مقبوضہ کشمیر فیکٹ فائنڈنگ مشن کو اجازت دینے کے لیے بھارت پر دباﺅ بڑھائیں کل جماعتی کشمیر کانفرنس کا اعلامیہ

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد (وقائع نگار خص©وصی)وزیراعظم کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہاہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہیں۔کشمیر کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں ۔6 جولائی سے مقبوضہ وادی میں شروع ہونے والی انتفادہ میں دن بدن شدت آرہی ہے ۔حالات کا تقاضہ ہے کہ متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔پاکستان کی بہادرمسلح افواج ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی ہیں۔ آزادکشمیر کے42 لاکھ عوام اور گلگت بلتستان کے 18 لاکھ عوام پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں۔ہندوستان کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے سروں سے گزرنا ہو گا۔وزیراعظم کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سابق وزرائے اعظم چوہدری عبد المجید ،سردار عتیق احمد خان ،قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین ،سینئر نائب صدر پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر خواجہ فاروق احمد،جسٹس عبد المجید ملک ،سابق صدر سردار انور،جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا سعید یوسف ،سینئر صحافی حامد میر ،حریت کانفرنس کے راہنماوں غلام محمد صفی ،میر طاہر مسعود سمیت سابق وزراء،اراکین اسمبلی ،دانشور حضرات کے علاوہ سول سوسائیٹی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض آل پارٹیز کشمیر رابطہ کونسل کے کنونیر عبد الرشید ترابی نے ادا کیے ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ 06 جولائی کو نوجوان حریت پسند برہان وانی کی شہادت سے آج تک 96 دنوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو ہے۔مقبوضہ کشمیر میں خوراک ،ادویات کی قلت ہے لیکن جذبہ آزادی ہر آنے والے دن تیز ہو رہا ہے۔ہندوستانی قابض افواج پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے جس سے سینکڑوں کشمیری بچے اور نوجوان قوت بینائی سے محروم ہو چکے۔ ہیںحکومت پاکستان نے اپنی بنیادی کشمیر پا لیسی کا احیاءکیا۔وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں خطاب، آزادکشمیر کی منتخب اور حریت قیادت سے مشاورت، پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنا، قرارداد کی منظوری، بیرون ملک اہم دارالحکومتوں میں وفود بھیجنا،آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنا ، یوم مذمت کی کال دینا، اس سال کے یوم آزادی پا کستان کو کشمیر کے نام کرنا اور بھارت کی دھمکیوںکابھرپور جواب دینا ،دونوں اطراف کے کشمیری سراہتے ہیں۔ہندوستان نے سرجیکل سٹرائےک کا ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے رچایا۔ میں نے سیز فائر لائن کے تمام علاقوں کا دورہ کیا لیکن کہیں سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ۔پاکستان کی بہادر افواج ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی ہیں آزادکشمیر کے42 لاکھ عوام اور گلگت بلتستان کے 18 الاکھ عوام پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں۔ہندوستان کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے سروں سے گزرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح تحریک آزادی کشمیر ہے۔آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنا یا جائے گا۔آل پارٹیز حریت کانفرنس سے بھی مشاورت کی ہے۔ تحریک آزادی کے معاملہ میں کوئی سیاست نہیں تمام جماعتیں کی طرف سے قابل عمل تجاویز ا خیر مقدم کیا جائے گا۔اس سال 24 اکتوبر یوم تاسیس اور 27 اکتوبر یوم سیاہ کو تمام مکاتب فکر کو شریک کرنا چاہتے ہیں ۔ 15 اکتوبر سے سارے آزادکشمیر میں بھرپور مہم چلا رہے ہیں ۔جس کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھرپور شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ تحریک آزادی کے حوالہ سے پروگرام حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں ہوتے۔ یہ تمام کشمیری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان میں بھرپورشرکت کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قربانیاں پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جائے۔ اس پلیٹ فارم سے اپیل ہو گی کہ جس طرح اپنے سیاسی جلسوں کے لیے سیاسی جماعتیں کال دیتی ہیں ایک ایک دن کشمیر کے لیے بھی کال دیں۔پاکستانی میڈیا جس طرح گذشتہ چند دنوں سے کشمیر کو کوریج دے رہا ہے جولائق تحسین ہے امید ہے کہ اس سلسلہ کو جاری رکھیںگے۔اس موقع پر تقریب کے میزبان عبدالرشید ترابی نے کہا کہ بھارت مظالم کی تمام حدین عبور کر چکا ہے لیکن کشمیری آزادی کے لیے پرعزم ہیں ،برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد نئے انداز سے کشمیر میں تحریک اٹھی ہے اور بھارت کو پریشان کر دیا ہے برہان وانی کی شہادت نے آزاد کشمیر پاکستان اور عالمی سطح پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں ،اس موقع پر سردار عتیق نے کہا کہ ہمیں اتحاد و اتفاق کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جنرل انور نے کہا کہ حکومت پاکستان بھرپور اندار سے مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرے،میان نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں بھرپور نمائندگی کی ہے،سابق وزیرعظم آزاد کشمیرچوھدری عبدالمجید نے کہاکہ وزیراعظم آزاد کشمیر مظفرآباد اسلام آباد میں عالمی سفارتکاروں کو بلا کر مسئلہ کشمیر سے آگاہ کریں ،پاکستان کا میڈیا اور عالمی میڈیا کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ،جسٹس مجید ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر حکومت پاکستان ذمہ دار افراد کو بھیجے،اس موقع پر مشتاق ایڈووکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بنایا جائے مولانا سعید یوسف نے کہا کہ کشمیرکو آزاد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا
مشترکہ اعلامیہ
اے پی سی
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے زیر اہتمام اور عبدالرشید ترابی کی میزبانی میںآل پارٹیزکانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،سابق وزراءاعظم چوہدری عبدالمجید،سردار عتیق احمد خان،جنرل (ر) انور،جسٹس مجید ملک،مولانا سعید یوسف،مشتا ق ایڈووکیٹ،غلام محمد صفی،چوہدری یاسین،خواجہ فاروق،سردار اعجاز افضل خان،محمود ساغر،یوسف نسیم ،میر طاہر مسعودسمیت آزاد کشمیر کی سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے،کانفرنس میں مشترکہ طور پر اعلامیہ جاری ہوا جس میں لکھا گیا ہے کہیہ اجلاس مقبوضہ جموںوکشمیر کے عوام کو ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا حوصلہ اور استقامت سے مقابلہ کرنے پر سلام پیش کرتا ہے۔یہ اجلاس ریاست جموںوکشمیر میں جاری تحریک کو کشمیری عوام کی اپنی تحریک اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹرکے مطابق تسلیم شدہ حق خودارادیت کی تحریک قرار دیتا ہے۔یہ اجلاس ہندوستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کے خلاف حقائق و قانون دعوے کی مذمت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی (سلامتی کونسل کی قرار داد وں جو ہندوستان و پاکستان نے مشترکہ طور پر رضامندی سے منظور کروائیں) ، تمام بین الااقوامی قوانین اورمعاہدوں کے مطابق کشمیر کسی طور بھی ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔7 لاکھ ہندوستانی قابض افواج (جن کو آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے تحت قانون سے مکمل استثناءحاصل ہے ) کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں 1989 ءسے آج تک ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور 8 جولائی 2016 ءسے 116 معصوم پرامن احتجاج کرنے والوں کو شہید اور 14 ہزار کو شدید زخمی کیا گیا جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں پرامن احتجاج کرنے والے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو مارنے، اندھا کرنے اور معذور کرنے کیلئے پیلٹ گن اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی پرزور مذمت کرتا ہے۔یہ اجلاس ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ کرنے جس سے تمام آبادی محصور ہو چکی ہے اور خوراک و ادویات کی قلت ہو چکی ہے ، کی پرزور مذمت کرتا ہے۔یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر اظہار خیال کی پابندی،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے قائدین، سیاسی کارکنوں ، نوجوانوں کی گرفتاریوں، انگریزی روزنامہ کشمیر ریڈر پر پابندی ، اخباری نمائندگان اور فوٹوگرافرز کو حراساں کرنے ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔ہندوستان کی طرف سے حالیہ سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کو علاقائی امن اور سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے اور ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے دہشت گردی ، اوڑی حملہ اور سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامہ رچا رہا ہے جس کی پرزور مذمت کی جاتی ہے۔یہ اجلاس وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںخطاب کوکشمیریوں کی بھرپور ترجمانی اور پاکستان کے بنیادی موقف کے مطابق قرار دیتا ہے جس میں انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت ، ان کی موجودہ جدوجہد اور کشمیر میں موجودہ صورتحال پر عالمی توجہ مبذول کروائی۔وزیراعظم پاکستان کی طرف سے دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں وفود بھیجنے اور متعلقہ اداروں کو کشمیر کی صورتحال پر خطوط تحریر کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان کی طرف سے تمام پارلیمانی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلاناخوش آئندہ ہے۔وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد کرنا ، مشترکہ قراردادپارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے منظورکرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے ، بالخصوص امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سینیٹر سراج الحق شکریے کے مستحق ہیں جنہوں نے برھان مظفر وانی کی شہادت کے فوری بعد جولائی 2016ءمیں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کروایا۔یہ اجلاس اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے اور متاثرین سے ملاقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔یہ اجلاس سیکرٹری جنرل OIC اور رابطہ گروپ برائے کشمیر کی طرف سے تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔یہ اجلاس ایمنٹسی انٹرنیشنل ، ایشیاءواچ ، بین الاقوامی میڈیا بشمول ”الجزیرہ“ ،پاکستانی میڈیاکی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ ہندوستانی دانشوروں اور سکالرز کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے پر شکریہ ادا کرتا، مقبوضہ کشمیر میں اپنا ناجائز تسلط ختم کرتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کرے جس سے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد ہوسکے۔اپنی ہٹ دھرمی ختم کرتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ مشن جیسے کہ اقوام متحدہ کے کمشنربرائے انسانی حقوق نے تجویز کیا ہے کو مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت دے۔میڈیا پر جبر ختم کرے اور انگریزی روزنامہ ”کشمیر ریڈر“ کی اشاعت پر سے پابندی اٹھائی جائے۔تمام سیاسی قائدین اور کارکنان کو جو PSA کے تحت گرفتار یا نظربند ہیںبشمول انسانی حقوق کے ممتاز کارکن خرم پرویز کو رہا کیا جائے۔ریاست جموںوکشمیرکے عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کریں اور مقبوضہ کشمیر میںہندوستان کے انسانیت کے خلاف جرائم پر کارروائی کی جائے۔ہندوستانی حکومت پر دباﺅ بڑھائیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فوجی قبضہ ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور تمام عالمی قوانین کی پابندی کرے۔اس خطہ میں امن اور استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کمیشن بھیجے جو انسانی حقو ق کی پامالیوں کا نوٹس لے نیز اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کمشنر رائے شماری کا تقرر کرے جو فوجی انخلاءسمیت دیگر اقدامات کا اہتمام کرے ہندوستانی حکومت پر دباﺅ بڑھایا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت دے۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں کو مقبوضہ جموںوکشمیر تک رسائی دلائی جائے۔قائد حریت جناب سید علی گیلانی جناب میرواعظ عمر فاروق،جناب محمد یاسین ملک،جناب شبیر شاہ جو مسلسل زیر حراست ہیں جن کی زندگیوں کو بھارتی استعمار سے شدید خطرہ ہے کی زندگیوں کے تحفظ اور رہائی کو یقینی بنایا جائے اجلاس نے حریت قائدین با الخصوص یاسین ملک کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کیاکانفرنس کے شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے عوام کی جدو جہد میں ان کی ہرممکنہ طریقے سے مدد اور حمایت کی جائے گی۔
اعلامیہ