جمعرات ‘ 9 ؍محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 14؍ نومبر2013ء

14 نومبر 2013

 بیمار والدہ سے ملنے جانا ہے، مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست!
کیسی عجب بے کسی اور لاچارگی در آئی ہے کمانڈو مشرف کے لہجے میں التجائیں، کہاں وہ دربار اسلام آباد کے چودھریوں، نوابوں اور خانوں کے جمگھٹے میں مُکے لہرا لہرا کر پٹواریوں اور سرکاری ملازمین کے ہجوم میں عوام کو فرعونی لہجے میں فرمان سُناتے تھے۔ کہاں آج اسی اسلام آباد کے خزاں رسیدہ بے درد اور ٹھنڈے ماحول میں سکیورٹی گارڈ کے حصار میں چار دیواری میں بند قیدی مشرف آزاد فضا میں سانس لینے کیلئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے انہی عدالتوں کا دروازہ جسے اس نے زبردستی بند کرنے کی کوشش کی تھی اپنی طاقت کے زور پر۔ سچ کہتے ہیں زمانہ گردش کرتا ہے۔
 مشرف صاحب کی والدہ کافی ضعیف العمر ہیں چند ماہ قبل جب مشرف واپس پاکستان تھے اس وقت انہیں یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ وہ اپنی سیاست چمکانے کی بجائے اپنی والدہ کی خدمت کا حق ادا کریں۔ اصل میں وہ پاکستانی سیاست میں اپنا اصل مقام اور پاکستانی عوام میں اپنی اصل مقبولیت دیکھنے کے بعد ہی یہاں سے کوچ کرنے کا سوچ رہے ہیں اور پس پردہ ہاتھ بھی انہیں محفوظ طریقہ سے اوپر جانے سے بچانے کیلئے باہر جانے پر آمادہ کر چکے ہیں اور جلد ہی مشرف صاحب …؎
 انشا جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
 کا سُر الاپتے ہوئے کسی دن اڑنچھو ہو جائیں گے اور سب دیکھتے رہ جائیں گے۔
٭…٭…٭…٭
نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تعلقات کی بہتری کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کے نمائندے جس طرح مسکراتے ہوئے بہتر تعلقات کے حوالے سے اپنا اپنا دکھڑا بیان کر رہے ہیں وہ صرف ایک طے شدہ ڈرامہ بازی محسوس ہو رہی ہے۔ کیونکہ جب تک دونوں ممالک کے تعلقات میں بگاڑ کی اصل وجہ پر بات نہیں کریں گے ہزاروں کوشش کرکے دیکھ لیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ استوار نہیں ہو سکے گا۔
ہمارے چند دوست جس طرح امن اور آشا کی زبان میں بات کرتے ہیں اس میں تو شہد کا رس اور مٹھاس گھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کے جواب میں ہمیں کیا ملتا ہے۔ نفرت‘ آگ اگلتی زبانیں اور زہر میں بجھے نشتر العرض
پھول چاہے تھے مگر ہاتھ میں آئے پتھر
ہم نے آغوش محبت میں سلائے پتھر
ہمیں کھل کر دو ٹوک انداز میں اب کشمیر اور آبی مسائل پر بات کرنا ہو گی چاہے بھارت اس سے ناراض ہو یا خوش۔
منچھر جھیل کیس: ریاست لوگوں کی فلاح نہیں کرسکتی کم از کم جینے کا حق دیدے:جسٹس افتخار!
کراچی و حیدر آباد کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی منچھر جھیل عرصہ دراز سے حکومت ، کارخانہ مالکان اور عوام کی بے حسی کے باعث بُری طرح آلودگی کا شکار ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس کا پانی ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ گندا پانی عوام استعمال کریں گے و ہ بے گناہ لوگ شہید نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوں گے۔ ویسے بھی تو کراچی کے شہری زندہ ہوں تو غازی اور کسی سانحہ میں مر جائیں تو شہید ہوتے ہیں۔
 شہری و دیہی علاقوں کے سیوریج کا پانی اور صنعتی علاقوں کے آلودہ زہریلے پانی کی وجہ سے یہاں آبی حیات ہی نہیں موسم سرما میں دور دراز سے میں آنے والے چرند و پرند بھی پُراسرار بیماریوں کا شکار ہیں اور شہری علاقوں میں لگائے گئے ناقص واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور اسکا کرپٹ عملہ رہی سہی کسر پوری کر دیتا تھا۔ صاف پانی میں ملانے والی کلورین و دیگر ادویات، آلات اور پرویسجر کی ہدایات پر عمل تو بڑی دور کی بات ان کو چیک تک کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی پانی کی کوالٹی چیک کرنے کی زحمت کون گوارہ کرے۔
 ہمارے ریاستی ادارے اور حکومت آتے ہی مال بنائو اور آبادی گھٹائو ایجنڈے پر گامزن ہو جاتی ہے‘ وہ خود تو منرل واٹر اور غیر ملکی فاسٹ فوڈ کی پیداوار ہیں اس لئے انہوں نے کونسا منچھر جھیل یا لیاری ندی کا پانی پینا ہے جو وہ اسکی طرف سے پریشان ہوں یہ سب عوام کا دردِ سر ہے، اب دیکھتے ہیں سپریم کورٹ کے جھنجھوڑنے پر کون سا بھونچال آتا ہے یہاں تو سب گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔ اور عوام بے چارے مر رہے ہیںیا شہید ہو رہے ہیں‘یہ تو اوپر والا ہی جانے …
٭…٭…٭…٭
ٹائم میگزین نے ملالہ کو دنیا کی بااثر ترین نوجوان لڑکیوں میں شامل کر لیا !
اس بات کا سب سے زیادہ ملال ان نیم حکیم قسم کے لوگوں کو ہو گا جو ملالہ کو دنیا کی بے اثر ترین مخلوق ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ہم نے ملالہ کی وکالت نہیں کرنی مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ وہ پاکستان کے پسماندہ اور شورش زدہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم اور لڑکیوں کے سکولوں کے تحفظ کی علامت بن کر اُبھری ہے اور دھمکیوں کے باوجود اس نے موت کے سوداگراں کے خوف سے علم کی شمع کو نہیں بجھنے دیا‘ یہی وجہ ہے کہ آج علامہ اقبال کی دعا …؎
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ملالہ کے وجود پر صادق آرہی ہے اور خود اسکی زندگی بھی بہت سی بچیوں کی تعلیم کا ذریعہ بن رہی ہے۔ دنیا بھر سے ان علاقوں اور پاکستان میں تعلیمی سفر کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے اور یہ سب ملالہ کی بدولت ہے۔
اس فہرست میں اوباما کی بیٹی 15ویں نمبر پر اور ملالہ 16ویں نمبر پر ہیں اگر وہ صحیح سمت درست راہ پر گامزن رہیں تو امید ہے اس کا نام اس فہرست میں ٹاپ ٹین تک پہنچ جائے گا، بس اسے یہ یاد رکھنا ہو گا کہ اس کا ہر قدم وطن کی عزت اور نیک نامی کیلئے اٹھے۔