' ڈیڈ لاک

24 نومبر 2017

ایک عرصے سے ہمارے ملکی حکومتی اور سیاسی نظام میں ایڈہاک ازم کے ساتھ ساتھ ڈیڈ لاک کی صورت بھی دکھائی دینے لگی ہے اور بقول منیر نیازی

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
اس سست روی کی وجہ سے جہاں ہم رستوں میں گم اور منزل سے دور دکھائی دیتے ہیں وہاں ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بھی بنتے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک کا صدر خاموش تماشائی ہے۔ وزیراعظم نااہلی کے بعد اہل قرار دینے پر بضد ہے۔ دوسرا وزیراعظم نااہل وزیراعظم کے مفادات کے تحفظ پر مامور ہے۔ ارکان اسمبلی نااہل کو اہل بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پی پی کی طرف سے اسمبلی میں پیش کئے جانے والے بل میں 98 کے مقابلے میں 163 اراکین نے حمایت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی رائے عامہ کے مقابلے میں ذاتی مفادات اور پیسے میں بڑی طاقت ہے۔ ایک مرحلے میں کورم پورا نہ ہونے کے بعد کسی چمک دمک اور دھمک کے نتیجے میں اراکین کی حاضری بنا دی گئی اور تاریخ کے ایک ایسے فیصلے کو ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے جسے عدالت نے پہلے ہی متنازعہ قرار دے رکھا ہے۔
ہمارے حکومتی معاملات اور حالات کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت خزانہ وزیر خزانہ کے بغیر چل رہی ہے۔ وزیر ریلوے پر کرپشن کا الزام ہے اور وزیر قانون کے استعفیٰ کے لئے کئی روز سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے اور صورت حال منیر نیازی کے اس شعر کو تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ والی درپیش ہے کہ
ایک اور دھرنے کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دھرنے کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت ان تمام باتوں کے باوجود زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ ایڈہاک ازم پر معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کو ملکی معاملات کی بجائے سابق وزیراعظم کے معاملات سے دلچسپی ہے حالانکہ وزارت عظمیٰ ایک عوامی عہدہ ہے اور انہیں عوامی معاملات سے دلچسپی ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کے دھرنے والے وزیر قانون کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں اور وزیر قانون ابھی تک قانونی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال بھی معاملات کو سلجھانے میں مصروف تو ہیں تاہم ڈیڈ لاک کی صورت حال کو جلد ختم ہونا چاہیے اور معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے کیونکہ
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
ایک طرف دھرنے والوں کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن اس سے ملک دشمن عناصر کو دہشت گردی کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ اسلامک فورم اور سنجیدہ سیاسی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے لہٰذا اس حوالے سے حکومت کو فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ معاملات جلداز جلد حل ہو سکیں اور مفاد پرست عناصر کو امن و امان خراب کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ حکومت اگر معاملات کو شروع ہی سے صحیح سمت میں لائے اور دھرنوں کی نوبت ہی نہ آنے دے تو ملکی ترقی کا پہیہ بھی چلتا رہے گا اور کسی قسم کی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی۔
جنوبی پنجاب میں اس وقت میگا پراجیکٹس کو مکمل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو یہ ایک اچھا حکومتی اقدام ہے اسے سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور یہ تمام منصوبے الیکشن سے قبل ہی مکمل ہو جانے چاہئیں۔ آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب تمام سیاسی جماعتوں کا مرکز ثابت ہو سکتا ہے کہ دسمبر میں بلاول بھٹو کے جلسے کے بعد مسلم لیگ ن بھی اپنے جلسے کے لئے پر تول رہی ہے جبکہ تحریک انصاف پہلے ہی اس خطے کو اپنی سیاست کا گڑھ قرار دے رہی ہے اور شاہ محمود قریشی‘ جہانگیر ترین اور عامر ڈوگر کے بعد مزید کئی اہم سیاسی شخصیات کو تحریک میں شامل کرنے کی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی پی پی کو پنجاب میں فعال کرنے کے لئے خاصے فعال نظر آ رہے ہیں۔ اب دیکھیں آنے والے الیکشن تمام سیاسی پارٹیوں کے لئے کیا نتائج لے کر آتے ہیں۔ مختلف شہروں میں اب موسموں کی دھند تو چھٹ گئی ہے۔ ایڈہاک ازم اور ڈیڈ لاک کی صورت حال بھی بدل جائے تو سیاسی اور حکومتی منظر نامے میں بھی کوئی واضح تبدیلی نظر آئے ورنہ تو کچھ سیاسی پنڈت سردست الیکشن کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ خدا کر ے کہ ملک صحیح سمت اور جمہوریت کی پٹڑی پر چلتا رہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سبھی اپنی اپنی اداؤں پر غور بھی کریں ورنہ تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی