عائشہ باوانی کالج مئی 2019ء تک ٹرسٹ کے سپرد کیا جائے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)عدالت عظمیٰ نے حکومت سندھ اور عائشہ باوانی ٹرسٹ کے تنازع کیس میں سندھ کے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ مئی 2019 تک عائشہ بوانی کالج ٹرسٹ کے سپرد کردیاجائے، عدالت نے انتظامیہ کو گورنمنٹ عائشہ باوانی کالج میں مزیدنئے داخلے کرنے سے روک دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ عائشہ باوانی ٹرسٹ نئے نام سے رجسٹرڈ کرایا جا سکتا ہے جبکہ دو سال کے بعد کالج سے ٹرسٹ کا نام ہٹادیا جائے، عدالتی احکامات پر سندھ حکومت کی جانب سے عائشہ باوانی ٹرسٹ کو 85 لاکھ کا چیک بھی دے دیا گیا ۔جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،، اس دوران جسٹس عظمت سعیدنے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہونگے،فیصلے کی خلاف ورزی پر عدالت توہین عدالت کی کاروائی ہو سکتی ہے، اس عدالت میں توہین عدالت میں بندہ جیل میں پہلے جاتا ہے سماعت بعد میں ہوتی ہے۔

باوانی کالج