سحر‘ افطار میں بھی لوڈشیڈنگ : کراچی سمیت اندرون سندھ بڑا بریک ڈاﺅن....

29 مئی 2017

لاہور+ کراچی+ پشاور (نامہ نگاروں سے+ سٹاف رپورٹر+ خبرنگار خصوصی) حکومتی اعلانات دھرے کے دھرے رہ گئے اور سحر و افطار میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری رہی۔ مساجد اور گھروں میں وضو کیلئے پانی تک ختم ہو گیا۔ ساہیوال میں گرمی سے اتوار کے روز پھر 2 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ رات کو اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں آندھی‘ بارش‘ ژالہ باری سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ رات شہر قائد سمیت سندھ کے مختلف شہروںمیں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈدنگ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانس سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ الیکٹرک‘ حسکو اور سیسکو نے رمضان میں لوڈشیڈنگ میں کمی اور سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی‘ لیکن اس کے باوجود گزشتہ رات کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کرکے عوام کو پریشان کیا گیا۔ انہوں نے کہا وفاقی حکومت کا سندھ کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں۔ وفاق کی صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ رات بجلی کے بڑے بریک ڈاﺅن کے باعث شہر قائد سمیت زیریں سندھ تاریکی میں ڈوب گیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بجلی کے طویل بریک ڈاﺅن کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میںبجلی کی فراہمی شروع ہو گئی۔ کراچی میں بجلی کی بندش کے بعد شہر بھر کے پمپنگ سٹیشن بند ہو گئے جس سے پانی کا بحران بھی پیدا ہوا۔ گزشتہ رات بجلی کے بریک ڈاﺅن کے باعث کراچی کے متعدد علاقوں میں بجلی غائب ہونے کے باعث شہریوں نے اندھیرے میں روزہ رکھا۔ بہت سے تو سحری سے ہی محروم رہ گئے۔ حیدرآباد‘ میرپورخاص‘ جامشورو سمیت دیگر اضلاع میں بھی سحری کے وقت بجلی کا بڑا بریک ڈاﺅن ہوا۔ حیسکو ریجن کے 13 اضلاع کے 76 گرڈ سٹیشن بند ہو گئے۔ شہریوں نے موم بتیوں کی روشنی میں سحری کی۔ ذرائع این ٹی ڈی سی کے مطابق جامشورو کے 3 پاور ہاﺅس رات 3 بجے سے پہلے بند ہوئے تھے۔ ٹنڈوالہ یار‘ مٹیاری اور دیگر اضلاع میں بھی شہریوں نے موم بتی کی روشینی میں سحری کی‘ تاہم اب ان کا دعویٰ ہے کہ 76 گرڈ سٹیشن میں سے 22 گرڈ سٹیشنوں پر بجلی بحال کر دی گئی۔ ادھر نوائے رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے پہلے 15 دنوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا‘ تاہم آخری 15 روز قبل از مون سون بارشوں کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو جائیگا۔ ملک بھر خاص طورپر میدانی علاقے گرمی کی شدید لپیٹ میں ہیں۔ بلوچستان کے شہر تربت میں درجہ حرارت 52 ڈگری کو چھو گیا۔ دادو میں اڑتالیس‘ رحیم یار خان اور بھکر میں درجہ حرارس 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ لاڑکانہ میں درجہ حرارت 45 اور ملتان میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے وقائع نگار خصوصی کے مطابق ترجمان وزارت پانی و بجلی نے کہا ہے ملک کے زیادہ تر حصوں میں سحر کے دوران بجلی کی فراہمی بلا تعطل رہی۔ سحر کے وقت 97 فیصد شہری اور 85 فیصد دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بلاتعطل جاری رہی۔ حیسکو کے ٹرپنگ والے علاقے میں 2 گھنٹے کے اندر بجلی بحال کر دی گئی۔ ملک میں بجلی کی پیداوار 17400 میگاواٹ رہی۔ ہفتہ شام 6:30 سے صبح 4 بجے تک ملک میں زیرو لوڈشیڈنگ رہی۔ ساہیوال سے نامہ نگار کے مطابق نور شاہ کے عبدالرحمن 42 سالہ اور ملکہ ہانس کے اشفاق علی شاہ کو شدید گرمی کے سبب بے ہوش کی حالت میں سول ہسپتال لایا گیا جہاں دونوں دم توڑ گئے۔ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کے افتتاح کے بعد بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ تراویح‘ سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی نہ بند کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔بجلی کی اس غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر اہالیان ساہیوال نے شدید احتجاج کیا۔ فیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق رمضان المبارک میں پہلی تراویح کی ادائیگی کے دوران بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں مں غیراعلانیہ بجلی بند ہونے سے نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق ماہ رمضان کے پہلے روز ہ میپکو کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری رہی۔ چک امرو میں لوڈشیڈنگ دورانیہ اٹھارہ گھنٹوں سے تجاوز کر گیا اور رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے دعوے غلط نکلے۔ قصبہ نو کوٹ سمیت شکر گڑھ اور درجنوں دیہات قصبات میں 18 گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا۔ تاندلیانوالہ اور گردونواح میں بار بار بجلی کی گھنٹوں بندش نے روزہ داروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ گگومنڈی اور گردونواح میں رات 8 بجے سے 9 بجے تک اور صبح سحری کے وقت اڑھائی بجے سے 4 بجے تک بجلی بند رہی۔ لالیاں سلانوالی اور گردونواح میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نماز تراویح کے وقت بھی جاری رہا۔ پیر محل میں بدترین بجلی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس سے روزہ داروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بصیرپور میں سحر و افطار اور تراویح کے اوقات میں بھی بجلی بند رکھی۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ محلہ بالیلا سٹیم روڈ‘ چونگی نمبر 5 اور اس سے ملحقہ علاقوں میں صبح سحری کے فوری بعد ہی بجلی بند کردی گئی جو دن 11 بجے تک بند رہی جبکہ دیگر علاقوں میں بھی ہر گھنٹے کے بعد ای گھنٹہ بجلی بند ہونا عمول بن چکا ہے۔ ملکہ ہانس میں نماز تراویح کے دوران روایتی طورپر بجلی کی لوڈشیڈنگ وقفہ وقفہ سے جاری رہی۔ چیچہ وطنی میں بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق حکومتی دعوﺅں کے باوجود سحر و افطار اور رمضان المبارک کے دیگر اوقات میں بجلی کی بدترین اور غیراعلانیہ لوشیڈنگ ختم نہ ہو سکی۔ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر عوام کی چیخیں نکل گئیں اور سنی تحریک کے زیراہتمام لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگ یا۔ قصور سے نامہ نگر کے مطابق اظہر کالونی‘ نفیس کالونی بستی لال شاہ‘ بھٹہ حاجی سوہن دین‘ جماعت پورہ ودیگر ملحقہ علاقو میں سحری کے وقت گھنٹوں بجلی بند رہی۔ مزیدبراں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دذوران مالا کنڈ میں توڑپھوڑ کے معاملہ میں ایم این اے جنید خان اور مشیر وزیراعلیٰ سمیت 7 کارکن ضمانت پر رہا ہو گئے۔ ملزموں پر احتجاج کے دوران دفتر میں توڑپھوڑ کا الزام ہے۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق رمضان المبارک میں بھی لوڈشیڈنگ زیادہ ہوئی۔ وہاڑی میں سحر‘ افطار اور توراویح کے اوقات میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری رہی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے روزے داروں برا حال کردیا جس سے درجنوں روزہ دار بے ہوش ہو گئے۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی اور سندھ بھر میں بجلی کے بریک ڈاﺅن پر وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کو خط لکھ دیا وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے خط میں کہا ہے کہ بریک ڈاﺅن سے عوام کو رمضان المبارک کے دوران تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ آدھا کراچی اندھیرے میں ڈوب گیا، کراچی کا بڑا حصہ اب بھی متاثر ہے طویل بریک ڈاﺅن سے صوبائی حکومت کو نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ امن و امان کی صورتحال کو نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے متعلقہ اداروں کو متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کی ہدایت کریں ترجمان وزیر اعلیٰ کے مطابق خط میں 24مئی کو بھیجی گئی ای میل کا حوالہ دیا گیا ہے، ای میل میں ٹرانسٹمشن نیٹ ورک نا قابل بھروسہ ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ آئی این پی کے مطابق مالا کنڈ میں واپڈا آفس پر حملے کی قیادت کرنے پر گرفتار ہونیوالے مشیر وزیر اعلیٰ اور ایم این اے جنید اکبر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔کامونکے میں نامہ نگار کے مطابق سحر و افطار کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کرنیکا اعلان بھی محض اعلان تک ہی محدود رہا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے دو سے تین روز کے دوران ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہیگا۔ تاہم مالا کنڈ ہزارہ، راولپنڈی، گوجرانوالہ ڈویژن اور کشمیر میں بعض مقامات پر گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔بجلی کے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف جیکب آباد میں شہریوں نے میپکو آفس کے سامنے ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔پشاور میں واپڈا حکام اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہو گئے، واپڈا حکام اور مظاہرین کے درمیان8گھنٹے لوڈ شیڈنگ پر اتفاق ہو ا ہے مظاہرین نے گرڈ سٹیشن کا گھراﺅ ختم کر دیا، مظاہرین نے کہا ہے کہ 8گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہوئی تو دوبارہ گرڈ سٹیشن کا گھیراﺅ کریں گے۔گکھڑ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق قصبہ گکھڑ اور گرد و نواح میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے حکومتی دعوﺅں کی قلعی کھول دی، روزہ دار گرمی اور بجلی لوڈ شیڈنگ سے تڑپ اٹھے۔
لاہور (نیوز رپورٹر) ماہ رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ خصوصاً سحری سے قبل بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری رہی، صارفین کو اس صورت حال میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ لیسکو نے لاہور کے تمام حلقے میں بجلی کی کم سے کم لوڈشیڈنگ شیڈول کو یقینی بنانے کیلئے ٹاسک فورس بھی تشکیل دی مگر لاہور میں فورس لوڈشیڈنگ کی جاتی رہی۔ لاہور کے شہری اس صورتحال پر شدید پریشان ہیں۔ اتوار والے روز بجلی کی آنکھ مچولی نے روزہ داروں کو پریشان کئے رکھا۔