مذاکرات‘ سیز فائر اور دھماکے …… یہ سب کیا ہے؟

25 مارچ 2014

نوائے وقت نے حکومت طالبان مذاکرات کی نوعیت‘ رفتار اور نئی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے  ممتاز سیاست دانوں راجہ ظفرالحق، اسد عمر، سعید غنی ،زاہد خان اور نسرین جلیل سے گفتگو کی ہے  جو نذر قارئین ہے
٭  سینیٹرراجہ ظفر الحق‘ چیئرمین پاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘
حکومت نے حبیب اﷲ خٹک کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تحلیل شدہ کمیٹی کے سربراہ ایک  سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے بہت سے مراحل طے کر دیئے ہیں اب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں جانے والے ہیں۔ جس کے لئے نئی کمیٹی زیادہ اختیار کے ساتھ موجود ہے۔ 
انشاء اﷲ طالبان سے مذاکرات میں قوم کی توقعات پوری ہوں گی۔
میاں نواز شریف کی وطن دوستی اور عوام دوستی سے سب آگاہ ہیں۔
٭ اسد عمر ممبر قومی اسمبلی (پاکستان تحریک انصاف)
قوم نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی ملاقات کو بہت سراہا۔ جس قسم کے حالات سے ہم دوچار ہیں ایسے میں یہ ملاقات ٹھنڈی ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں حکومت اور حزب اختلاف میں قومی ایشوز پر اتفاق رائے کے لئے ایسی مثبت سرگرمیاں جاری رہیں گی، جہاں حکومت طالبان مذاکرات کا تعلق ہے کہ ابھی تک حکومت کو کمیٹیوں کی تشکیل سے ہی فراغت نہیں ہو پا رہی۔ کبھی کہتے ہیں کہ سیاسی کمیٹی بنے گی، کبھی فوجی نمائندگی کی بات سامنے آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بیوروکریٹ سامنے لائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ہر شے میں غیر ضروری تاخیر کیوں کی جاتی ہے۔ اب حکومت نے بیوروکریٹ پر مشتمل نئی کمیٹی بنا دی ہے ان سے پوچھے کہ یہ مشق دو ماہ پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ میرے خیال میں کل اور آج کے میاں صاحب میں بہت فرق آ گیا ہے۔ 1990 ء میں میاں صاحب فوری فیصلے کرتے تھے اور سوچتے بعد میں تھے۔ 2014 ء میں میاں صاحب صرف سوچتے ہیں، فیصلے نہیں کر پاتے۔ آپ دیکھیں  28 ادارے بغیر سربراہوں کے چلائے جا رہے ہیں۔ کیا گڈ گورننس اسے کہتے ہیں؟ قوم حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے ماحول پر مخمصہ کا شکار ہے یہ کیسے مذاکرات ہیں‘ سیز فائر کا اعلان بھی سنایا گیا۔ اور اسلام آباد‘ کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے بھی ہو رہے ہیں۔ کیا دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں!!! قوم چاہتی ہے کہ یہاں امن ہو‘ امن کے حالات ہوں تاکہ ذہنی طور پر ہم ہر دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے باہر نکل سکیں!!!
٭ سینیٹر سعید غنی (پاکستان پیپلز پارٹی)
ابھی یہاں فوجی کردار پر بحث ہوئی ہے, کس حکومتی کمیٹی میں فوجی نمائندگی کی تجویز سامنے آئی۔ یاد رکھیں فوج حکومت کے ہر فیصلہ کی پابند ہے۔ ہم فوج کے کردار پر بات تو نہیں کر سکتے۔ البتہ حکومت کی حکمت عملی پر اعتراض ہے اور ہماری تنقید درست بھی ہے کہ قوم دو ماہ سے منتظر ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں تاکہ قیام امن کی کوششوں کو راستہ ملے۔ حکومت کی طرف سے دو ماہ کے  دوران کمیٹی بنانے اور پھر نئی کمیٹی تشکیل دینے کی غیر ضروری مشق کاکیا فائدہ ہوا؟ حکومت خود بھی کنفیوژن کا شکار ہے اور قوم کو بھی ہیجان کی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔
س: سیز فائر کا اعلان بھی ہوا تھا!!!
ج: اسلام آباد میں خودکش دھماکہ ہوا‘ 14 مارچ کو کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کی وارتیں ہوئیں۔ پولیو ٹیموں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ طالبان نے اگر سیز فائر کر دیا ہے تو یہ کون ہیں جو ماحول کو دہشت زدہ کر رہے ہیں۔ حکومت کا فرض تھا کہ وہ حکمت عملی کو کسی ترتیب و تہذیب سے منسلک کرتی‘ پلان اے‘ بی اور سی ہوتا تاکہ پتہ چلتا ایک آپشن میں متوقع نتائج نہ ملنے پر دوسرا کون سا راستہ اختیار کیا جاتا۔ بدقسمتی سے ایسا ابتک نہ ہو سکا! مذاکرات ہونے چاہئیں حکومت کے ساتھ پارلیمنٹ اور حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کھڑی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب مذاکرات ہوں؟
٭ سینیٹر زاہد خان (عوامی نیشنل پارٹی)
مذاکرات کے حوالہ سے حکومت بذات خود تذبذب کا شکار ہے۔ قیام امن کے لئے کوششیں ہو رہی ہیں۔ ساتھ ساتھ اسلام آباد کچہری‘ پشاور اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی وارداتوں میں معصوم شہریوں کی زندگی  سے کھیلا بھی جا رہا ہے۔ قوم حیران ہے کہ حکومت کس ماحول میں کس سے اور کن شرائط پر بات چیت کرنا چاہتی ہے۔
س: حکومتی تذبذب کیوں؟
ج: کبھی ایک کمیٹی اب دوسری کمیٹی‘ کبھی چودھری نثار کمیٹی میں فوج کی نمائندگی کی بات کرتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پرویز خٹک طالبان کو دفتر دیگر امور کے لئے سہولت کار بننے کی پیشکش کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم طالبان سے خیر مانگ رہے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی صورتحال خود کو سرنڈر  کرنے کے مترادف ہے‘ مذاکرات ریاست‘ آئین اور قوم کی شرط پر ہونے چاہئیں۔ طالبان کی شرط سے بات چیت کا مطلب  ان کی بالادستی اور ان کی شریعت نافذ کرنا ہے۔ یاد رکھیں امن اور دہشت گردی دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔
٭ سینیٹر نسرین جلیل (ایم کیو ایم)
طالبان کی طرف سے سیز فائر ہونے کا اعلان کافی نہیں۔ حالات پرامن بھی رہنے چاہئیں۔ اسلام آباد کچہری اور پھر پشاور وکوئٹہ میں خون کی ہولی کھیلنے کا مقصد کیا ہے؟ قائد تحریک الطاف حسین ایک عرصے سے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس معاملہ کو سنجیدہ لیں ورنہ پانی سر سے اوپر ہو جائے گا۔ اس وقت قائد تحریک کی آواز پر توجہ دے دی جاتی اور ان کی باتوں بلکہ تحفظات پر غور کر لیا جاتا تو آج طالبان ایشو مسئلہ سے پہاڑ نہ بنتا۔ مذاکرات اور دیگر امور میں فوج کی نمائندگی کی بازگشت ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ قوم مذاکرات ان لوگوں سے چاہتی ہے جو آئین اور شریعت کی مانتے ہیں اور وہ اپنی مرضی کی شریعت کے حامی ہیں‘ ان سے کیسے مذاکرات …!!