حضور نبی کریم ﷺکا اسوئہ حسنہ (۱)

باتیں کتنی ہی سچی کیوں نہ ہوں ، ان کی فصاحت و بلاغت کا معیار کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو اور باتیں کرنے والا بڑا سلجھا ہوا کیوں نہ ہو یہ باتیں کانوں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں۔ دل و دماغ ایسی باتیں سننا اور 
قبول کرنا پسند نہیں کرتا جب تک باتیں کرنے والا ان باتوں کی تصدیق اپنے قول و فعل سے نہ کرے۔ باتیں کرنے والے کا خود جتنا زیادہ ان باتوں پر عمل ہو گا اتنی ہی زیادہ وہ باتیں دوسروں کے دلوں میں اتریں گی۔جب دنیا میں ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی ، ہر طرف ظلمت کا بازار گرم تھا ، حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی تھی ایسے میں اللہ تعالی کا دریائے رحمت جوش میں آیا اور بنی نو ع انسانیت کی ہدایت کے لیے عظیم المرتبت کتاب قرآن مجید نازل فرمائی۔ اللہ تعالی نے دعوت حق لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے پہلے اس دعوت کے داعی کا اہتمام فرمایا اور حق کا پرچم لہرانے کے لیے اللہ تعالی نے اپنے حبیب نبی کریم ﷺکو اپنے لطف و کرم میں لے کر پروان چڑ ھایا۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے حبیب! تیرے رب نے تجھے یتیم پایا تو اس نے تجھے اپنی آغوش کرم میں لے لیا “۔ ( سورة الضحی ) 
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ” بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو “۔ ( سورةا لطور)۔ یعنی اے محبوب تو ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ تیری دعاﺅں کا سوزو گداز ، تیرے درد مند دل کی بے قراریاں اور تیرے دن بھر کی مصروفیات سب کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور تیری نگرانی فرما رہے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے ادب سکھایا اور ادب سکھانے میں کمال کر دیا۔ ( کنزالعمال) 
اس ساری تعلیم و تربیت کے بعد اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو ساری دنیا کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ ارشاد باری تعالی ہے ”:بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے “۔یعنی پیغام حق کو جاننا چاہتے ہو تو قرآن مجید کا اچھی طرح مطالعہ کرو اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کے آرزو مند ہو تو حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مشاہدہ کرو۔ قرآن مجید میں جو کچھ پڑھو گے تم حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہو بہو اس کو دیکھ لو گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا اخلاق کیسا تھا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا سارے کا سارا قرآن ہی حضور نبی کریم ﷺ کا اخلاق تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا عمل عام نوعیت کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا عملی نمونہ ہے جس میں حسن بھی ہے اور جما ل بھی اور جس کی اداﺅں کو دیکھ کر دشمن بھی پگھل جاتے ہیں۔ بقول شاعر 
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر