حقیقی تبدیلی کیسے ممکن

18 اگست 2017

ایک طویل عرصے سے دنیا کے مختلف خطوں میں تبدیلی کی گونج سنائی دے رہی ہے ، خصوصا اسلامی ممالک کے حالات پر اگر گہری نظر ڈالی جائے ،تو وہاں اس تبدیلی کا شور کچھ زیادہ ہی برپا ہے ، اس تبدیلی کے سلسلے میں مختلف ممالک میں مختلف نوعیتوں کے مثبت اور منفی اقدامات کئے گئے، نتیجتاً مختلف ممالک میں ان اقدامات کے نتیجے میں یا تو حالات کی کایا بالکل پلٹ گئی ،یا پھر حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے ،عرصہ دراز سے وطن عزیز پاکستان میں بھی مختلف شخصیات کی جانب مختلف نعرے لگاکر تبدیلی کے سنہرے خواب دکھائے جارہے ہیں ، بحیثیت قوم وطن عزیز مین اگر ہم واقعی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تو آج سے چودہ سو سال قبل روئے زمین پر ایک انوکھی تبدیلی کی تاریخ رقم ہوئی،جس کی مثال نہ پہلے کبھی ملی ، اور نہ ہی مستقبل میں اس کی نظیر ملنے کیآثار نظر آتے ہیں ، اس تبدیلی نے صفحہ ہستی پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے ،یہ تبدیلی ایک ایسے خطے میں رونما ہوئی ،جہاں پرجہالت کا دور دور تھا ،ایک خدا کے سامنے سرجھکانے والے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بتوں کے آگے سجدہ ریز ہوتے ، ، جسکی لاٹھی اسکی بھینس ،کاقانون تھا ،عدل وانصاف ناپید تھا ، غیرت کے نام پر معصوم اور ننھی پریوں کو زندہ درگور کرنا معمول کی بات تھی،کسی کی بکری کے دوسرے کے کھیت میں داخل ہونے والی لڑائی کے شعلے صدیوں تک جاری رہ کر پورے پورے قبیلون کو منوں مٹی کے نیچے دبا کربھی ٹھنڈے نہیں ہوتے تھے ،جواں،شراب جیسی بدتریں خصلتیں عام روٹین کا حصہ تھیں،جہالت کی اس انتہا کو پہنچ چکیتھے کہ بیت اللہ کا طواف بھی برہنہ ہوکر کرتے تھے ، تہذیب وتمدن سے اس قدر عاری تھے نہ صرف خود حکومت چلانے ،سفارت کے معاملات سے ناآشنا تھے بلکہ اس وقت کی سپر پاور قوتیں قصر و کسریٰ بھی ان پر حکومت کرنے کو تیار نہ تھے ، ان سنگین حالات میں رب رحیم کی رحمت جوش میں آئی اور انسانیت کی راہنمائی کیلئے بنی آدم کی افضل و ارفع ترین ہستی کا انتخاب فرمایا ،جسکی حیات مبارکہ دنیا آخرت کی ہر کسوٹی پر ہمارے لئے مشعل راہ ہے ،جس نے انکی زندگیوں کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا رفتہ رفتہ اہل عرب کی کایاں پلٹنے لگی ، وہی خدا کے بندے جو کل تین سوسا ٹھ بتوں کے آگے سجدہ ریز تھے ، خداوحدہ لاشریک کی توحید کا دم بھرنے لگے ، وہی قوم جہاں عدل نام کی کوئی چیز نا تھی ، بھری مجلس میں ایک چوری کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے دنیا کے قاضی القضاء رحم?اللعلمین نے یہ ریمارکس دیئے کہ "اگر اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اسکا بھی اس جرم کی پاداش میں ہاتھ کاٹ دیا جاتا "وہی بیٹیاں جنکو زندہ درگور کرنا اس وقت ایک رسم بن گئی تھی ، اسی قوم میں دشمن کی بیٹی جنگ میں قید کرکے لائی گئی جس کے بارے محسن انسانیت کی جانب سے جو سنہرے الفاظ بیان کئے گئے جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ، "بیٹی بیٹی ہوتی ہے چاہے دشمن ہی کی کیوں نہ ہو :اگر آج تم اس کے سر پر چادر رکھو گے ،احکم الحالمین بروزقیامت اپنی عدالت میں تمہارے گناہوں پر پر دہ ڈالیں گے "،وہی قبائل عرب جو قبائلی جھگڑوں کی بناء پر سالہا سال ایک دوسرے کی تلواروں کا نشانہ بناکرتے تھے ،میدان جنگ میں حالت نزع میںاپنے مسلمان بھائیوں کیلئے پانی ایثار کرنے لگے ،وہی لوگ جنکی تلواریں قبائلی تعصبات اور جھگڑوں کیلئے جلتی تھی وہی تلواریں اسلام اور مسلمانوں کی خفاظت کیلئے فضا میں لہرانے لگیں ، وہی قوم جس میں انسانیت کی قدر وقیمت اونٹ سے بھی کم تھی وہی ،،ایک جان کے بے گناہ قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دے کر انسانیت کے مرتبہ و مقام کو بیان کیا گیا ،وہی قوم


جو بیحیائی میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، فرشتے بھی اب ان سے حیا کرنے لگے ، وہی اہل عرب جن پر قیصر و کسری بھی حکومت کرنے کو تیار نہ تھے بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت کرکے ،اسلام کا پرچم لہرا کر ساری دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا ، اور اپنی حکومت کی ایسی دھاک دنیا پر بٹھائی جسکی نظیر دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے ،غرض مختصر ترین عرصے میں ایسی تبدیلی جس نے صفحہ ہستی پر انتہائے گہرے اور کبھی نہ مٹنے والے اثرات نقش کردیئے ہیں، اس تمام تبدیلی کے پیچھے جو بنیادی عامل کافرماہے ،وہ محسن انسانیت کی بنائی گئی پالیساں ، اصول وضوابط اور آپ ? کی سنہری اور روشن تعلیمات ہیں ،جسکی بدولت مختصر ترین عرصے میں اتنی بڑی تبدیلی ممکن ہوئی جس نے لوگوں کے افکار اور دل و دماغ کو بدل کر رکھ دیا ،اور یہی لوگ رہتی انسانیت کے لئے کامیابی اور ناکامی کا معیار ٹھہرائے گئے ،
"خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ھادی بن گئے،
کیا نظر تھی کہ جس نے مردوں کو مسیحا کردیا"
حقیقی تبدیلی خواہ وہ ذاتی سطح پر ہو ، علاقائی سطح پر ہو ، صوبائی سظح پر ہو، ملکی سطح پر ہو ، عالمی سطح پو ہو ، وہ انسانیت کے مسیجا کے سنہری اصولوں ، آپ کی روشن تعلیمات ، اور واضح ارشادات کی بدولت ہی ممکن ہے ،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میںایک طویل عرصے سے تبدیلی کے نام پر ناچ گانے ، بے حیائی ، اورمغربی تہذیب کو مسلط کرنے کی تابڑ توڑ کوششیں کی جارہی ہیں ،وہ انتہائی شرمناک ہے ،اور اگر یہی صورتحال رہی تو ممکن ہے کہ ہم اپنی اسلامی اور مشرقی روایات سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں ، اور تاریخ اسبات کی شاہد ہے کہ جب بھی اقوام نے اپنی تہذیب وتمدن کو نظر انداز کیا ہے ، ذلت وپستی ان کا مقدر بنی ہے ، اگر ہم بحیثیت قوم اپنے ملک میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو یہ انسانیت کے مسیحا ? کی روشن تعلیمات ، پالیسیوں اور سنہری اصول و ضوابط کی بدولت ہی ممکن ہے ،اسی سے ملک حقیقی تبدیلی کے نتیجے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔