سیاسی جماعتیں قومی اداروں کا تقدس ملحوظ خاطر رکھیں

وزارت قانون و انصاف نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ملکی اداروں پر حملے سے باز رہیں۔ ٹویٹرپیغام میں وزارت قانون و انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف منظم سوشل میڈیا مہم توہین عدالت ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مہم عدلیہ کے خلاف ایک منظم مہم اور حملہ ہے۔
اپنے سیاسی مقاصد کیلئے ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ کو رگیدنا قومی سیاست میں ایک روایت بن چکا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے کسی بھی سیاسی جماعت یا اسکے سربراہ کیخلاف انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ عدالت کی تضحیک اور اسکے تقدس کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ اگر فیصلہ حق میں صادر کردیا جائے تو یہی عدالت انکی نظر میں معتبر ہو جاتی ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ روش ترک نہیں کی جاتی‘ ریاستی اداروں کی رٹ قائم نہیں ہو سکتی۔ قومی اداروں کی تضحیک ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی دور میں ان قومی اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا تشخص بھی متاثر ہوا اور ان اداروں پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوا۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اداروں پر سیاست کرنے یا ان کو رگیدنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایک پالیسی مرتب کرنی چاہیے جس کے تحت قومی اداروں کا احترام اور انکے تقدس ملحوظ خاطر رکھنے کا ہر پارٹی ورکر کو پابند کیا جائے۔ بالخصوص عدلیہ کے صادر کئے گئے فیصلوں پر اسے تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اسکی آئین و قانون بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کسی کو عدلیہ کے فیصلے پر تحفظات ہوں تو اسے اپیل کے ذریعے عدالت کا دروازہ ہی کھٹکھٹانا چاہیے نہ کہ اس پر تنقید شروع کر دی جائے۔

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...