کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے

26 مئی 2016
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ’’پاکستان کے حکمران میں عمر فاروق ؓ کی جھلک دکھائی دے ‘‘۔ رول ماڈل بننا مشکل نہیں ۔ حکمرانی سے بڑا اعزاز اور طاقت کیا ہے ۔ پاکستان کا حکمران ایک عام انسان جیسی زندگی بسر کرے، سادہ لباد پہنتاہو،سادہ گھر میں رہتاہو، طمع اور لالچ سے بے نیاز ہو جائے، عوام کے سامنے اس کی زندگی کا ہر باب کھلا ہو،سچا کھرا پاکستانی ہو، درویش صفت ہو، مذہب سے پیار کرنے والا ہو، پاکستان کو دل و جان سے چاہنے والا ہو، صاف شفاف کردار کا مالک ہو، دشمنان پاکستان اور دشمنان اسلام کے سامنے ڈٹ جانے والا ہو۔ اس کا ماضی بھلے جیسا بھی ہو لیکن پاکستان کا حکمران بننے کے بعد اس کا جینا اور مرنا فقط اس ملک کے لیئے وقف ہو جائے۔ ماضی میں مال بھلے جیسے بھی بنایا ہو ،اس غریب ملک کا حکمران بننے کے بعد اس کا مال غریبوں پر خرچ ہو ۔پاکستان کا حکمران اپنا حال اورمستقبل، اپنامال اور جائیداد،اپنی زندگی اور موت سب پاکستان پر قربان کر نے کا جنون رکھتا ہو۔عیش و عشرت کا لائف سٹائل ترک کرکے سادہ طرز زندگی اپنا نے کا حوصلہ رکھتا ہو۔محلات سے نکل کر عام شہری کی زندگی گزارنے کی ہمت رکھتا ہو۔ اس کے دروازے ہر خاص و عام کے لیئے کھلے ہوں۔ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ پاکستان کا حکمران اگر محمد علی جناح کی طرح خوش لباس اور معیاری لائف سٹائل برقرار رکھنا چاہے تو اس کا کردار محمد علی جناح جیسا ہو۔قیمتی سوٹ ،گھڑیاں اور ٹائیاں بوٹ پہن لینے سے محمد علی جناح نہیں بن جاتے ۔ محمد علی جناح کے اندر عمر فاروق ؓ کے اصول پوشیدہ تھے ۔ حصول پاکستان کسی مولولی یا روایتی سیاستدان کے بس کی بات نہیں تھی ۔ اس کے لیئے پروردگار نے ایک خاص انسان پیدا کیا جو بظاہر انگریزی طرز زندگی اپنائے ہوئے تھا لیکن اس کا باطن عمر فاروق ؓ تھا۔
فارس کے بادشاہ قیصر کا ایک ایلچی امیر المومنین ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ۔ لوگوں سے پوچھا خلیفہ کا محل کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا اس کا کوئی محل نہیں ہے ۔ اس کا محل تو اس کی روشن جان ہے۔اگرچہ وہ سردار ہے ،حاکم وقت ہے لیکن جھونپڑی میں رہتا ہے ۔ لوگوں سے ایسی باتیں سن کر ایلچی اور زیادہ مشتاق ہو گیاکہ دنیا میں ایسا آدمی بھی ہو گا جو جسم میں جان کی طرح دنیا سے پوشیدہ ہے۔کسی نے اسے بتایا کہ حضرت عمر ؓ فلاں کجھور کے درخت کے سائے میں سو رہے ہیں۔ایلچی اس درخت کے پاس گیا۔حضرت عمرؓ کو ریتلی زمین پر ایک پتھر کو تکیہ بنائے پر سکون سوئے ہوئے دیکھ کر اس جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ دل میں سوچنے لگا کہ اس نے دنیا میں بڑے بڑے بادشاہوں حکمرانوں کے دربار دیکھے ہیں لیکن اس شخص کی ہیبت نے اس کے حواس گم کر دیئے ہیں۔ وہ بڑے بڑے شکاری جانوروں سے لڑا ،شیر کی طرح جنگوں میں کود پڑا لیکن اس کا دل قوی رہا لیکن عرب کے حاکم وقت کو بغیر ہتھیار کے زمین پر بے فکر سویا دیکھ کر آج اس کا بدن لرز رہاہے۔۔۔کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد کے حکمران میں عمر فاروق ؓ کی ہلکی سی جھلک دکھائی دے جائے ۔کبھی کسی حکمران نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ قومی خزانہ اس ملک کے عوام کی امانت ہے۔
عیش و عشرت کے ایوانوں میں میرے دم سے رونق ہے
سب میں میرا خون پسینہ ، جتنے دیئے بھی جلتے ہیں
گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد امریکہ نے جس طرح پاکستان کو اپنا غلام بنایا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔امریکی سپر پاور کی دہشت نے ایک شخص کو لرزا کر رکھ دیا اور اس کا نام تھا آرمی چیف صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف ۔یہ وہی نام ہے جس کے خلاف نہ اپوزیشن نے آواز بلند کرنے کی جسارت نہیں کی۔حکمران بننے کے بعد بد عنوانی اور بزدلی کا ریکارڈ قائم کرنے والے فوجی آمر کو دوسری بار بھی رخصت کر دیا گیا لیکن اپوزیشن کو سانپ سونگ گیا۔ یہ ہے وہ حکمران جس نے پاکستان کی زمین پر ’’ڈرون حملوں‘‘ کی تحریری اجازت دی ۔گو کہ چند برسوں سے ڈرون حملوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے لیکن امریکنوں کے پاس پاک فوج کا اجازت نامہ موجود ہے ،جب اور جہاں چاہیں ڈرونز پھینکنے کے مجاز ہیں۔حالیہ ڈرون حملے پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی کی پریس کانفرنس میں کہی گئی باتیں پاکستان کے دل کی آواز ہے۔ لیکن انہوں نے یہ جو کہا کہ’’ امریکہ سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں‘‘ تو اس جملے پر میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ہمارے سیاستدان ایسے بیان کیوں دیتے ہیں جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ۔کون سے تعلقات ؟ جو کبھی بنے ہی نہیں تھے؟آقا اور غلام میں بھی تعلقات ہوتے ہیں ؟ڈو مور ۔۔۔ یس سر ۔۔۔! بس یہی تعلق ہوتا ہے ۔حالیہ ڈرون حملے نے میڈیا کی توجہ پاناما لیکس سے ہٹا رکھی ہے۔ نئی سٹوری مل گئی ہے۔ پاناما لیکس وزارت اعظمیٰ پر ڈرون حملے ہیں۔ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کی شدید مخالف پارٹی تحریک انصاف غلام ابن غلام پرویز مشرف کودو بار بیرون ملک جاتا دیکھتی رہی اور ایک احتجاج بھی نہ کیا ؟ ڈرون حملوں کی مخالفت ہی تو تھی جس نے عمران خان کی پارٹی کو’’ تحریک انصاف ‘‘ بنایا ۔ نواز شریف اور پرویز مشرف کی مخالفت میں تحریک کا کھلا تضاددیکھ کر عوام حیران ہیں ۔کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ کاش اس مملکت خداداد کو کبھی ایسا حکمران نصیب ہو سکے جس کا جذبہ حب الوطنی مال اور اولاد کی محبت پر غالب ہو ۔ جو غریبوں کا خادم ہو اور مظلوموں کا ساتھی ہو۔