پاکستان کے خلاف مودی سرکار کے نئے ڈرامے کا انکشاف

معروف بھارتی ماہر قانون پرشانت بھوشن نے مودی کے شیطانی منصوبے کا پول کھول دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے مودی سرکار پر پلوامہ اور بالا کوٹ 2.0 کی ریپیٹ ٹیلی کاسٹ کا الزام لگایا ہے۔ ان کے بقول، 2024ء  کے انتخابات سے پہلے مودی سرکار ایودھیہ میں رام مندر پر جعلی دہشت گرد حملہ کروائے گی اور اس دہشت گرد حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر جنگ کی فضا بنائی جائے گی۔ بالاکوٹ کی طرز پر بھارتی فوج آزاد کشمیر میں جعلی زمینی کارروائی کر کے مودی کے انتخابات جیتنے کی راہ ہموار کرے گی۔ مودی سرکار نے 2019ء میں بھی پلوامہ اور جعلی سرجیکل سٹرائیک کا ڈراما رچا کر انتخابات کو متاثر کیا تھا۔ نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتخابات جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیلنا بھارتی سیاسی جماعتوں کا وتیرہ رہا ہے۔ وہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کا خودساختہ ڈراما رچا کر اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام اور اپنے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرکے انتخابات جیتنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ ماضی میں بھی پلوامہ اور بالاکوٹ دہشت گرد حملوں کا خود ساختہ ڈراما رچا کر اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی مگر پاکستان نے بھارت کے اس ڈرامے کے ٹھوس ثبوت عالمی برادری کے سامنے لا کر اس کی یہ سازش ناکام بنا دی۔ آئندہ انتخابات کے موقع پر وہ پھر پاکستان دشمنی کا یہی کارڈ دوبارہ کھیلنے کا پلان بنا رہا ہے جس کا پول بھارتی ماہر قانون نے کھول دیا ہے۔ بھارت دراصل ایسی سازشیں کرکے پاکستان پر ایک نئی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت پاکستان سیاسی اور معاشی اعتبار سے عدم استحکام کا شکار ہے، سیاست دانوں کی آپس کی چپقلش کے باعث ریاستی ادارے بھی کمزور ہوتے نظر آرہے ہیں اور بھارت انھی حالات کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کی سلامتی پر وار کرنا چاہتا ہے۔ مودی سرکار پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیل کر انتخابات میں اپنی جیت کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے جس کے لیے وہ کچھ بھی کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ بھارت کو ایسی سازشوں سے بہرصورت باز رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور بھارت کی معمولی سی شرارت اس خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے۔ 

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...