اب دنیا کے ڈور کا وقت ہے، امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے: ختم نبوت کانفرنس

09 ستمبر 2017

چنیوٹ (نامہ نگار) انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیراہتمام مرکز ختم نبوت جامعہ عثمانیہ مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی 30 ویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس تحفظ ختم نبوت کیلئے تجدید عہد، عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی و استحکام کی دعائوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اختتامی سیشن کی آخری نشست کی صدارت مولانا عبدالرئوف مکی نے کی۔ تیسری نشست بعد نماز عصر وقفہ سوالات و جوابات کی تھی۔ چوتھی نشست بعد نماز مغرب اصلاحی بیان و مجلس ذکر کی منعقد کی گئی۔ مقررین نے خطاب میں کہا کہ اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈومور کا وقت ہے۔ عالمی طاقتیں ناکام ہو چکی ہیں اپنی ناکامیوں اور ذلت و رسوائی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں، پاکستان ایک عظیم مملکت اور ایٹمی قوت سے سر شار ملک ہے، امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے، پاکستان کا بچہ بچہ اپنے وطن عزیز کی سالمیت کیلئے جا نوں کے نذرانے پیش کر نے سے دریغ نہیں کریں گے۔ مولانا عبدالرئوف مکی نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی پاکستان کے وجود کا دشمن نہیں بلکہ خیرخواہ ہے اور محب وطن ہیں، قادیانی عالمی و طاغوتی و صیہونی قوتوں کے آلہ کار ہیں اور صیہونی ایجنڈا کی تکمیل کیلئے مغرب کیلئے یہ کام کر رہے ہیں اس قادیانی وصیہونی ایجنڈا کو کسی صورت پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔ مولانا قاری شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ دہشت گردوں کے مذموم مقاصد ناکام بناتے ہو ئے ملک عزیز میں امن و امان کو قائم کر نے میں حکومت و عسکری قیادت کا ساتھ ہیں، پاکستان ایک پر امن اور پروقار ملک ہے، دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو شکست نہیں دی جا سکتی، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عظیم قربانیاں لازوال ہیں۔ عسکری قیادت نے امریکہ پر انحصار نہ کرنے کی بات کر کے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ کرپشن میں ملوث تمام کے تمام حکمرانوں اور سیاستدانوں کا میرٹ پر احتساب ہونا چاہئے۔ عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا کہ شہداء ختم نبوت کے مقدس خون کے صدقے بھٹو مرحوم نے پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا یہ فیصلہ رہتی دنیا تک قائم رہیگا، آئینی کی دفعہ 63/62 کے بہانے آئین کی اسلامی دفعات ختم کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والوں کو منہ کی کھا نا پڑے گی، پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے۔ مولانا سید سیف اللہ فاروقی نے کہا کہ پو ری امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضورؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا، مرزا غلام قادیانی اپنے دعویٰ میں جھوٹا تھا، اس نے جھوٹے دعوے کر کے اُمت میں گمراہی پھیلانے کا موجب ہے، قادیانیوں کی پشت پر یہود ہنود ہیں۔ قادیانیت ایک بہت بڑا ناسور ہے۔ پیر محمد شاہ نے کہا کہ اگر مسلمان آج بھی حضور خاتم النبیین کی سیرت و اسوہ رسول کو اپنا لیں تو دنیا کی کو ئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ مولانا حافظ محمد امجد نے کہا کہ اُمت مسلمہ کی کا میابی حضورؐ کی پیروی میں ہے عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور بنیاد ہے۔ مولانا عبید اللہ لطیف نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کا مشن بہت بڑا مشن ہے مسیلمہ کذاب کا قلعہ قمع کرنے میں سیدنا صدیق اکبر ؓ کا عظیم کا رنامہ ہے۔ علامہ شاہ نواز فاروقی نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات اور فرقہ وارانہ اختلافات کے پس پردہ قادیانی ہاتھ ہے، ناموس رسولﷺ اور ناموس صحابہ ؓ و اہل بیت کی پاسبانی کیلئے ہمیں اپنے فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا ہو گا۔ مفتی ظہیر احمد ظہیر نے کہا کہ قادیانی اور ان کی ناپاک ذریت جذبہ جہاد کو ختم کر نے کیلئے کوشاں ہے لیکن آج افغانستان، فلسطین، کشمیر، برما میں مسلمانوں نے جہاد کا علم اٹھا کر وقت کے طاغوتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ علامہ ممتاز اعوان نے کہا کہ 7ستمبر دفاع ختم نبوت کا دن ہے چونکہ اسی دن اللہ نے امت مسلمہ کو کامیابی عطا فرمائی۔ مولانا افتخار اللہ شاکر نے کہا کہ قادیانی دہشت گرد تنظیم کا نام ہے یہ کوئی مذہب نہیں۔ مولانا قاری محمد رفیق وجھوی نے کہاکہ قادیانیت یہودی ساختہ اور انگریز پرداختہ گروہ ہے۔ مولانا رضوان اللہ، مولانا سلیم معاویہ نے کہا کہ قادیانیت کی سرکوبی ہم سب پر لازم ہے ہم خون کے آخری قطرے تک حضورﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر لڑتے رہیں گے۔ مولانا سعد کامران نے کہا کہ قادیانیوں نے ہندوئوں کی طرح کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ مولانا معاویہ ڈاہر، قاری محمد صدیق توحیدی، مولانا قا ری احسان اللہ قاسمی، قا ری محمد یوسف قاسمی، مولانا صوفی محمد اکرم نے کہا کہ حکومت پاکستا ن کا اولین فرض ہے کہ ایٹمی توانائی کے شعبے میں گھسے ہوئے قادیانیوں کو جو پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے محروم کر نے کیلئے گھنائونی سازشوں میں مصروف ہیں تمام عہدوں سے ان کو فی الفور ہٹایا جائے۔ مولانا مجیب الرحمان، مولانا سیف اللہ خالد نے کہا کہ قادیانیوں کو امتناع قادیانیت آرڈیننس کا پابند بنایا جائے۔ قاری محمد سلمان عثمانی نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا جائے، ہمارا ملک عزیز اس وقت خطرات سے دوچار ہے۔ مولانا قاری فداء احمد صدیقی نے کہا کہ قادیانی اپنے کفر و ارتداد پر پردہ ڈالنے کیلئے کئی سیاسی شخصیات کو مہرے کے طور پر استعمال کر تے ہیں۔ شاہد عمران عارفی، اسامہ اجمل قاسمی، مولانا احسن رضوان عثمانی، حاجی محمد خالد نے خصوصی طور پر ختم نبوت کانفرنس میں نعت رسول مقبول ؐ سے سامعین کے دلوں کو حضور ؐ کی محبت سے منور کیا۔ مولانا عبدالرئوف مکی نے عالم اسلام اور استحکام پاکستان کیلئے خصوصی دعا کرائی۔ کانفرنس میں منظور قراردادوں کے مطابق کہا گیا کہ اجتماع برما، فلسطین، کشمیر، شام میں مسلمانوں پر ہونے والے ہولناک مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بولنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتاہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ’’سی پیک‘‘ منصوبہ کو سبوتاژ کر نے کیلئے بین الاقوامی قوتوں اور ہمسایہ ممالک کی ریشہ دوانیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ افواج پاکستان کے ان جا نبازوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے 1965ء سے لیکر ضرب عضب و آپریشن رد الفساد تک ملک کی سلامتی و دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ امن وا مان قائم کرنے کی خاطر اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد کی مکمل حمایت کرتے ہو ئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہے۔ نصاب تعلیم میں سے جہاد، سیرت نبوی و دیگر اسلامی مضامین کو حذف کرنے کی شدید الفاط میں مذمت کر تا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مر تد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف ناروا سلوک بند کیا جائے، مذہبی رہنمائوں و علماء کرام خطبائ، عظام کے خلاف فورتھ شیڈول جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا استعمال بند کیا جائے، مدارس کی حب الوطنی و دوستی کو مشکوک نہ بنایا جائے۔