ا یشیائی خطے کو غیرمستحکم بنانے کی سازشیں کی جارہی ہیں: چیئرمین سینٹ

31 جنوری 2018

اسلام آباد(آئی این پی) چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ موجودہ صدی میںایشیائی خطہ نسلی ،لسانی اور قومی بنیادوں پر تقسیم اور غیر مستحکم بنانے کی سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے،خطے کے اہم ممالک متصادم اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سرد جنگ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے، خطے کے ممالک اپنے مستقبل سے نظریں ہٹا چکے ہیں اور پورا خطہ نسلی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ، مغرب ہم سے مطالبات کرتا ہے لیکن ہمارے مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیتا،پاکستان ایشیائی خطے کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کیلئے باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کے ذریعے علاقائی خود انحصاری کے فلسفے پر عملدرآمد کیلئے سرگرم ہے۔وہ منگل کو اسلام آباد میںمقامی ہوٹل میں تیسری ای سی او اٹارنیز/ پراسیکیوٹرز جنرل کانفرنس2018سے خطاب کررہے تھے، کانفرنس کا انعقاد اٹارنی جنرل آفس نے کیا تھا۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اس صدی کے دوران ایشیائی خطے کو نسلی ،لسانی اور قومی بنیادوں پر تقسیم کرنے اور غیر مستحکم بنانے کی سازشوں کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خطے کے اہم ممالک خطے میں متصادم اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سرد جنگ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ایشیائی خطے کے ممالک اپنے مستقبل سے نظریں ہٹا چکے ہیں اور پورا خطہ نسلی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے جس سے ان کو تو کوئی فائدہ نہیں لیکن سرد جنگ میں شامل بڑے بڑے ممالک کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔خطہ مجموعی طور پر عدم استحکام کی شدید لہروں سے گزرا ہے اور پاکستان اس پورے عمل میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ایشیا کے کسی ایک ملک کا عدم استحکام صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ اس سے پورے خطے کی تقدیر جڑی ہوئی ہے ۔اور یہ پورے خطے کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کئی بین الاقوامی کنونشنز ،جن کا تعلق انسانی سمگلنگ اور اغوا کے واقعات سے ہے ،کا فریق ہے اور ان کی توثیق کی ہے ۔اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی امداد روکنے کے سلسلے میں بڑے موثر اقدامات کئے ہیں،تاہم یہ کنونشن اور معاہدے قوانین یا کسی ریاست کی سلامتی کی خلاف ورزی کیلئے بنیاد نہیں بننے چاہئیں۔دوبل بعنوان ''ٹریفکنگ ان پر سنزبل اور سمگلنگ آف مائیگرینٹس بل ''سینیٹ میں دوسری ریڈنگ کے مرحلے میں ہیں۔ ان بلوں کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ دار یوں کو پورا کرنے کیلئے اندرونی طورپر قوانین بدلنا ہے ۔