لینڈ مافیا اور سہو لت کاروں سے آہنی ہا تھو ں سے نمٹیں گے ، سعد رفیق

09 ستمبر 2017

کراچی (اسٹاف رپو رٹر)وفاقی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی کے ویژن کے تحت کام کررہی ہے اور اسی ویژن کے تحت ریلوے کی اراضیوں پر قائم کچی آبادی قوانین کی شرائط پورا کرنے والی کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق لیز دینے کیلئے وزارت ریلوے ’’کاگف‘‘ کی جانب سے دی گئی تجاویز پر عمل درآمد کرتے ہوئے اقدامات کررہی ہے اور ریلوے کی اراضیوں پر کچی آبادیوں کی آڑ میں کام کرنے والے لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ان الفاظ کا اعادہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان ’’کاگف‘‘ کے چیئرمین صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ’’کاگف‘‘ کے چیئرمین نے وفاقی وزیر ریلوے کو ’’کاگف‘‘ کی جانب سے دی گئی تجاویز پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزارت ریلوے کی جانب سے ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم 270سے زائد کچی آبادیوں کو 33سالہ لیز دینے کے اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ’’کاگف‘‘ اور کچی آبادیوں کے مکینوں کی جانب سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ،وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے سے اظہار تشکر کیا وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ وزارت ریلوے ایسا پلان تیار کررہے ہیںجس کی تحت ریلوے کی اراضیوں پر قائم 23مارچ 1985سے قبل188کچی آبادیوں جن میں 107پنجاب اور 80سندھ میں قائم ہیں کو لینڈ مافیا کے چنگل سے آزاد کراکر مسلم لیگ (ن) کے منشور کی روشنی اور وزیر اعظم ہائوسنگ پروجیکٹ کے تحت سستی رہائشی سہولتیں فراہم کی جاسکیں اس سلسلے میں وزارت ریلوے نے ابتدائی طورپر تیاری کرلی ہے اور مذید رپورٹ تیارکی جارہی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اصل سستی رہائشی اسکیم کے حق دار کون ہیں لینڈ مافیا کون ۔؟ انہوں نے کہا کہ 4370روپے 5مرلہ یا120گز کا سالانہ کرایہ ادا کرنے پر 33سالہ لیز دینے کی تجویز پر غور ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کے تحت ہم ریلوے کی اراضیوں پر قائم کچی آبادی قوانین پورا اترنے والے آبادیوں کے غیریب ، پسماندہ اور مزدور طبقے کو دربدر نہیں کرسکتے کیونکہ وطن عزیز کے ہر شہری کو سستی رہائشی سہولتیں اور صحت تعلیم و دیگر ضروریات زندگی کی ریاست کی ذمیداری ہے۔
سعد رفیق