ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے ممکنہ اقدامات

تحریر: امتیاز حسین کاظمی
IMTIAZKAZMI@GMAIL.COM

لاہور کے علاقے ڈیفینس ہاوسنگ سکیم میں ہفتے کی شب ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ تیز رفتار گاڑی کو چلانے والا ڈرائیورافنان سکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم اور اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے۔قانونی طور پر و ہ ڈرائیونگ کرنے یا لائسنس رکھنے کا اہل نہیں ہے۔اس افسوسناک واقعہ کے خلاف سوشل میڈیا پر غیر معمولی غم و غصے کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔اس حادثے کو غمزدہ خاندان کی جانب سے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعہ کے پس پردہ محرکات سے قطع نظر حادثے کی جو ظاہری وجہ بنیا وہ ایک کم عمر ڈرائیور تھا جس نے اپنے وڈیو پیغام میں اپنی تیز رفتاری کا اعتراف بھی کیا ہے۔پاکستان میں ٹریفک حادثات کی تعداد میں مسلسل اضافہ تشویش ناک ہے۔رپورٹس کے مطابق ایشیا کے اندر سب سے زیادہ ٹریفک حادثات پاکستان میں رونما ہوتے ہیں جب کہ دنیا بھر میں گاڑیوں کے ہونے والے حادثات میں پاکستان کا 48واں نمبر ہے۔ ہر سال چالیس ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں اپنی جان کھو دیتے ہیں۔ان حادثوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد شدید زخمی جب کہ بیشتر کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی وجہ گاڑیوں کےحادثات کو قرار دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں حادثات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر مجموعی طور پر سالانہ 47.8 ارب روپے خرچ ہوجاتے ہیں جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے معاشی نقصان کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات لاہور اور کراچی میں رپورٹ کئے گئے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب میں روزانہ 750 کےلگ بھگ حادثے رونما ہوتے ہیں جن میں اوسطاََ 9 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔نیشنل روڈ سیفٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں ان حادثات کی ممکنہ روک تھام کے لیے کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو 2030 میں ان واقعات کی تعداد میں 200 فیصد تک اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری اور ڈرائیور حضرات کی دانستہ غفلت ہے۔ملک میں 29.8 فیصد حادثات تیز رفتاری جبکہ 17 فیصد اموات ڈرائیورز کی غیر ذمہ دارنہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔عموماََ بڑی گاڑیوں کے ڈرائیور ز ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے شوق میں بس پر سوار سینکڑوں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کو مذاق سمجھنے لگتے ہیں۔ایسا گھناوناعمل کسی نشے کا عادی یا کسی نفسیاتی عارضے کاشکار شخص ہی کر سکتا ہے۔ایک سمجھدار اور صحت مند آدمی کبھی زندگی جیسی قیمتی چیز کے جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ان حادثات کی ایک وجہ کم عمر ڈرائیورز بھی ہیں۔لڑکپن کو پ±رجوش نادانی کا دور سمجھا جاتا ہے۔کم عمر افراد کے ہاتھ میں اسٹیرنگ تھمانا ایک قابل تعزیر جرم ہے۔ایسی صورتحال میں عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے عمل کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنی کردار ادا کریں۔دوران سفربے لگام ڈرائیونگ پر ڈرائیور کو اس عمل سے باز رکھنے کے لیے سختی کا مظاہرہ کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے حادثات کی ممکنہ روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اور موثرقانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ریس لگانے والے ڈرائیورز کو ایک بار وارننگ دینے کے بعد دوبارہ ارتکاب کرنے پر ان کا لائسنس کچھ عرصے کے لیے معطل اور بار بار جرم کرنے پر ہمیشہ کے لیے کالعدم قرار دیا جانا چاہئے اور سخت سزا دی جانے چاہئے کیونکہ یہ عمل عمدا اقدام قتل سے کم نہیں ہے۔کم عمر اور غیر لائسنس یافتہ افراد کو پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔ٹریفک پولیس کو ذمہ دارانہ کردار ادر کرتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے چاہئے۔ پنجاب میں ایک طرف تو موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر دو ہزار روپے جرمانے کرنے کا حکم ہے جہاں صرف ایک شخص کی زندگی کا رسک ہے تو پھر ایسے شخص کو کیسے آزاد چھوڑا جا سکتا ہے جو بیسوں افراد کی زندگیوں سے کھیلنے کی ٹھان لے۔ایسی پبلک سروس گاڑیوں کے مالکان جو اپنی گاڑیاں اور سواریاں کم سن ڈرائیوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ان پر مقدمات قائم کر کے اس غیر قانونی عمل کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی ایک وجہ پبلک سروس گاڑیوں کی غیر تسلی بخش حالت بھی ہے۔ملک کی اہم شاہراوں یا پہاڑی علاقوں میں ہونے والے اکثر حادثات کی وجہ بریک کے فیل ہونے، ٹائی راڈ کے کھل جانے یا پھر ٹائڑ کے پھٹنے کو قرار دیا جاتا ہے۔یہ امر انتہائی افسوس ناک ہےکہ پبلک ٹرانسپور ٹ اپنی ناقص حالت کے باوجود سڑکوں پر دور رہی ہوتی ہے حالانکہ ان کی جانچ پرتال اور تفصیلی معائنے کے بعد فٹنس کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا ادارہ بھی موجود ہے۔گاڑیوں کے معائنے اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل اگر مکمل طور پر شفافیت اور دیانتداری سے کیا جائے تو ٹریفک حادثات کے واقعات میں کافی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر کسی گاڑی کا حادثہ اس کی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آتا ہے تو اس افسر کے خلاف بھی کارروائی ہونی بنتی ہے جس نے گاڑی کی جانچ پرتال کرنے کے بعد اسے تسلی بخش قرار دے کرفٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا۔نیند کی حالت میں ڈرائیونگ بھی خطرے سے خالی نہیں۔طویل سفر کے دوران ڈرائیورز پر نیند کا غلبہ کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ایسی صورتحال میں ڈرائیور اور سواریوں دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئےکچھ دیر کے لیے ڈرائیونگ میں وقفہ کر لیں۔ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال منع ہے لیکن اکثر اوقات لاپرواہی برتی جاتی ہے جو انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔پاکستان میں ٹریفک قوانین تو موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عمل درآمد میں سنجیدہ پن کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے بھی اس سختی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا تو کیا جانا چاہئے۔پاکستان میں نافذ قومی وہیکل آرڈیننسز ٹریفک کا نظام منظم کرنے کےلیے بنائے گئے تھے ان میں بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ موجودہ وقت کے تقاضوں اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں جدت لانے کی بھی ضرورت ہے۔