نئی حلقہ بندیوں پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس میں کہا گیا کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں شفاف اور منصفافہ انتخابات کے لیے ضروری ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حلقہ بندیوں کے لیے ایم کیو ایم پاکستان آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔دوسری جانب، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئینی بہانے نہیں چلیں گے، انتخابات 90 دن میں ہی ہونا چاہئیں۔ آج آئین کی پاسداری نہیں کی تو آنے والی حکومت سے بھی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ادھر، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ90 دنوں سے ایک دن زیادہ بھی الیکشن میں تاخیر قبول نہیں۔ مقررہ آئینی مدت میں انتخابات کے انعقاد کے لیے سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آرہی ہے اس سے ایک نئی محاذآرائی کا آغاز ہو گیا ہے اس لیے آئینی تقاضے کے مطابق نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو 90 دن میں انتخابات کے انعقاد کا بندوبست کرنا چاہیے۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ اس وقت ملک میں آئین بالکل مفلوج ہوا نظر آرہا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی آئین کی ان چند شقوں کو نافذ کرنا چاہتی ہے جس سے اس کا مفاد وابستہ ہے حالانکہ آئین کو اس کی تمام شقوں کے ساتھ پورا نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئین صرف سیاست دانوں کے مفاد کی بات نہیں کرتا، وہ سب کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آئین تو یہ کہتا ہے کہ عام آدمی کے روٹی روزگار کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی ریاست نے ہی فراہم کرنی ہیں مگر آئین کو صرف سیاسی مفادات کی چند شقوں کے گرد گھمایا جارہا ہے اور عام آدمی کے حقوق کی بات کرنے والی شقوں کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ نئی حلقہ بندیوں پر جس طرح سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آرہے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے حالات کا تقاضا یہی ہے کہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن فوری طور پر آئینی مدت میں انتخابات کے انعقاد کا بندوبست کریں تاکہ اقتدار منتخب نمائندگان کے حوالے کیا جائے کیونکہ نگران حکومت عوام کو جوابدہ نہیں ہوتی،ایک منتخب جمہوری حکومت ہی عوام کو جوابدہ ہوتی ہے، لہٰذا نئی حلقہ بندیوں کو جواز بنا کر نگران سیٹ اپ کے دورانیے کو طول دینے کا نہ سوچا جائے۔ اس سے جہاں آئین مفلوج ہو گا وہیں اس سے عوام ریاست، جمہوریت اور ریاستی اداروں سے متنفر ہوں گے۔ 

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...