرات پر گویا ایک نئی عالمی تنظیم ’’ اقوام متحدہ ‘ ‘ کی تعمیر ہوئی جس کا ذمہ یہ قرار پایا کہ اب یہ ادارہ عالمی امن کے قیام کی ضمانت بنے گا مگر اب عام آدمی اپنے بیتے ماہ و سال پر جب نظر ڈالتا ہے کہ عالمی امن کے سلسلے میں کہاں تک پیش رفت ہوئی تو اسے اس بابت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ گزرے ستر برسوں میںتنازعہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کی جانب ایک رتی برابر پیش رفت نہیں ہوئی اور امنِ عالم کے ٹھیکے داروں نے کسی بھی مسئلے خصوصاً کشمیر کے حوالے سے جتنے بھی دعوے کیے وہ تاحال ’’ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا ‘‘ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر حل طلب تنازعات میں سرِ فہرست ہے اور اقوامِ متحدہ نے 1948 اور 1949 کی اپنی قرار دادوں کے ذریعے بھارت سمیت ساری دنیا سے اس بات کا عہد کیا تھا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق حل کیا جائے گا ۔
اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں دہلی کے حکمران اپنے ان وعدوں پر کسی حد تک قائم بھی رہے مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ۔ حالا نکہ پاکستان اور بھارت کے مابین اسی تنازعے کی وجہ سے تین بار کھلی جنگ کی نوبت آ چکی ہے ۔ اس معاملے کا یہ پہلو اور بھی المناک ہے کہ کشمیر کی جدو جہدِ آزادی میں ایک لاکھ سے زائد معصوم کشمیری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ بیتے سوا سال میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں سے سفاک بھارتی فوجیوں نے بینائی چھین لی ۔
اگرچہ گزرے برسوں میں ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کو آزادی ملی ۔ علاوہ ازیں دیوارِ برلن ختم ہوئی ۔ یورپ اور ایشیاء میں کئی نئے ملک وجود میں آئے مگر نہتے کشمیریوں کی متلاشی نگاہیں ہنوذ تنازعہ کشمیر کے حل کی راہیں تک رہی ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے معصوم کشمیریوں کے خلاف درندگی اور سفاکی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اس کا تصور بھی کوئی مہذب معاشرہ نہیں کر سکتا مگر آفرین ہے یورپ اور امریکہ کے ان حلقوں پر جو خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتے نہیں تھکتے ۔