بدھ‘ 5 ذو الحج 1445ھ ‘ 12 جون 2024

سب جانتا ہوں ٹیم میں کیا چل رہا ہے۔ کرکٹ ٹیم میں ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ محسن نقوی۔ 
اس وقت سرجری کی ضرورت کہاں ہے اور کس کو ہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں۔ پی سی بی میں کیا ہوتا ہے کیا ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے۔ کھلاڑیوں کے درمیا ن گروپ بندی اور دوستیاں نبھانے کی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ کرکٹ بورڈ والے بھی پسند ناپسند اور اقربا پروری سے محفوظ نہیں۔ اب کرکٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ کیا چیئرمین پی سی بی اپنی یااپنے ادارے کی سرجری کا بھی اہتمام کریں گے یا سارا زور کھلاڑیوں کی سرجری پر ہو گا۔
 ویسے کون سا سرجن یہ کام کرے گا۔ہمارے ہاں خود کو بچایا اور دوسروں کو لٹکایا جاتا ہے۔ بے شک ٹیم سے باہر بھی اچھے کھلاڑی موجود ہیں ہمارے پاس بہت ٹیلنٹ ہے۔ مگر کیا کریں ہم نے رشتہ داریاں اور دوستیاں بھی تو نبھانی ہیں۔ سو وہ ہم نبھاتے ہیں۔ آج تک کسی نے ہمارا کیا بگاڑا جو اب بگاڑے گا۔ ویسے بھی محسن نقوی کے پاس ذمہ داریاں بہت ہیں۔ وہ اب پی سی بی کو سنبھالیں گے یا وزارت داخلہ کو۔ اس کا فیصلہ وہ خود کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ کہتے ہیں ناں....جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اب پی سی بی کو پروفیشنل کل وقتی چیئرمین کی ضرورت ہے جو اس کو سنبھال سکے۔
 اب چونکہ چیئرمین کہہ رہے ہیں انہیں سب پتہ ہے ٹیم میں کیا چل رہا ہےتو ٹی 20 میں شرکت سے قبل اس کا سدباب کیوں نہ کیا گیا۔ اس وقت تو شاید چھوٹی سرجری سے بھی کام چل جاتا۔ عوام منتظر ہیں کہ اب وہ کونسا تیر چلائیں گے جس کے بعد آسمان سے پھول برسیں گے۔ فی الحال تو ورلڈ کپ چل رہا ہے۔ اس کا انجام دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ 
پیپلز پارٹی کو بجٹ پر اعتماد میں نہیں لیا۔ خورشید شاہ۔ 
اب یہ بے اعتمادی ہے یا مشکل بجٹ پر عوامی ردعمل سے جان چھڑانے کی کوشش۔ ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتحادی جماعتیں بجٹ پر صلاح مشورہ نہ کریں۔ اس سے قبل اسی طرح پنجاب میں بھی ہتک عزت بل کی منظوری پر شدید ردعمل سامنے آنے پر پیپلز پارٹی نے، جس کا پنجاب میں گورنر ہے، نہایت آسانی سے سارا ملبہ حکومت پنجاب یعنی مسلم لیگ (نون) والوں پر گرایا ہے کہ یہ بل انہوں نے پی پی کے گورنر کی غیر موجودگی میں منظور کرایا ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس بل کے خلاف ہیں۔ اب یہی ڈرامہ لگتا ہے بجٹ کے حوالے سے بھی ہو گا اور پی پی والے نہایت صفائی سے اس کی منظوری کا ملبہ مسلم لیگ نون والوں پر ڈال کر خود کو صاف دامن قرار دیں گے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی مہربانی سے اس بار بھی بجٹ کسی صورت عوام دوست نہیں ہو گا۔
 ابھی بجٹ سے پہلے ہی اس کے خلاف جو ہوا چل رہی ہے اس سے عوام کے موڈ کا پتہ چل رہا ہے۔تاجر،کارخانے دار، مزدر، کسان ،دکان دار سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔اسی لئےپیپلز پارٹی والوں کو کیا پڑی ہے کہ اس کھیل میں حصہ لیں اور مفت کی بدنامی مول لیں۔تو جناب اسی لئےوہ اب کنارےپہ بیٹھ کرلطف اٹھا رہے ہیں اور تماشہ دیکھنے کو ترجیع دے رہے ہیں تاکہ عوام کے غیض وغضب سے محفوظ رہ سکیں۔
تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں 140 فیصد اضافے کا فیصلہ۔
 شکر ہے کسی حکومت کو ایسا کرنے کا خیال آیا ورنہ تعلیم پر بجٹ میں آٹے میں نمک کہہ لیں یا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر رقم رکھی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ سرکاری شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ نجی تعلیمی ادارے دیکھ لیں ان کے بجٹ دیکھ لیں کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ وہ فیسوں کے نام پر کتنا منافع کماتے ہیں۔ وزیر اعظم کی ذاتی ہدایت پر تمام اداروں میں طلبہ کو مزید سہولتوں کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
 گزشتہ سال 2023ءکے بجٹ میں 8 کروڑ 50 لاکھ روپے رقم وزارت تعلیم کیلئے مختص تھی اس سال 2024ءمیں 20 ارب 25 کروڑ مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام میں کیا گیا ہے۔ جب تک ہم تعلیم کو اس کا جائز حق نہیں دیتے ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی کمی رہے گی۔
 سچ تو یہ بھی ہے کہ جس ملک میں، معاشرے میں قدم قم پر مزارات اور تکیے ہوں وہاں ملنگ تو پیدا ہو سکتے ہیں سائنسدان ، ڈاکٹر اور انجینئر نہیں۔ اب خدا کرے یہ رقم صحیح ہاتھوں میں آئے اور واقعی ہمارا نظام تعلیم ترقی کی راہ پر گامزن ہو ہم نے تعلیم کے میدان میں آگے نہ بڑھ کر بہت وقت ضائع کر دیا ہے ورنہ آج ہم بہت آگے ہوتے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں آج بھی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی منفرد مقام پر نظر آتے ہیں یہ نامساعد حالات میں بھی آگے بڑھے ہیں۔ اگر واقعی ہمارے طلبہ کو بہتر حالات اور سہولتیں میسر ہوں تو وہ جگہ جگہ اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ 
مودی کابینہ میں پرانے مسلم دشمن وزیر برقرار۔
مودی کی نئی کابینہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔ چن چن کر انہی موذی عناصر کو وہی وزارتیں دی گئی ہیں جن پر وہ پہلے سے کام کرتے رہے ہیں۔ وہی امیت شا وزیر داخلہ۔ وہی راج ناتھ وزیر دفاع۔ ان ناموں سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نریندر مودی اپنی وہی پرانی حکومتی پالیسیاں جاری رکھیں گے جن کی بنیاد پاکستان اور اسلام دشمنی پر ہے۔
 دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے نہایت خلوص سے انہیں مبارکباد دی۔ مگر صاف پتہ چل رہا ہےمودی کی حکومت اپنی روش نہیں بدلے گی۔ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ جبھی تو انہوں نے پاکستان اور چین کے سربراہان مملکت کو تقریب حلف برداری میں دعوت تک نہیں دی۔ البتہ نیپال، مالدیب ، بھوٹان جیسے ممالک کو یاد رکھا۔ اس کے باوجود کسی بڑے عالمی رہنما نے ان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ سعودی عرب نے بھی دعوت کے باوجود آنا گوارا نہیں کیا۔ شاید مودی کی طرف سے مسلمانوں کو ”گھس بیٹھیے“ جارح قرار دینے کی وجہ سے عرب اور اسلامی ممالک کو بھی مودی کی ذہنیت کا اندازہ ہو گا ہے۔ اس لیے حلف برداری میں ان کا بجھا بجھا سا چہرہ اور اڑی اڑی سی رنگت ان کی اندرونی حالت کی عکاسی کر رہی تھی کہ اب وہ زخم خوردہ سانپ کی طرح مسکینی کی چادر اوڑھ کر کوئی نیا شیطانی منصوبہ سوچ رہے ہوں گے۔خدا مسلمانوں کو اس کے شر اور ضر سے محفوظ رکھے۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...