تقدیرِ اُمم کیا ہے‘ کوئی کہہ نہیں سکتامومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارااخلاصِ عمل مانگ ...

پندرہویں صدی میں جب سے یورپ میں ترقی کا آغاز ہوا یورپ میں علم کا چرچا مسلمانوں کی ہی یونیورسٹیوں ...

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارامحروم رہا دولتِ دریا سے وہ ...

دعا کی بدولت ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ اپنے آپ کو یکدم بحربیکراں میں پاتا ہے دوسرے لفظوں میں ...

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میںپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ داراحاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر ...

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارااس دشت سے بہتر ہے نہ دِلی نہ بخاراجس سمت میں چاہے صفتِ سَیلِ ...

انسان کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ دنیا کیلئے اس کا وجود زینت کا باعث ہو اور جیسا کہ ایک یونانی شاعر ...

اسلام نفس انسانی اور اس کی مرکزی قوتوں کو فنا نہیں کرتا بلکہ ان کے عمل کیلئے حدود متعین کرتا ہے۔ ...