1977کی طرف مڑ کر دیکھیں

09 دسمبر 2014

سیاسی محاذ پر توپوں کی گھن گرج جاری ہے ۔عمران خان کی احتجاجی تحریک کیساتھ ساتھ مذاکرات بھی ہوں ایسے ہی ہے جیسے جنگ رہے اور امن بھی ہو۔ حکومت کے نزدیک عمران احتجاج ملتوی کر دیں تو مذاکرات کل ہی ہو سکتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن پر اعتراض نہیں تا ہم انٹیلی جنس اداروں کو رکن نہیں بنایا جا سکتا۔ عمران خان کہتے ہیں جوڈیشل کمیشن کے قیام تک احتجاج ہو گا۔ الزامات کے جواب میں الزامات کی ژالہ باری جاری ہے۔ 27نومبر کو پرویز رشید نے عمران خان پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا2013ءکے گوشوارے میں عمران خان نے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس کی رقم 5لاکھ روپے ظاہر کی۔ 84لاکھ روپے بیرون ملک سے آمدنی ظاہر کی گئی جبکہ زر نقد ایک کروڑ 3لاکھ روپے بتایا گیا ہے۔ پرویز رشید کے خیال میں زر نقد کی خطیر رقم پر سوالات جنم لیتے ہیں ۔اس الزام کے جواب میں ن لیگ کے ممبران کی اکثریت کو ٹیکس چور کہا گیا ہے۔ الزامات سے بات نہیں بنتی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا فرض ہے کہ وہ قانون حرکت میں لائے اور ٹیکس چوروں کا بلا استثناءکٹہرے میں کھڑا کرے۔ ایک سرکاری رپورٹ کےمطابق 1070 اراکین اسمبلی میں سے47 فیصد انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ 12فیصد کے پاس تو انکم ٹیکس نمبر ہی نہیں، ایسے 54اراکین اسمبلی میں سے بیشتر کا تعلق ن بیگ سے ہے، تحریک انصاف کے 19اراکین قومی اسمبلی ٹیکس گزار نہیں ہیں۔

2012ءکیلئے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 446 اراکین اسمبلی میں سے 300اراکین پورا ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ افسوس اس بات کا کہ الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ نے ایسے ارکان کو نا اہل قرار دینے کےلئے کچھ نہیں کیا۔ 2013ءمیں 60فیصد اراکین اسمبلی ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہے ۔ ایف بی آر کے 23ہزار ملازموں میں 13ہزار ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق 1072اراکین اسمبلی و سینٹ میں سے کسی ایک کا نام بھی ٹاپ کے ٹیکس گزاروں میں شامل نہیں۔ براہ راست کل ٹیکسوں میں سے صرف 0.03فیصد رقم ان اراکین سے وصول ہوتی ہے یہ رقم 25کروڑ 10لاکھ روپے ہے ۔ جمہوریت کے نام پر جنگ کا تماشا ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ٹیکس چوری کے مرتکب صرف اراکین اسمبلی ہی نہیں اس حمام میں بیورو کریسی بھی نہا رہی ہے۔ پر آسائش دوبئی کے مثل نئی نئی بستیاں کس پیسے سے آباد ہو رہی ہیں؟ تنخواہوں سے تو روٹی پوری ہو جائے تو غنیمت ہے بڑے بڑے پلاٹ کوٹھیاں گاڑیاں بیرون ملک اثاثے اور سفر، بچوں کی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم وافر پیسوں کے بغیر تو ممکن ہی نہیں۔پارلیمانی کمیٹیاں موجود ہیں لیکن انکی آنکھیں ہیں جو دیکھتی نہیں، کان ہیں مگر سنتے نہیں ، ایف بی آر ہی اشرافیہ کے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا سکتا ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ سرکاری اداروں کا ریموٹ وزیروں اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے۔ نیب،ایف آئی اے، ایف بی آر از خود کسی کو ننگا نہیں کر سکتے۔ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور آرمی ایکٹ 1952اور عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1975کے تحت ایف بی آر بہت کچھ کر سکتا ہے لیکن کندھے پر بندوق لٹکائے سپاہی کی طرح ایف بی آر بندوق چلا نہیں سکتا۔ احتساب کیلئے مشرف دور میں نیب بنایا گیا اور اسی دور میں این آر او بھی سامنے لایا گیا گاجر اور تلوار دونوں سامنے لائی گئیں۔ عمران خان کو صرف نواز شریف کی دولت دکھائی دیتی ہے وہ نواز شریف اور آصف زرداری پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں حالانکہ ملک میں گمنام شریفوں اور زرداریوں کی کمی نہیں۔ پاکستان میں کونسی سیاسی پارٹی ہے جس نے کبھی ٹیکس کا گوشوارہ داخل کیا ہوا، اپنے اثاثے اور ذرائع آمدن ظاہر کئے ہوں۔ دھرنوں جلسوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ۔یہ پیسہ آسمان سے تونازل نہیں ہوا۔ پیسے کے بغیر تو کوئی گدھا گاڑی پر نہیں بیٹھ سکتا۔ طاہر القادری اور عمران خان ائر کنڈیشنڈ کنٹینروں میں کیسے بیٹھے رہے؟ بھارت میں انکم ٹیکس ایکٹ 1961کے تحت چیف الیکشن کمشنر ٹیکسوں کے بورڈ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر سال تمام سیاسی جماعتوں کے گوشواروں کی چھان بین کر کے حقائق سامنے لائے۔ ہمارے ہاں تو ایسا کرنے کا شاید کوئی سوچتا بھی نہیں۔ جعلی بیلٹ پیپروں کی باتیں کھل چکی ہیں۔ اتفاق رائے سے بننے والے نئے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا چاہیں تو عمران خان کی دھاندلی سے متعلق ساری باتوں کی تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں۔ آڈٹ والے بھی تو ہر محکمے کا کچا چٹھا سامنے لے آتے ہیں۔ ٹیکس ڈائریکٹری 2013کے مطابق جمہوریت کے بعض چیمپئن زیرو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں محمود اچکزئی، سراج الحق، عبدالمالک،رانا مشہود، قابل ذکر ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے 26لاکھ 46ہزار، شہباز شریف نے 43لاکھ 83ہزار جبکہ حمزہ شہباز نے 43 لاکھ 83ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ عمران خان نے ایک لاکھ 95ہزار، اسد عمر نے 5لاکھ 33ہزار، شاہ محمود قریشی نے 6لاکھ سے زیادہ، چوہدری شجاعت حسین نے 18لاکھ 24ہزار، چوہدری پرویز الٰہی نے 7لاکھ 92 ہزار، چوہدری مونس الٰہی نے 5لاکھ 19ہزار ٹیکس ادا کیا۔ رات دن حکومت پر ملامت کرنے والے شیخ رشید نے صرف 58ہزار ٹیکس ادا کیا۔ٹیکسوں سے کل آمدنی کا39فیصد سیلز ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کار پوریٹ ٹیکس کی شرح 27فیصد جبکہ ہمارے ہاں 35فیصد ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں تیل کے نرخ گزشتہ چار سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ خام تیل کی قیمت ساڑھے 7ڈالر فی بیرل سے گھٹ کر 66ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ ایک ماہ میں دوبارہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونے کے باوجود مہنگائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ پٹرول اور دودھ ایک ہی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا ایک بھی حصہ ایسا نہیں جہاں سو فیصد خالص دودھ دستیاب ہو۔ پٹرول کی قیمت 19روپے کم ہوئی ہے یہ دیکھنا ضلعی حکومتوں کا کام ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کے تناسب سے اشیائے صارفین کے نرخوں میں کس قدر کمی ہوئی ہے۔ جس طرح ٹریفک پولیس کا کام صبح سے رات تک جبری چالان کرنا ہے اسی طرح ضلعی حکومت کے اہل کاروں کا کام مال بنانا اور ریڑھیاں الٹانا ہے۔ ہر شہر میں نا جائز تجاوزات انہیں اہلکاروں کو بھتہ دیکر اپنی جگہ سے نہیں ہلتیں۔ دھرنوں شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام کی سیاست ہمیں کدھر لیجا رہی ہے۔ ایسی سیاست کرنے والوں کو علم ہے کہ ملک کو نقصان کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ہر روز ایک دوسرے کو برا کہنے سے کسی بھی گھر میں امن ہوا ہے؟ اصل بات انتخابی دھاندلی کی ہے۔ عمران خان کےمطابق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ہی احتجاج کا سلسلہ بند کیا جا سکتا ہے۔ باہمی بیان بازی اور ” گو نواز گو“ اور ” رو عمران رو“ کے نعروں، دست و گریبان ہونے اور ایک دوسرے کو جوتیاں دکھانے سے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئےگا۔ مذاکرات کی کامیابی کیلئے فریقین کی نیت اور مصمم ارادہ ضروری ہے۔ مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار نہیں ہونے چاہئیں۔ فریقین جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہیں تا ہم حکومت مشروط طور پر مذاکرات کی منیر پر بیٹھنا چاہتی ہے۔ حکومت مطالبہ کر رہی ہے کہ تحریک انصاف پہلے احتجاجی مظاہرے ملتوی کرے پھر مذاکرات کا آغاز ہو سکے گا۔ فریقین کو 1977کو سامنے رکھنا چاہئے، مذاکرات کی میز کیسے الٹ دی گئی تھی۔ اگر جوڈیشل کمیشن فیصلے میں کہہ دیگا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے تو پھر ن لیگ حکمرانی کا استحقاق کھو دیگی۔ اگر فیصلہ برعکس ہوتا ہے تو پھر عمران خان کو 2018ءتک صبر سے کام لینا ہوگا۔ انسان کی فطرت میں عجلت ہے اسلئے صبر کا جام پینا بھی آسان نہیں۔ سیاسی تحریکیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب سیاسی پارٹیوں کی اکثریت ایک پلڑے میں جمع ہو جائے اور دوسرے پلڑے میں جمہوریت نما آمریت ہو۔ ابھی تک تو سیاسی میزان کے ایک پلڑے میں عمران اور دوسرے میں ن لیگ اور اسکے ہم نوا ہیں۔