”میاں چنوں سے ملائیشیا تک“

 بازگشت ....طارق محمود مرزا 
tariqmmirza@hotmail.com
چند ماہ قبل میں ملائشیا کے دورے پر گیا تو وہاں قابل دید مقامات اور خیرہ کن عمارات کے علاوہ کئی باغ و بہار شخصیات سے بھی شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ ایسی ہی ایک پر بہار ادبی شخصیت کا نام محمد بوٹا انجم ہے جو 2013 سے فیملی سمیت ملائیشیا کے سے بڑے شہر کوالالمپور میں مقیم ہیں۔ میں جتنے دن بھی کوالالمپور میں رہا انجم صاحب کی پر رونق صحبت حاصل رہی۔ محمد بوٹا انجم کوالا لمپور کی پاکستانی اور ہندوستانی کیمونٹی میںجانے پہچانے ہیں ۔ خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ شعرو ادب اور سماجی محفلوں کی جان ہیں ۔بذلہ سنج شخصیت، پر لطف گفتگو کے حامل اور بہت اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک ہیں ۔خود بھی شعر کہتے ہیں اور عصر حاضر کی شاعری پر عمیق نظر رکھتے ہیں ۔ نئے اور گمنام شعرا کے ایسے شعر چن کر لاتے ہیں کہ سامع چونک جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں اخبارات اور سوشل میڈیا پر دلچسپ کالم اور مضامین لکھتے ہیں۔ ایسے ہی چنیدہ کالموں پر مشتمل ان کی کتاب ” بزمِ انجم “ 2016 میں شائع ہو چکی ہے ۔ اب بھی وہ گاہے گاہے ایسی دلچسپ تحریریں سامنے لاتے رہتے ہیں جو زیادہ تر ان کے ذاتی تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ان کے ادبب نوازدوست ان تحریروں سے محظوظ بھی ہوتے ہیں اور انھیں سراہتے بھی ہیں ۔محمد بوٹا انجم کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہے۔ انجم صاحب کی نوازش ہے کہ یہ کتاب بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کی جو میں سمجھتا ہوں ایک خوب صورت تحفہ ہے ۔ اس کتاب کا نام ہے ” میاں چنوں سے ملائیشیا تک“۔ یہ کتاب ایک نچلے متوسط کسان خاندان کے فرزند کی جدو جہد حیات پر مبنی ہے جو اس طبقے کے مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے اور اگر کوئی ان مشکلات کے باوجود کمرِ ہمت باندھتا ہے اور ترقی کے زینے پر مردانہ وار قدم رکھتا ہے تو اس کی ہمت اور حوصلے کی کہانی بھی ہے ۔ اور جب یہی نوجوان اپنی جہد مسلسل سے سینئیر انکم ٹیکس آفیسر بنتا ہے تو ہمارے ملک کی نوکر شاہی کا ا ندرونی چشم کشا احوال بھی منصہ شہود پر لاتا ہے ۔یہ نہ صرف سرکاری حکام کا طریقہ حکومت، دفتری سازشیں ، کئی قسم کا تعصب ، سفارش، اقربا پروری اور اس کے بیچ قابلیت و اہلیت کی کشا کش سمیت سفرِ حیات کی ایسی کہانی ہے جو سنسنی خیز بھی ہے اور معلومات کا خزانہ بھی ۔ اسے پڑھ کر لطف بھی آتا ہے اور ہمارے نظام حکومت پر افسوس بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب عوام پر ترس آتا ہے جو اس نظام میں چیونٹی کی طرح مسل دیے جاتے ہیں۔ جن کی کہیں شنوائی نہیں، جو صرف اس نظام کا شکار ہیں۔ اس سے مستفید صرف وہی طبقہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے چاہے وہ دولت کی ہو یا اختیار کی۔ دوسری جانب اس بدقسمت ملک کا خیال آتا ہے جو آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں ہے جہاں اب بھی مخصوص طبقہ بالا دست ہے اور بقیہ غلاموں سے بد تر ہیں ۔
انجم صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس نظام کے اُوپر سے پردہ اٹھا دیا ہے جس سے اس نظام کا مثبت اور منفی، اچھا اور برا ، ہرپہلو نمایاں ہو جاتا ہے ۔ مثبت تو خود مصنف کی کہانی ہے جو مفلس خاندان سے اٹھ کر نا مساعدحالات میں ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے بیسویں گریڈ تک پہنچتے ہیں اور کبھی جس کی جیب میں چنے خریدنے اور بس کے کرائے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے وہ نہ صرف ملک ریاض جیسے بادشاہ گر کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اسی معاشرے کے بالائی طبقے میں پہنچتے ہیں ۔ دبئی اور ملائیشیا میں کاروباری شخصیت بنتے ہیں اور جب بات اپنے مزاج کے خلاف ہو قبل از وقت استعفیٰ دے کے ملازمت چھوڑتے ہیں ۔ دوسری جانب اس معاشرے نے جینے کے لیے جو غلط راہیں متعین کر دی ہیں خود ان کا شکار ہونے کے باوجود وہ ان راہوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور اس رو میں بہنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں جو یقیناً قابل ستائش نہیں ہے۔ یہ نظام کی ناکامی ہے ۔ شاید یہی وجہ کہ سلیم الطبع لوگ ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 
 ” میاں چنوں سے ملائیشیا تک“ تک ایک سول سرونٹ کی سوانح حیات ہی نہیں ہے بلکہ ایک منفرد ادبی شہ پارہ بھی ہے۔اس میں انفرادی اوراجتماعی حالات و واقعات ایسے بیان کیے گئے ہیں کہ نظامِ حکومت اور ملکی تاریخی کی دستا ویز مرتب ہو جاتی ہے۔ اس کتاب کی زبان سلیس ،ادبی رنگوں سے مزین اور شعری حسن سے مرصع ہے ۔ شعروں کے انتخاب اور بر محل محاوروںسے مصنف کے ادبی ذوق و شوق اور زبان پر دسترس کا ا ندازہ ہوتا ہے ۔ قاری ہر دو طرح سے محظوظ ہوتا ہے دلچسپ واقعات سے بھی اور دلکش اندازِ بیان سے بھی ۔ جیسا کہ عطا الحق قاسمی صاحب نے لکھا ہے ” یہ کمال کی داستان ہے اور ان سب لوگوں کے پڑھنے کی آپ بیتی ہے جو صرف خواب دیکھتے رہتے ہیں اور اپنے ان خوابوں کی تلاش خوابوں ہی میں کرتے ہیں ۔ اس آپ بیتی میں سفرنامے کا بھی تڑکا لگا ہوا ہے چنانچہ ایک ٹکٹ میں دو مزے لے سکتے ہیں ۔“ انجم صاحب نے یہ آپ بیتی مختصرمضامین کی شکل میں لکھی ہے اور ان مضامین کے عنوانات سے بھی کتاب کی دلچسپیاں مترشح ہیں ۔ کچھ عنوانات ملاحظہ فرمائیے ۔جنم ایک کاشتکار گھرانے میں ، سونا نوٹوں کی سیج پر، لاہور میں در بدری اور اداکار محمد علی سے ملاقات،پانچ روپے کے قرضِ حسنہ کا حصولِ، وائتھ لیبارٹری لاہور میں مزدوری،بی اے کا متحان اور بس کنڈیکٹری ، قصہ اپنی اوقات میں رہنے کا ، غلطی سے بھارتی ایریا میں ، عمران خان اور ساتھیوں کو میرے ہاتھوں جرمانہ، بنک لاکر کے حصول کا دلچسپ واقعہ ۔
 یوں” میاں چنوں سے ملائیشیا تک“ ایک انتہائی دلچسپ کتاب ہے جو ادب سے شغف رکھنے والے اور حالات ِ حاضرہ پر نظر رکھنے والے ہر طرح کے قاری کو پسند آئے گی۔ میں نے ایک دفعہ اسے پڑھنا شروع کیا تو پھر جب تک مکمل نہیں ہوئی چین نہیں آیا ۔ حقیقت میں اتنے کم وقت میں اتنی ضخیم کتاب کافی عرصے بعد پڑھی ہے جو اس کتاب کی خوبی ہے ۔ جس کا کریڈٹ مصنف کو جاتا ہے جو میری طرح پردیس کی خاک چھاننے پر مجبور تو ہوئے ہیں مگر اس کا ثمر ان کی ادبی کاوشوں کے ذریعے منصہ شہود پر آرہا ہے جو ان کی ہجرت کا مثبت پہلو ہے ۔ بقول ندا فاضلی:
دیس پردیس کیا پرندوں کا 
آب و دانہ ہی آشیانہ ہے