A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پولیس تشدد سے رکشہ ڈرائیور ہلاک‘ ورثا کا شدید احتجاج‘ ٹریفک بلاک‘ تھانیدار گرفتار

02 جولائی 2009
لاہور (نمائندہ خصوصی) سی آئی اے سول لائن پولیس نے تشدد کرکے نوجوان رکشہ ڈرائیور کو ہلاک کر دیا‘ پولیس نے نعش لینے کے لئے آنے والے اس کے والد کو بھی کئی گھنٹوں تک تھانے میں بٹھائے رکھا مقتول کے ورثاء نے سینکڑوں افراد کے ہمراہ شدید گرمی میں مین بلیوارڈ گلبرگ پر لیٹ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ٹائر اور لکڑیاں جلا کر ٹریفک بلاک کر دی، خواتین سڑکوں پر لیٹ کر پولیس کے خلاف سینہ کوبی کرتی رہیں۔ مظاہرے کی وجہ سے پانچ گھنٹے تک مین بلیوارڈ پر ٹریفک بلاک رہی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے شدید لاٹھی چارج کیا جبکہ مظاہرین کی جانب سے جواباً ڈنڈا لگنے سے ایک کانسٹیبل زخمی ہو گیا‘ غازی آباد پولیس نے مقتول کے ورثاء کو مدعی بنانے کے بجائے ڈی ایس پی سی آئی اے کے بیان پر قتل کا مقدمہ درج کر کے اے ایس آئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے ایف سی کالج کچی آبادی کے رہائشی رکشہ ڈرائیور سرفراز کے مطابق چند روز قبل سی آئی اے سول لائن پولیس اس کے گھر آئی اور الزام عائد کیا کہ اس کا بیٹا بشارت عرف بشارتی مسیح کے خلاف تھانہ وحدت کالونی میں ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے لہٰذا اسے پیش کرو، بشارت گھر میں نہ ہونے پر پولیس اسے زبردستی پکڑ کر تھانہ غازی آباد لے گئی تاہم چھ روز قبل اس نے اپنے بیٹے بشارت عرف بشارتی کو خود سی آئی اے پولیس کے حوالے کیا دو روز بعد تھانیدار اقبال نے بشارت کو چھوڑنے کی ایک لاکھ روپے رشوت طلب کر لی مگر غریب ہونے کی بناء پر وہ رشوت ادا نہ کر سکے‘ گذشتہ روز انہیں اطلاع ملی کہ بشارت کو پولیس نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا ہے وہ نعش لینے تھانے گیا تو پولیس نے اسے بھی کئی گھنٹے تک وہاں بٹھائے رکھا بعدازاں سادہ کاغذات پر انگوٹھے لگوانے اور یہ تحریر لکھوانے کے بعد چھوڑا کہ بشارت تشدد سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ طبعی موت مرا ہے۔ پولیس نے بشارت کی نعش کو پوسٹمارٹم کے لئے بھجوا دیا بشارت کی ہلاکت کے بارے میں علم ہونے پر رشتے دار، دوست احباب اور سینکڑوں محلے دار محلے میں اکٹھے ہو گئے جہاں سے تمام مشتعل مظاہرین جلوس کی شکل میں حفیظ سنٹر پہنچ گئے جہاں مظاہرین نے سڑک کنارے لگے درخت اکھاڑ ے اور ان کو جلا دیا اور بعدازاں مظاہرین ٹائر بھی لے آئے اور ان کو بھی نذر آتش کر دیا‘ اطلاع ملنے پر ایس پی ماڈل ٹائون رانا ایاز سلیم موقع پر پہنچ گئے اور ان کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی جاری رکھی صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مزید نفری طلب کی گئی‘ مظاہرین مسجدوں سے صفیں بھی اٹھا لائے اور سڑک پر بچھا دیں انکا مطالبہ تھا کہ جب تک وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف نہیں آئیں گے احتجاج جاری رہے گا، سی آئی اے پولیس کا کہنا تھا کہ بشارت کی موت پیٹ میں درد ہونے کے باعث ہوئی ہے اس دوران مقامی ایم این اے عمر سہیل ضیا بٹ بھی آ گئے‘ مقتول کی ایک بہن اور پانچ بھائی ہیں۔