مودی سرکار اور بھارتی مسلمانوں کا مستقبل

05 ستمبر 2017

گزشتہ سے پیوستہ
جن مذکورہ 262 سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹوں کو بالا دستی حاصل ہے۔ ان کے بارے میں تجزیہ نگاروں کی یہ رائے بھی ہے کہ بادشاہ گری کا یہ اعزاز مسلم رائے دہندگان کو اسی وقت حاصل ہوگاجب وہ اپنے ووٹ اجتماعی طور پر کسی ایک امیدوار کے حق میں کاسٹ کریں یعنی ان کے ووٹ تقسیم در تقسیم کی سیاست یا سازش کا شکار نہ ہوں ، اسی لیے ہر الیکشن کے موقع پر زور دے کر یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلم ووٹروں کو اپنی اجتماعیت کی طاقت کو پہچاننا چاہیے خاص طور پر اتر پر دیش، بہار، مغربی بنگال، آسام ، کیرالہ اور آندھرا میںجہاں متعدد حلقے ایسے ہیں جن میں مسلم ووٹ کامیابی کی کلیدثابت ہو سکتے ہیںایسے حلقوں میں عام طور پر کئی مسلم امیدوار کھڑے ہوجاتے ہیں، قومی اور علاقائی پارٹیاں بھی مسلمانوں کو پارٹی امیدوار بنانے میں دلچسپی لیتی ہیں اور اس طرح آپس میں لڑ جھگڑ کر مسلم امیدوار ہار جاتے ہیں ، اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلم آبادی کے تناسب سے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو نمائندگی حاصل نہیں ہوتی۔ آج ملک میں مسلم آبادی چودہ فیصد ہے مگر 13 ویں پارلیمنٹ میں جو مسلم امیدوار منتخب ہو کر پہنچے ان کا تناسب 7 فیصد کے قریب تھا۔ اس کے پانچ سال بعد 2009 ءمیں یہ مزید کم ہوکر چھ فی صد رہ گیا اور2014 ءکے سولہویں پارلیمانی الیکشن میں تو 1963 ءکے بعد ہونے والے الیکشنوں میں سب سے کم یعنی ساڑھے چار فی صد تک گر گیا۔ سیاسی مبصرین اس کی وجہ اتر پردیش ، بہار، راجستھان ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرریاستوں میں ہندو ووٹوں کی منفی صف بندی ( ریورس پولرائزیشن ) بتاتے ہیں، جس نے مسلم ووٹوں کو بے اثر کر دیا ، دوسر ی طرف مسلم ووٹ اس بری طرح سے منتشر ہوا کہ آزادی کے بعد سے اب تک اس کی مثال نہیں ملتی، خاص طور پر اتر پردیش میں جہاں مسلم آبادی 18 فیصد ہے اور جہاں سے سب سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوتے ہیں یعنی 80 میں سے ایک بھی مسلمان اس مرتبہ کسی پارٹی سے پارلیمنٹ کے لیے چنا نہیں جا سکا۔ یہی حال بہار میں بھی ہوا جن 17 حلقوں میں مسلمانوںکی آبادی 15فیصد سے زیادہ ہے وہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں نے 48 میں سے 42 سیٹوں پر کامیاب ہوئی۔بہار سے 4 مسلمان ضرور کامیاب ہوئے۔ اس سے دو گنا 8 کو مغربی بنگال سے کامیابی ملی جبکہ آسام اور کیرالہ سے دو دو ، وادی کشمیر سے تین، پی ڈی پی کے ممبر چنے گئے، اسد اویسی حیدر آباد، اور پی پی میں محمد لکشدیب کو شامل کر کے اس مرتبہ منتخب مسلم ممبران پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 23بنتی ہے جو مسلم ووٹروں کے تناسب 14فیصد کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔
الیکشن کا تجزیہ کرنے والے گزشتہ کے رحجانات کو مد نظر رکھ کر یہ بھی بتاتے ہیں کہ عموماََ مسلم ووٹرز سب سے زیادہ اثر انداز ان حلقوں پر ہوتے ہیں جہاں ان کی تعداد دس فی صد کے قریب ہے کیونکہ کئی امیدوار وں کی موجودگی میں سے کسی ایک کے لیے ان کا جھکاﺅنتیجہ خیز ثابت ہو تا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یوں تو کسی شعبہ میں مسلمانوں کو متناسب نمائندگی حاصل نہیں لیکن ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران جس رفتار سے مسلم نمائندگی میں کمی آئی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے اثر اقتدار میں کافی زوال آگیا ہواہے۔ اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش،راجستھان، مہاراشٹر ، پنجاب ، ہریانہ ، ہماچل پردیش ، کرناٹک ، آندھر ا پردیش، اترا کھنڈ ، جھاڑ کھنڈ ، ناگا لینڈ ، اڑیسہ، منی پور ، میگھالیہ ، میزورام ، سکھم اور تری پورہ وہ ریاستیں ہیں جہاں سے ایک بھی مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوسکا ۔ یعنی تین چوتھائی سے زیادہ ہندوستان آج مسلم نمائندگی سے محروم ہے ۔ اس طرح اتر پردیش میں جہاں 70 سے زیادہ حلقوں میں مسلم ووٹوں کا تناسب کا فی ہے وہاں سے بھی ایک ممبر پارلیمنٹ نہیں چنا گیاجب کہ اس سے پہلے 8سے 16مسلمان منتخب ہوتے رہے ۔
یہی وہ صورت حال ہے جس سے متاثر ہو کر ایک مرتبہ قومی اقلیتی کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین پروفیسر طاہر محمود نے کانگریس ، بی جے پی اور تمام اہم سیاسی جماعتوں کو ایک مکتوب ارسال کرکے سفارش کی تھی کہ پارلیمانی الیکشن میں اقلیتوں کے لیے کم ازکم 100نشستوں کی فراہمی کی جائے، انہوں نے بتایا تھا کہ مردم شماری کے مطابق ملک میں اقلیتی آبادی کا تناسب 18.59فی صد ہے اس لحاظ سے انہیں لوک سبھا میں 100نشستیں ملنی چاہیے جو اقلیتوں کا بنیادی حق ہے اور جس کی توضیح اقوام متحدہ نے 1992ءکے اس اعلامیہ میں کی تھی جو اقلیتوں کے حقوق و اختیارات کے بارے میں جاری کیاگیا تھا ۔ قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے لیے مسلمانوں کے ساتھ سیکولر سیاسی پارٹیاں بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ اپنے انتخابی منشور، بیانات اور عام جلسوں میں تو لمبے چوڑے دعوے کرتی ہیں لیکن ان دعوﺅں کو الیکشن میں عملی شکل دینے کا موقع آتا ہے تو عام طور پر بغلیں جھانکنے لگ جاتی ہیں ، سولہویں پارلیمانی الیکشن میں تو بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی آرہی ہے ، وہ اور شیوسینا جیسی جماعتیں جو پہلے مسلمانوں سے دور رہنے کو اپنا طرئہ امتیاز سمجھتی تھیں اب ان کے راہنما مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کسر نفسی سے کا م نہیں لیتے ، موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پوری الیکشن مہم کے دوران یہ کوشش کی ہے کہ ان کی کسی تقریر سے مسلمانوں کی دل شکنی نہ ہو لیکن کامیاب ہونے کے بعد ان کا طرز عمل پوری امہ کے سامنے ہے ۔
٭٭٭٭٭