بقر عید ہندوستان میں 

اُڑانِ شاہین 
حفیظ اللہ خان 
 ایک کہاوت ہے کہ قرآن عربوں میں نازل ہوا مصریوں نے اسے خوش الحانی سے پڑھااور ہندوستانیوں نے اْسے گلے سے لگایا۔ ہمارے مذہب کی رو سے شعائر اللہ کو دنیاوی وجاہت یا نفع کی عوض میں بیع کر دیناہر گز جائز نہیں قران پاک میں اس کا باقاعدہ تذکرہ ہے اور ایسا کرنے والوں کے لئے نہایت سخت وعیدیں مذکور ہیں۔ ایسی حالت میں یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ گائے کی قربانی سے جو ہمارا مذہبی حق ہونے کے علاؤہ شعائر دین سے ہے ہم اس بنا پر دست بردار نہیں ہوسکتے کہ اس کی عوض میں ہنود ہم سے خوش ہو کر ہمارے بہت سے سیاسی مطالبات کو تسلیم کر لیں گے یا کسی خاص مسئلہ میں ہمارا ساتھ دیں گے۔
شایدشرعی اصول کی ناواقفیت کی وجہ سے یا قومی یک جہتی کی وجہ سے بعض مرتبہ مسلمان ہندوؤں کے مذہبی جلوس میں شرکت کرتے ہیں اس کا انتظام کرتے ہیں اور چندے دیتے ہیںتاکہ قومی ہندو مسلم اتحاد برقرار ہو۔
یہ ہیں وہ اصول جن پر مسلمان من حیث القوم قائم ہیں تاکہ سیاسی اتحاد کی جو عمارت کھڑی ہے اس کی بنا غلط توقعات پر نہ ہو۔ اب میں ان سے ہر ایک بات کے متعلق کسی قدر تفصیل سے گفتگو کروں گا اور آخر میں یہ بتلاؤنگا کہ میری رائے میں ہندو مسلم اتحاد کی تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔
جناب وزیراعظم! میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ قربانی شعائر اللہ میں سے ہیں اور ہم محض ہنود کی خوشنودی یا پولیٹیکل وجوہ پر اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ یہ مسئلہ فی الحقیقت نہایت اہم ہے اور میں اس بات کا خواہشمند ہوں کہ آپ اسلامی نقطئہ خیال کو سمجھنے کی پوری کوشش فرمائیں اور ہمارے مذہبی احکام پر غور کرنے کے بعد یہ رائے قائم کریں کہ بحالت موجودہ آپ کو اور آپ کی قوم کو اس خاص مسئلہ میں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے تاکہ جو نامناسب مطالبات اس وقت محض ناواقفیت کی بنا پر کئے جارہے ہیں ان کا سدباب ہو سکے اور ملک کو چین نصیب ہو۔اس عریضہ میں، میں چند باتیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ان پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔
1 سب سے پہلے یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ ہر مسلمان مرد وعورت پر جو صاحب نصاب ہو عید الاضحی میں قربانی واجب ہے اور ہماری شریعت میں اس کا یہ معیار ہے کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو وہ مالدار سمجھا جائے گا۔ مینڈھا، بھیڑ، بکری وغیرہ فی کس ذبح کرنا چاہئے لیکن گائے، بیل اونٹ وغیرہ میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔
2 ہنود کی جانب سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب کسی خاص قسم کے جانور کی قربانی ضروری نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ پھر مسلمان بھیڑ بکری ذبح کرکے ان کا دل کیوں نہ خوش کریں؟ اس کا جواب میں کئی طریقوں پر دوں گا۔
 (الف) اول یہ کہ ایک بکری کی قیمت ( فرض کریں)پندرہ ہزار روپے سے کم نہیں ہوتی اس لئے اگر ایک خاندان میں سات آدمی قربانی چاہتے ہیں تو انھیںایک لاکھ پانچ ہزار روپے صرف کرنا پڑیں گے اور اگر یہی لوگ گائے ذبح کر کے اس مذہبی رکن کو ادا کرنا چاہیں گے تو ایک ایک جانور جس کی قیمت سترہزار ہوگی سب کے لئے کافی ہے گویا فی کس کی دس ہزارروپے خرچ ہوئے اب آپ ہی فرمائیے کہ یہ کیا انصاف ہے کہ اس گرانی کے زمانہ میں ایک مفلس قوم کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ جو کام تم ستر ہزار روپے میں کرسکتے ہو اسے ہماری خاطر سے ایک لاکھ پانچ ہزارروپے میں کرو۔ آپ اپنے وسیع تجربہ کی بنا پر جانتے ہوں گے کہ اقتصادی معاملات میں محض جذبات سے کبھی کام نہیں چلتا کیوں کہ دنیا کے لوگ عموماً اپنے فائدہ کا خیال مقدم رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہندو مسلم اتحاد میں شگاف پڑ رہاہے ایسی حالت میں توقع کرنا کہ مسلمان محض جذبات کی پیروی میں اپنے مالی نفع کا خیال نہ کریں گے بیجا ہے۔
(ب) بکری کا گوشت بمقابلہ گائے کے گوشت کے لطیف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے اس لئے باوجود مسلمہ کفایت کے جس سے ہر مسلمان گائے کی قربانی کرکے مستفید ہو سکتا ہے یہ دیکھا جاتا ہے امراء رؤساء ہمیشہ بکری کو ترجیح دیتے ہیں اس سے یہ صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ جب کوئی شخص گائے کی قربانی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے زیادہ تر یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مالی حالت سے مجبور ہو کر ایسا کرتاہے۔
۔(ج) قربانی محض اللہ تعالیٰ کے تقرب اور رضاجوئی کی نیت سے کی جاتی ہے اور ہر شخص مختار ہے کہ جس قسم کا جانور چاہے اس مقصد کے لئے ذبح کرے لیکن اگر کوئی مسلمان جانور کے انتخاب کے وقت ہنود کی خوشنودی مدنظر رکھے اور بکری کو اس نیت سے ذبح کرے کہ اس کا یہ فعل ہنود میں بنظر استحسان دیکھا جائے گا اور ان کے تقرب و باہمی اتحاد کا ذریعہ بنے گا تو یہ قربانی خالصاً للہ نہ رہے گی اور شرعاً قابل قبول نہ ہو گی۔ اس لئے ہم سے یہ توقع رکھنا کہ ہم ہنود کی رضا جوئی کی نیت سے بکری کی قربانی کرکے نہ صرف اپنا روپیہ برباد کریں گے بلکہ عنداللہ مواخذہ دار بھی رہیں گے،یہ ایک فضول سی بات ہے۔کیا اس توضیح سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قربانی سے ہمیں صرف خدائے واحد کی خوشنودی مدنظر ہے نہ کہ کسی قوم کی دل آزاری۔رہا جانور کا انتخاب یہ ہمارے وسائل آمدنی پر منحصر ہے اور اس میں ہم شرعاً مختار ہیں ہم اس بات کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ آیا ہم گائے کی قربانی کریں گے یا اونٹ و بکری وغیرہ کی اس میں کسی قسم کے دباؤ کو دخل نہ ہونا چاہئے اور نہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ مسلمانوں کو مجبور کرے کہ ہم اس کفایت سے فائدہ نہ اٹھائیں جس کی ہماری شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ جب ایک خاص جانور کے ذبیحہ کی ممانعت کردی گئی تو ہم صاحب اختیار نہ رہے جو ہمارے مذہبی حق میں ایک ناجائز مداخلت ہے۔
3 دوسرا اعتراض ہنود کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ گائے کی قربانی سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے لیکن حالات و واقعات پر غور کرنے کے بعد ہر انصاف پسند شخص یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگا کہ مسلمان اس معاملہ میں بالکل بے قصور ہیں اور اس سلسلہ میں چند باتیں عرض کروں گا جو قابل غور ہیں۔
(الف)کیا سال بھر لاکھوں گائے ذبح نہیںہوا کرتی ہیں اور ان کا گوشت چڑیاگھر کے شیروں اور اور درندوں کو نہیں کھلایا جاتا؟ لیکن اس پر بلوے نہیں ہوتے البتہ جب مسلمان گائے کو بقر عید کے موقعہ پر ایک مذہبی رکنی کی ادائیگی کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ذبح کرتے ہیں تو ہنود کو وجہ اشتعال ہوتی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ہمارے مذہبی اصول میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں ہم تو صرف خاموشی کے ساتھ اپنا مذہبی فرض ادا کرنا چاہتے ہیں اور ہنود ہمیں جبراً روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
(ب) قربانی ہمارا مسلمہ شرعی حق ہے اور ہمیں اپنی شریعت کے مطابق کامل اختیار ہے کہ اس مقصد کے لئے جس جانور کو چاہیں ذبح کریں پھر فرمائیے کہ زیادتی کرنے والا کون سافریق ہے وہ جو ہمارے مذہبی حق کو جبراً روکتا ہے یا وہ جو اس حق کے نفاذ سے جائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
(ج)اگر ہنود کو گاؤکشی سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ بکری کی قربانی کیا کریں اس کے متعلق میں ایک نہایت موٹی سی مثال پیش کرتا ہوں اور آپ کی انصاف پسندی پر بھروسہ کر کے آپ ہی سے فتوے کا خواستگار ہوں فرض کیجئے کہ آپ کے گھر میں کئی دروازے درآمداور برآمد کے ہیں اور آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ جدھر سے چاہیں باہر نکل کر جائیں لیکن آپ کے گھر کے مغربی دروازے پر آپ کی عبادت گاہ ہے جہاں آپ ہر روز صبح کو یاد خدا کے لئے جایاکرتے ہیں۔ اس دروازے کے پاس ایک مسلمان رہتا ہے اور وہ حسب ذیل دو اعتراضات آپ پر کرتا ہے۔
اول تو یہ کہ آپ صبح کو اپنے مغربی دروازہ سے نکل کر مندر جاتے ہیں تو محض اس خیال سے کہ وہاں پہنچ کر میرے خدائے واحد کے ساتھ جو میرا معبود ہے شرک کریں گے مجھے سخت روحانی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اس رخ مسلمانوں کا قبلہ ہے اس لئے آپ اس دروازے کو مطلقاً استعمال نہ کریں بلکہ مشرقی سمت سے آمدورفت رکھئے کیونکہ آپ کے مذہب میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ فلاں مندر کو جانا تو مغربی سمت سے جائیں کیا آپ اس کی جواب میں یہ نہ کہیں گے کہ میاں مجھے کیا غرض پڑی ہے کہ میں تمہاری توحید پرستی کے جذبات کا خیال کرکے قریب کا رستہ جسے استعمال کرنے کا مجھے کامل حق حاصل ہے چھوڑ دوں اور الٹا چکر لگا کر اپنی عبادت گاہ کو طویل راستے سے جاوں۔ رہی تمہاری روحانی تکلیف اس کا میرے پاس کچھ علاج نہیں ہے تو میں اپنے معبودوں کی رضا جوئی کے لئے ان کی آگے سر جھکاتا ہوں مجھے نہ تمہاری دل آزاری مقصود ہے نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ تم میرے ہم خیال بنو اگر تمہیں شرک سے ایسی ہی نفرت ہے تو خوامخواہ صبح نکل کر مجھے دیکھتے ہی کیوں ہو؟ اگر یہ جواب آپ کا معقول ہے اور آپ باوجود متعدد دروازے ہونے کے بہ نظر سہولت اپنے حق درآمدوبرآمد کا نفاذ مشرقی دروازے ہی سے چاہتے ہیں تو پھر ہمارے گلے پر کیوں چھری چلائی جاتی ہے کہ ہم گائے کی قربانی کے جائز حق کو جو کم خرچ اور بالا نشین ہے چھوڑ کر گراں قیمت بکرے ذبح کریں یہاں پر یہ بھی ذرا خیال فرما لیجے کہ اگر آپ کے حق کو جبراً روکنے کی کوشش کی جائے تو آپ کے قلب پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
' عیسیٰ بدین خود موسیٰ بدین خود''۔ اب بھی آپ کے اور بہت سے معبود ہیں جو روزانہ ہمارے تصرف میں آتے رہتے ہیں اور اس پر کوئی چیخ پکار نہیں ہوتی۔ مثلاً آب گنگا جو آپ زمزمیوں میں بھر بھر کر سینکڑوں میل تبرکاً لیجاتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے عام سی پانی ہے پیپل کے درخت کی آپ عبادت کرتے ہیں اور ہم اسے کاٹ کر جلا ڈالتے ہیں وغیرہ وغیرہ پھر گائے میں کیا خاص بات ہے جو آپ لوگوں کو اس معاملہ میں اتنی کراہٹ ہے۔
اب آخر میں میں گاندھی جی کا قول نقل کررہاہوں جو کہاتھا ،کہ کسی ملک کے مہذب ہونے کے دعوے کی صداقت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ کیسارویہ اختیار کرتاہے۔ فیصلہ آپ کریں۔  
   حفیظ اللہ خان

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...