ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان واپس لے لیا کہتے ہیں کچھ لوگوں نے مائنس الطاف کا فارمولا پیش کیا

30 جنوری 2015 (14:24)

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے قیادت سے علیحدگی کی اطلاع پر کارکنوں اور رہنماؤں کی کثیر تعداد نائن زیرو پر جمع ہو گئی اور الطاف حسین سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔جس پر الطاف حسین نے اپنا فیصلہ واپس لیا ۔اس سے پہلے  کارکنوں سے خطاب   کرتے ہوئے انہوں نے کہا مہاجروں نے تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔تیس لاکھ جانوں کی قربانی دی،مشرقی پاکستان میں فوج کا ساتھ دینے پر کیمپوں میں رہے۔اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتے ہیں کہ اسے مہاجروں سے کیا تکلیف ہے۔انہوں نے کارکنوں سے کہا آپ نے مائنس الطاف فارمولہ تو سنا ہو گا ۔ آج وہ حیدر آباد  یونیورسٹی کے افتتاح کے موقعے پر آخری خطاب کر کے  ایم کیو ایم سے الگ ہو جائیں گے تاکہ  فوج اور آئی ایس آئی خوش ہو جائے۔اور متحدہ کو الطاف حسین کے بغیر خوشی سے  قبول ہے۔۔۔جس پر کارکنوں نے دیوانہ وار الطافالطاف کے نعرے لگائالطاف حسین نے کہا  الزام ہے کہ ایم کیو ایم پٹھانوں کو مارتی ہے ۔انیس سو تراسی میں سندھ میں دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا گیا جو آج تک جاری ہے  ۔ مہاجروں نے کبھی سندھی آبادی پر حملہ نہیں کیا لیکن اسی اور نوئے کی دہائی میں مختلف شہروں میں مہاجروں کو تشدد کرکے ان سے علاقہ خالی کرایا گیا انہوں نے کہا انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی ، نوے مین نواز شریف سے اتحاد کیا لیکن دونوں نے اپنے وعدے پورے نہ کیے ۔ نواز شریف کے پہلے دور میں پیسوں کا بریف کیس بھیجا گیا جسے واپس کر دیا  اور ان کو بتایا کہ الطاف حسین اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتا ۔آصف زرداری پر برا وقت آیا پیپلزپارٹی کی قیادت بلوں میں گھس گئی ۔لیکن اس برے وقت میں الطاف حسین نے زرداری کا ساتھ دیا ۔ ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کراچی میں طالبانائزیشن کی بات کی تو سب نے مخالفت کی ۔آج صورتحال سب کے سامنے ہے ۔انہوں نے کہا  ایم کیو ایم کو روز اول سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ کارکنوں کو ہمیشہ حب الوطنی کا درس دیا لیکن اگر اسی طرح لاشیں گرتی رہیں تو کارکنوں کا دماغ بھی گھوم سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ خرید لیں ۔الطاف حسین نے کہا کہ ان کی جدوجہد وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف ہے۔چور،لیٹروں کی جائیدادیں ضبط کرکےغریبوں میں تقسیم کی جائیں۔جاگیردارانہ نظام اورکرپشن کاخاتمہ کیا جائے۔انہوں نے کہا وہ ٹارگٹ کلنگ اورتشددکےخلاف  ہیں ۔اقلیتوں کواکٹھاکرنےکی بات کرتے ہیں ۔معاشرےمیں سب کوبرابرکےحقوق ملنےچاہئیں۔انہوں نے کہا چودھری سرور نے حق اور سچ کی خاطر گورنر کے عہدے سے استعفی دیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں