رمضان اور تحصیل تقویٰ(۱)

08 جولائی 2013

رمضان المبارک خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مبارک مہینہ میں امت مسلمہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ کیا یہ عمل محض بھوک اور پیاس کے ایک مرحلے سے گزار نے کا ذریعہ ہے؟ قرآن مقدس میں اس کی غایت و مقصود تقویٰ کو قرار دیا ہے۔ اگر ہم لفظ ”صوم“ کی حقیقت پر غور کریں تو تربیت کا ایک پورا عمل سامنے آجاتا ہے۔ لغت میں لفظ صوم کا معنی ”الامساک عماتنازع الیہ النفس “درج ہے یعنی ان خواہشات سے خود کو روک لینا جن کی طرف نفس راغب ہو۔ لیکن اس لفظ کا ایک پس منظر بھی ہے۔ عرب میں جنگی گھوڑوں کی تربیت کا ایک طریقہ رائج تھا، وہ یہ کہ جس گھوڑے کو جنگی مقاصد کے لیے مناسب و موزوں سمجھا جاتا اسے ابتداءہی سے بڑی مقوی اورفربہ اندوز قسم کی خوراک دی جاتی اور کسی قسم کی بدنی مشقت نہ لی جاتی، جب وہ خوب موٹا تازہ ہو جاتا اور اس کے جسم پر کافی مقدار میں چربی چڑھ جاتی، تو اسے رفتہ رفتہ مشقت کا عادی بناتے اور بتدریج خوراک کم کرتے چلے جاتے۔ اس طرح اس کے جسم کی زائد چربی زائل ہو جاتی ہے اور اس کا جسم سڈول اور پھر پتلا ہوتا چلا جاتا۔ مزید برآں وہ بھوک اور پیاس کی مشقت کا بھی عادی ہو جاتا اور جنگ کی ہولناکیوں سے نبردآزما ہونے لگتا ہے۔” صوم“ بھی تربیت دینے کا ایک طریقہ جس سے جسم اور روح دونوں کی کثافتیں زائل ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے نفس اور شیطان دونوں کے خلاف میدان کارزار میں اترنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ”تقوی“ کا لفظ اپنے اندر حذر اور اجتناب کا معنی رکھتا ہے۔ کسی شئی کی مضرت رسانی اور نقصان دہ پہلو سے ہم واقف ہو جائیں اور پھر پورے شعور اور آگئی سے اس سے بچیں تویہ ”وقایة“ ہے ۔قاضی بیضاوی رحمة اﷲ علیہ کے نزدیک اس کے تین مراحل ہیں،۱:۔آخرت کے عذاب سے ڈر کر اپنے آپ کوشرک سے بچانا تقویٰ کا پہلادرجہ ہے،۲:۔ ہر وہ فعل جس میں گناہ کا اندیشہ ہویہاں تک کہ صغیرہ گناہوںسے بچنا بھی تقویٰ کا دوسرا درجہ ہے،۳:۔ہر وقت اللہ سے تعلق قائم رکھنا اوراس سے غافل کردینے والی اشیاءسے لاتعلق ہونا تقویٰ کا تیسرادرجہ ہے اور تقویٰ کی یہی کیفیت حقیقی ہے اوریہی مطلوب ومقصود ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہر وقت تعلق سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت خدا یاد رہے اوروہ ہر فعل میں اسی کی رضاءدیکھے ،انسان کو ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے کہ کوئی چیز دین کی راہ سے غفلت کا سبب نہ بن جائے ،شیطانی طاقتیں اس پر غالب نہ آجائیں اور وہ نفس امارہ کا شکار نہ ہوجائے۔