لاپتہ حامد نہال کہاں ہے، حراستی مراکز میں موجودگی بارے معلوم کیا جائے: پشاور ہائیکورٹ

30 جنوری 2015
لاپتہ حامد نہال کہاں ہے، حراستی مراکز میں موجودگی بارے معلوم کیا جائے: پشاور ہائیکورٹ

پشاور(بیورو رپورٹ) مسلمان بھارتی شہری حامد نہال انصاری لاپتہ کیس میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار نے ملٹری  انٹیلی جنس ایجنسی اور محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس چیف جسٹس کے بنچ کو منتقل کر دیا۔ گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کی عدالت میں مسلمان بھارتی  شہری کے پاکستان میں لاپتہ ہونے کے حوالے سے ان کی والدہ فوزیہ انصاری کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل بنچ کو بتایا گیا کہ  محکمہ داخلہ اور ایم آئی کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش نہیں ہوئی جس پر فاضل عدالت نے ایم آئی کو نوٹس جاری کیا کہ وہ معلوم کریں کہ لاپتہ حامد نہال انصاری کہاں ہے جبکہ ہوم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کو صوبے کے تمام حراستی مراکز میں حامد نہال انصاری کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوعی کر دی۔ مزید برآں پشاور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مردان کا تبادلہ پشاور اور پشاور میں اسکی پوسٹ پر سابق صوبائی وزیر صحت کی ہمشیرہ کو تعینات کر کے اسے ہری پور بھیجنے اور 6ماہ سے تنخواہ ادا نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر عدالتی حکم عدولی پر سیکرٹری صحت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ دریں اثنا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس دائود خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دل آویز ساکن بڈھ بیر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گذار کی بیٹی دل آویز جوکہ نویں جماعت کی طالبہ تھی اسے ملزم سہیل نے دوستی سے انکار پر 29مارچ 2011کو قتل کیا اور 6نومبر کو ملزم کی گرفتاری کے ریڈوارنٹ بھی جاری ہوئے۔ تاہم ملزم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم بیرون ملک سعودی عرب فرار ہو چکا ہے جس پر عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو انٹر پول پولیس کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس دائود خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے 26کیس ایڈیشنل رجسٹرار کو ریفر کر دیئے جبکہ رحمت شاہ کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بلال جوکہ فرنٹیئر کور کا اہلکار ہے اسے 2012ء میں 19دیگر ساتھیوں سمیت شدت پسندوں نے اغوا کیا جس کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا اس لیے اس کی بازیابی کیلئے حکومت کو احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے تین سال قبل اغوا ہونے والے اہلکار کی تنخواہیں و مراعات اور الائونسز کی ادائیگی زیرغور لانے کے لیے آئی جی ایف سی کو  ہدایت کی جبکہ اٹارنی جنرل سے اس حوالے سے تفصیلات عدالت کو پیش کرنے کی بھی ہدایت کی اس طرح ایک نیا لاپتہ ڈرائیور کا کیس بھی دائر کر دیا گیا۔