ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد!!

30 مارچ 2018

ملالہ یوسفزئی تقریباً چھ برس کے بعد دو روز قبل اسلام آباد ایئرپورٹ اپنی فیملی کے ہمراہ اتریں۔ ملالہ کی فوراً ہی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات ہوئی اور آرمی چیف سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے اور وزیراعظم ہائوس میں ایک بڑی تقریب کے انعقاد کا بھی امکان ہے۔ ملالہ برمنگھم سے آئیں اور خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں۔ ملالہ اب بیس برس کی ہے آج سے چھ برس قبل سے چودہ سالہ بچی کیلئے یہ سارے اعزازات جو کہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں بلاوجہ نہیں ہیں اور پھر ملالہ کا تعلق سوات جیسے علاقہ سے ہے جو بڑا شہر نہیں ہے۔ اب ملالہ نے خود کو تعلیم کے مقصد کے ساتھ جوڑ رکھا ہے جو کہ قابل تعریف بات ہے سب جانتے ہیں کہ ملالہ کو چھ برس قبل طالبان کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد پاکستان سے لے جایا گیا تھا۔ ملالہ کی آمد پر ان کی سکیورٹی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے اور یہ ایک لحاظ سے ضروری بھی تھا۔ ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد پر عوامی سطح پر ملا جلا ردعمل اور ملے جلے جذبات کا اظہار ملتا ہے۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو ملالہ کے موضوع پر بات کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ اس سے بہتر یہ ہے کہ بات کی جائے۔ اختلاف رائے بھی ہو سکتا ہے مگر ملالہ کا تعلق اسی ملک سے ہے لہٰذا محض اس ڈر سے کہ امریکہ نے ملالہ کو’’نوبل انعام‘‘ سے نوازا اور پھر ان کے پورے خاندان کو تحفظ دیا گیا یا پھر یہ کہ انہیں کم عمری میں عظیم مقاصد کے ساتھ کیوں جوڑا گیا ہے؟ لیکن ان سب باتوں پر بات کی جا سکتی ہے۔
ملالہ یوسف زئی کتنی زخمی تھی یا کتنی زخمی نہیں تھیں اس بحث سے الگ ملک میں اس وقت موجود طالبان کے کردار کو سراہنا بھی مشکل ہے اور یہ بات سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جب اس قسم کے لوگوں کو اچانک بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ پاکستان میں جو یہ سلسلہ چلا تھا اور جس کے اثرات اب بھی ہیں تو اس پر آکسفورڈ یونیورسٹی کی شائع کردہ کتاب ’’ایلس ن ونڈر لینڈ‘‘ یاد آتی ہے جو منطق پڑھانے والے پروفیسر لوئیس کیرول نے لکھی تھی اور اس میں بظاہر نہایت ہی غیر منطقی باتیں لکھی گئی تھیں اور اس طرح سے مصنف نے اپنا اور اپنے ارد گرد کے معاشرے میں موجود کرداروں کا تمسخر اڑایا تھا لیکن پروفیسر لوئیس نے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ انسان اپنی غرض کی خاطر عجیب عجیب کام کرتا ہے اور اسی طرح دوسرے انسانوں کو بھی ان کے اعمال کے برعکس نتائج ملتے ہیں‘ مثلاً بادشاہ نے کہا کہ ’’ہمیشہ تمام احتیاطی تدابیر پہلے ہی اختیار کرنی چاہئیں، اسی لئے ہم نے گھوڑے کے ٹخنوں پر لوہے کے چھلے چڑھا دیئے ہیں۔ اس نے بادشاہ سے پوچھا کہ اس کا فائدہ کیا ہے؟ تو بادشاہ نے کہا تاکہ گھوڑا شارک مچھلی کے کاٹے سے بچ سکے اور جب پوچھا گیا کہ گھوڑا تو گہرے سمندر میں نہیں جائے گاتو بادشاہ نے کہا یہ میری اپنی ایجاد ہے‘‘ ہماری دنیا کے منظر نامے پر بھی بعض نہایت غیر منطقی باتیں سامنے آئی تھیں اور جن کی وجہ سے لوگوں کے ذہن ودل میں ابہام پیدا ہوئے تھے لیکن سچی بات یہ ہے کہ کچھ حالات ایسے بھی موجود ہیں کہ گھوڑے کے ٹخنوں پر بھی پہلے سے احتیاطی تدبیر کے طور پر لوہے کے چھلے چڑھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے چاہے گھوڑے کے گہرے سمندر میں موجود شارک مچھلی کی طرف جانے کے امکانات نہ بھی ہوں اور اب جس طرح طالبان کی موجودگی میں یہاں خطرات تھے اور ایک ان دیکھا خوف فضائوں میں تھا اور جس کے بعد ملالہ یوسف زئی کے معاملے کی شدت کو محسوس کیا گیا تھا۔ اسی طرح آج ضروری ہے۔ مسلمانوں کے خلاف خاص طور پر یو۔کے"Punish a Muslim day"جیسی حرکت پر آواز اٹھائی جائے کیونکہ اس دن کو تین اپریل کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے اور جس کی وجہ سے خوف وہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ دنیا میں اب یہ سمجھنا اور سمجھانا بھی ضروری ہو چکا ہے کہ اگر مسلمانوں میں شدت پسندی کے جذبات درست نہیں ہیں تو کسی جگہ یا کسی مذہب یا نظریے میں بھی اس قسم کے جذبات کا اظہار قابل مذمت ہے۔ ورنہ کھلا تضاد یا غیر منطقی حالات پیدا کر کے اپنی اپنی غرض کے مطابق کام کرنے پر انسانی ذہن ابہام کا شکار رہتا ہے اور تبھی یوں ہوتا ہے کہ نفرت اور محبت یا پھر دوستی، دشمنی دونوں طرح کے جذبات پرورش پاتے رہتے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کی شخصیت کو ایک بلند و بالا حصار اور اعزاز بخشا گیا ہے جو کہ کم عمری میں اس کے حصے میں آیا ہے۔
دراصل ملالہ کو بھی کسی بڑے مقصد کیلئے منتخب ہونے کے بعد اپنے بچپنے، اپنی سہیلی اور پھر سوات جیسے خوبصورت کھلے ماحول میں تتلیوں کی طرح اڑنے اورکھلکھلانے کی قربانی دینا پڑی ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں سے متعلق دیگر معاملات میں بھی اپنی آواز بلند کیا کریں اور مخصوص ایجنڈے کے علاوہ انسانیت کی پائمالی پر بھی آواز اٹھایا کریں کیونکہ کسی اور پاکستانی لڑکی کا براہ راست تعلق یونائیٹڈ نیشن جیسے ادارے سے نہیں ہے۔ ملالہ یوسف زئی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ مریکہ اور برطانیہ کے ایوان بالا تک براہ راست اپنی آواز پہنچا سکتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے دئیے گئے اعزازات کی اہمیت اپنی جگہ سہی مگر ان ممالک کو بھی یہ احساس دلایا جا سکتا ہے کہ ہر شخص کے لئے اپناملک اور اپنی مٹی کی اہمیت ہوتی ہے اور جس کے بنیادی مسائل پر آواز اٹھانا ضروری ہوتا ہے لہذا ملالہ کو اپنے مقاصد میں یہ بات بھی شامل کرنا ہو گی کہ Punish a muslim day جیسے دن نہیں منانا چاہئے۔ اس کے علاوہ ملالہ کے تعلیم کے مقاصد کی اہمیت ہے مگر پھر بھی اس خطے میں غیر منطقی انداز اختیار نہیں کیا جا سکتا اور اس قوم کی نظریاتی اساس کو سرے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں لڑکیوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں بچوں اور بچیوں کی تعلیم پر بہت کام ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہمارے گائوں دیہاتوں کے سادہ مزاج لوگوں کے اپنے مذہب، کلچر اور رسم و رواج کے مطابق نظریات ہیں ہمارے نصاب میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے لیکن یہ کام ہر علاقے اور ہر شخص کی شناخت کو مسمار کئے بغیر کیا گیا تو دلوں میں محبت کے چراغ جلائے جا سکتے ہیں۔ یہ راستہ مبہم اور کٹھن ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے … خدا کرے کہ ملالہ آنے والے دنوں میں ایک عام فلائیٹ سے آئیں اور سوات کی ایک خوبصورت لڑکی کی طرح دلوں میں اپنی جگہ بنائے کیونکہ ہر جگہ ان کے لئے ایلس ان ونڈر لینڈ، نہیں ہونی چاہئے۔! اپنا خیال رکھیئے گا!