حافظ سعید اور کالعدم تنظیمیں

11 فروری 2018

واچ ٹیرر لسٹ، فورتھ شیڈیول لسٹ، کالعدم اورانڈر آبزرویشن جیسے نہ جانے کیسے کیسے نام ہیںجو دراصل بے معنی وبے وقعت ہیں ۔افغانی طالبان، پاکستانی طالبان، حقانی نیٹ ورک، ملا محسود ، ملا فضل اللہ، القاعدہ اورداعش امریکہ ،بھارت اور پاکستانی ایجنسیوں کو مطلوب ہیں ۔درحقیقت مذکورہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس امریکہ اور بھارتی لابی کی ایجاد ہیں جس پر تماشا کھڑا کر کے پوری دنیا کو دہشت گردی کے عفریت سے ڈرایا جارہا ہے۔ اس کی آڑ میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کو قرضوں کے جال میں جکڑ کر اپنی دفاعی پیدوار ی صلاحیت کو بڑھایا جارہا ہے اور دوسروں پر ایٹمی پابندیاں عائد کر کے اپنے لیے جوہری افزودگی کابھونڈا جواز تراشا جارہا ہے۔کئی ممالک کے عشروںکا ٹوٹل بجٹ امریکہ کے صرف ایک سال کے دفاعی بجٹ سے بھی کم ہے۔ خیال کامل اورامرضروری یہ ہے کہ امریکہ نامرادکو برابھلا کہنے یا مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے بے شرمی و بے حسی ترک کر کے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔پچھلے دنوں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک انداز میں بتا یا ہے کہ پاکستان اب لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مختلف گروہوں کی فنڈریزنگ کیخلاف سول اور سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے کئی سال کی تحقیقات کے بعد سنجیدہ کاروائی پر غور کیا جارہاہے، ان گروہوں میں جماعت الدعوۃ اور اسکی ذیلی جماعتیںبھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کے دورے پر بعد اس معاملے پر کچھ پیش رفت متوقع ہے۔فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے دودرجن سے زائد افراد اور تنظیموں کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں،جو لشکر طیبہ اور ان سے ملحقہ تنظیموں کے لیے 2014سے چند ہ مہم میں شامل رہے۔FMU اورFIA نے امریکی وزارت ِخزانہ کے آفس آف فارن ایسٹ کنٹروں (OFAC) کی جانب سے فراہم کردہ تجاویز کی بنیاد پر لشکر طیبہ کو گلوبل ٹیرارسٹ ڈیکلیئر کیاتھا۔لگتاہے جیسے امریکی خوشنودی( مالی امداد)کے چکرمیں اقوام متحدہ کے ایکٹ 1267 کے مطابق جماعۃ الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو بین الاقوامی دہشت گرد تسلیم کراناہے۔اور سابق وزیر داخلہ کی جانب سے جاری کردہ 65 دہشت گردپاکستانی تنظیموں پر سے پردہ چاک کرکے انہیں میڈیا کے سامنے پیش کرنا ہے اور حافظ سعید کے خلاف سول ، ملٹری یااینٹی ٹیررسٹ کورٹس میں جلد سے جلد ٹرائل ڈال کر سخت سے سخت سزا دلوانا ہے۔
کالعدم اور زیر نگرانی تنظیمو ں میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، لشکر طیبہ،سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان،تحریک اسلامی ، القاعدہ ، ملت اسلامیہ پاکستان،خدام الاسلام ، اسلامی تحریک پاکستان، جمعیت الانصار،جمعیت الفرقان، حزب التحریر، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ،بلوچستان لبریشن آرمی،اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان،لشکر اسلام،انصار الاسلام،حاجی نامدار گروپ،تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان ریپبلکن آرمی،بلوچستان لبریشن فرنٹ،لشکر بلوچستان، بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ،بلوچستان مسلح دفاع تنظیم،شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی ، گلگت،مرکز سبیل آرگنائزیشن ،گلگت،تنظیم نوجوانان اہل سنت،پیپلز امن کمیٹی (لیاری) کراچی،اہل سنت والجماعت،الحرمین فائونڈیشن،رابطہ ٹرسٹ،انجمن امامیہ گلگت بلتستان،مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، گلگت بلتستان،تنظیم اہل سنت والجماعت بلوچستان،بلوچستان بنیاد پرست آرمی، تحریک نفاذ امن،تحفظ حددو اللہ،بلوچستان و جہ لبریشن آرمی،بلوچ ریپبلکن پارٹی آزاد، بلوچستان یونائیٹڈ آرمی،اسلام مجاہدین،جیش اسلام،بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی،خانہ حکمت گلگت،تحریک طالبان سوات، تحریک طالبان مہمند،طارق گیدر گروپ،عبداللہ اعظم بریگیڈ،ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان،اسلامک جہاد یونین ،313 بریگیڈ،تحریک طالبان باجوڑ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر(حاجی نامدار گروپ)،بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد،یونائیٹڈ بلوچ آرمی،جئے سندھ متحدہ محاذ،داعش /آئی ایس آئی ایل/آئی ایس،جماعت الاحرار،لشکر جھنگوی العالمی،انصار الحسین،تحریک آزادی جموں وکشمیر،الااختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ،جماعت الدعوتہ ،فلاح انسانیت فائونڈیشن،ٖغلامانِ صحابہ شامل ہیں معمار ٹرسٹ شامل ہیں۔
تمام تر تفصیلات لکھنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی ملک اپنی جگ ہنسائی چاہتا ہے؟جبکہ ہمارے ملک کے حکمران جائیدادوں، قرضوں اور پناہ گاہوں کے حصول کے لیے خود کو ہر محاذ پر ذلیل و رسوا کرنے پر تلے رہتے ہیں۔بات بڑی سادہ ہے کہ اگر حافظ سعید قصوروار ہے تو دیر مت کیجئے اور بمبئی ٹریر اٹیک کے ماسٹر مائنڈ کو عالمی عدالت میں پیش کریںاور اگر ایسا الزام صرف بہتا ن ہے تو پھر سینہ تان کر اپنے شہریوں کی حفاظت اور عزت کرنا سیکھیں۔ اسی طرح اگر کسی دوسری تنظیم کا سربراہ یا سیاسی رہنما مجرم ہے تو اسے قرار واقعی سزا دیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر پیارے پاکستان کے سول و ملٹری حکمران مل بیٹھ کر کچھ چیزیں طہ کریں۔ گڈ اور بیڈ طالبان اور چھوٹی بڑی برائی کا فرق مٹا کر معاشرے کے ہر Individualاور تنظیم کو معاشرے میں ایک جیسا مقام دلوائیں۔ اور کسی بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے ادارے یا انسانیت کے نام پرچندہ لے کر غیروں کا ایجنڈ ہ پروموٹ کرنے والی تنظیموں کو واچ لسٹ میںڈالیں ۔