ترکی : کرد باغیوں کا بم حملہ‘ دو بچے جاں بحق‘ اپوزیشن کے اخبار کا 9 رکنی عملہ گرفتار

06 نومبر 2016
ترکی : کرد باغیوں کا بم حملہ‘ دو بچے جاں بحق‘ اپوزیشن کے اخبار کا 9 رکنی عملہ گرفتار

انقرہ (بی بی سی +رائٹرز + اے پی پی) ترکی کے صوبے سرنک میں کرد باغیوں کے بم حملے میں 2 بچے مارے گئے۔ حکام نے کریک ڈا¶ن کے دوران اپوزیشن پارٹی کے اخبار کم حریت کے 9 ارکان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا تو ریمانڈ دے دیا گیا۔ ادھر ترکی محکم خارجہ کے ترجمان نے کہا بیلجیئم کی عدالت کا فیصلہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی خلاف ورزی ہے۔ دہشت گرد تنظیم ایس کے کے کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینا قابل مذمت ہے۔ حکومتی عہدیدار نے کہا دیار بیکر میں کار بم دھماکے میں کرد باغی ملوث ہیں۔ داعش نہیں۔امریکہ اور یورپی یونین نے مخالفین کی گرفتاریوں پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ناکام بغاوت کے بعد ترکی سے یونان فرار ہونیوالے 8 فوجیوں کی حراست میں توسیع کر دی گئی۔کرد نواز جماعت ایچ ڈی پر پارٹی کے رہنماﺅں سمیت 9 سیاستدانوں کو بھی جیل بھیجا گیا۔ انکے علاوہ ایچ ڈی پی کے مزید 9 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔صحافی آزادیوں کیلئے سرگرم عالمی تنظیم رپورٹر ساں فرنٹیئر نے صحافیوں کو قتل، قید یا ہراساں کرنے والے35صدور، سیاستدانوں، مذہبی رہنماﺅں، ملیشیاﺅں اور جرائم پیشہ تنظیموں کی ،پریس شکاری کے نام سے ایک تازہ فہرست یا گیلری جاری کی ہے۔ماضی کی طرح اس مبینہ شکاریوں کی فہرست میں سنگا پور، تھائی لینڈ، کیوبا ، اریٹریا، برونڈی، کانگو اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔ اس فہرست میں جو نئے نام شامل ہوئے ہیں ان میں ترکی کے صدر طیب اردگان ہیں جو اب ملک کے تمام میڈیا گروپس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس سال جولائی میں ایک ناکام بغاوت کے بعد انہیں 200 صحافیوں کی گرفتاری اور 100 اخبار و جرائد اور الیکٹرانک میڈیا بند کرنے کا موقع دیا۔ فہرست میں مصر کے صدر السیسی اور تھائی لینڈ کی حکومت کے سر براہ پروت چن و چاہ بھی صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور میڈیا پر قدغنیں عائد کرنے کی وجہ سے شامل ہیں۔
صحافی گرفتار