NO TENSION

15 فروری 2010
اگر آپ کسی کام سے کہیں جا رہے ہوں اور گھر سے پاوں باہر نکالتے ہی کوئی کالی بلّی آپ کا راستہ کاٹ جائے تو جان لیں کہ وہ کالی بلّی بھی کسی کام سے کہیں جا رہی ہے! اور اس کا آپ سے یا آپ کے کام سے کوئی لینا دینا نہیں! لہٰذا : NO TENSION
البتہ اگر آپ دونوں کسی ایک ہی ’چوہے‘ کی تلاش میں نکلے ہیں تو بھی یہ جان رکھیں کہ بلّی آپ سے کہی پہلے وہ ’چوہا‘ لپک لے جائے گی! دوسرے لفظوں میں آپ کو ایک بڑی زحمت سے بچا لے گی! اور یقیناً یہ کام آپ نہیں کر پائیں گے! لہٰذا کالی بلّی کے راستہ کاٹنے پر سہم جانا صرف اُن لوگوں کے لئے درست ہے‘ جنہیں ’شکار‘ اپنے ہاتھوں کر کے ’کھانے‘ کی عادت ہو!
بھارت سے خبر آئی ہے کہ وہاں زندہ رہنے کی ’اداکاری‘ کرنے والی اچھوت برادری کے ’بچوں‘ نے چوہے مار مار کر انہیں کاٹھ کباڑ کی آگ پر بھون کر ’بار بی کیو‘ کا لطف اٹھانا شروع کر دیا ہے! یہ بھارت کی حالتِ زار کی صرف ایک تصویر ہے! پسے اور کچلے ہوئے لوگوں پر جینے کے راستے بند کر دیے جائیں تو وہ ’جینے کی اداکاری‘ کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں! خواہ وہ بے چارے ’اچھوت‘ ہوں یا ’نیک نہاد برہمن‘ ۔
پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ اصل ہندومت سے جڑے ہوئے ’برہمن‘ بھارت میں اچھوتوں سے بھی زیادہ مشکل زندگی گزار رہے ہیں! ’برہمن‘ ہونے کے ناتے وہ کوئی ’کام‘ بھی نہیں کر سکتے اور صرف ’ایشور‘ پر یقین رکھنے اور ”اوم‘ اوم“ پکارنے والے ان ’برہمنوں‘ سے بھارتی ہندو برادری کو لینا دینا رکھنا پسند نہیں فرماتی!
’بھارتی فلموں‘ کے نوجوان پاکستانی شائقین بھارت کے لئے اعلیٰ ترین تصورات رکھنے کے باعث ایسی ’باتوں‘ اور ایسی ’خبروں‘ پر کان تک دھرنا پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ پاکستان کی بزرگ نسل کے ’تعصبات‘ ہیں اور یہ تعصبات تو اب ’توہمات‘ جنم دینے لگے ہیں! یہ ’خبریں‘ اور ’تصویریں‘ محض ’تجسیمِ وہم‘ ہیں! لیکن جناب عامر خان اور جناب شاہ رُخ خان کے خلاف ’بھارتیہ جنتا‘ یا ’جنگ آزما آبادی‘ نے محاذ کھول کر انہیں بھی اُنہی تعصبات‘ توہمات اور ’تجسیمِ وہم‘ کا شکار کر ڈالا ہے‘ جسے ہم اپنے ذاتی علم کو گواہ بنا کر اُن تک نہیں پہنچا سکے تھے!
نوجوان پاکستانی کے ذہن میں ’ہندو تعصب‘ کی حقیقی تصور محض یوں نہیں کھنچ پاتی کہ ان میں سے بیشتر ’بنگلہ دیش‘ کے قیام کے بہت بعد پیدا ہوئے اور اُنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ حویلی کبھی ’فاصلوں کے رقبوں پر‘ دوریوں میں پھیلی تھی۔‘
’مطالعہ پاکستان‘ میں قائداعظمؒ کے 17 نکات‘ پھر 14 نکات پیش کئے جانے اور اُس پر ’کانگریس‘ کے ردعمل کے بارے میں وہ سرے سے کچھ نہیں جانتے! وہ اقبالؒ کے خطبات سے آگاہ ہی نہیں! وہ اسلام کے اندر رواج پا جانے والے مذہبی تصورات کی تشکیل نو کے سلسلے میں اقبالؒ کے ناقابل فراموش کام سے بھی واقف نہیں! وہ ’فرقہ وارانہ اعتقادات‘ سے زیادہ کسی بات سے بھی آگاہ نہیں! کیونکہ ہمارا نصاب ’جدید‘ اور ہماری زبان ’انگریزی‘ کی جا چکی ہیں!
دنیا بھر میں ’سہ لسانی‘ زبان دانی پر عمل ہو رہا ہے! ایک اُن کی اپنی قومی زبان مثلاً نارویجیئن‘ دوسری عالمی رابطے کی زبان ’انگریزی‘ اور تیسری کوئی اور ’زبان‘ مثلاً جرمن‘ فرانسیسی‘ اردو‘ فارسی‘ عربی‘ چینی‘ جاپانی! بچہ صرف زبان کا نام لکھ دے‘ وہ زبان پڑھانے کے لئے اسے استاد مہیا کرنا اس ملک کی حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے!
’اردو‘ چھوڑ کر ’انگریزی‘ کے پیچھے بھاگنے والے انگریزی ذریعہ تعلیم کے اداروں سے ہی سبق سیکھ لیں کیونکہ وہاں بھی اردو لازمی مضمون کے طور پر سکھائی اور پڑھائی جاتی ہے! کیونکہ انہیں بھی اسی ملک میں رہنا ہے اور ہم جیسے ’عام‘ لوگوں سے رابطہ بھی رکھنا ہے اور ہم جیسے لوگوں سے ’کام‘ بھی لینا ہے۔ بلاشبہ‘ جن کے پاس سب کچھ ہے‘ وہ انہیں لوگوں کی بدولت ہے‘ جو اُن کے لئے کام کرتے ہیں۔ کاش! یہ بات ہمارے حکمرانوں کے ذہن میں بھی آ جائے تاکہ وہ بھی کہہ سکیں :NO TENSION