این اے 120: پیپلز پار ٹی، تحریک انصاف دفاتر کے باہر فائرنگ، تینوں ملزم گرفتار

05 ستمبر 2017

لاہور (نامہ نگار + سٹاف رپورٹر + خبر نگار + خصوصی نامہ نگار) اسلام پورہ میںٹرو کے روز حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب کیلئے پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کے مرکزی انتخابی دفترجبکہ تحریک انصاف کے دفتر کے باہر بھی مسلح افرادنے اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی۔ جس سے علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا۔نیلی بار چوک میں فیصل میر کے مرکزی انتخابی دفترکے باہر فائرنگ کرنے والے افراد فرار ہوگئے تھے۔ فضل میر اور تحریک انصاف کے دفاتر کے باہر فائرنگ کرنے والے ملزموں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور ان کے قبضہ سے اسلحہ برآمد کرلیا۔ ملزموں کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تاہم پولیس تفتیش مکمل ہونے پر ہی حقائق سامنے آسکیں گے۔ پیپلز پارٹی اور علی نوید کے دفتر کے باہر فائرنگ کرنے والے 3 ملزموں اسد، حمزہ اور شیرعلی کو گرفتار کیا گیا ہے اور ملزموں کے زیر استعمال گاڑی کو بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ خبر نگار کے مطابق صدر پیپلزپارٹی وسطی پنجاب قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ انتخابی دفتر پر حملہ حکمرانوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔پیپلزپارٹی گلو بٹوں سے گھبرانے والی نہیں اورن لیگ کے ہتھکنڈوں کا پیپلزپارٹی ہی مقابلہ کر سکتی ہے۔ ہمارے امید وار فیصل میر کے حوصلے بلند ہیں۔پولیس ہرگز پارٹی نہ بنے ورنہ جیالے کنٹرول نہیں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کی شاندار انتخابی مہم سے گلو بٹ گھبرا گئے ہیں۔ شہبازشریف کانوٹس زبانی جمع خرچ ہے۔ پولیس اور گلوبٹوں کے گٹھ جوڑ کامقابلہ کریں گے۔ این اے 120سے امیدوار فیصل میر نے کہا ہے نواز شریف کے غنڈوں نے ان کے دفتر پر فائرنگ کی۔ پولیس شہبازشریف، رانا ثنااللہ، حمزہ شہباز، بلال یاسین اور ماجد ظہور کا نام ایف آئی آر میں درج کرنے سے انکارکررہی ہے۔ مرکزی انتخابی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل میر اور پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمن چن نے کہا این اے 120میںالیکشن کے دن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ن لیگی غنڈوں اور پنجاب پولیس سے بھی خطرہ ہے۔ہم پنجاب پولیس کی سیکورٹی لینے سے انکار کرتے ہیں۔الیکشن کمیشن فوری طور پر یہ حلقہ فوج کے حوالے کر ے۔ الیکشن کمیشن بوگس انتیس ہزار ووٹ مسترد کرے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ خصوصی نامہ نگار کے مطابق تحریک انصاف کی این اے 120 سے امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد اور مرکزی رہنما اعجاز احمد چودھری نے یوسی 58 اسلام پورہ میں ڈور ٹو ڈور کمپین کے موقع پر کہا گزشتہ رات پی ٹی آئی کے اسلام پورہ کے دفتر پر (ن) لیگ کے غنڈوں کی جانب سے حملہ کیا گیا اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ (ن) لیگ اپنے گلوں کو لگام دے۔ اگر ہمارے کسی کارکن کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار شہباز شریف اور آئی جی پنجاب ہوں گے۔ پولیس نے فائرنگ کے واقعہ کی ایف آئی آر درج نہ کی تو پھر پنجاب حکومت ہوگی اور ہم۔ تحریک انصاف ہر سطح پر احتجاج کرے گی۔ ہم فائرنگ کے واقعات سے ڈرنے والے نہیں۔ انہوں نے مریم نواز کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا نواز شریف کو حکومت پاکستان جو تنخواہ دیتی تھی کیا مریم کو اس کا پتہ ہے۔