پشاور: فائرنگ کا تبادلہ، 4 اہلکار شہید، ٹی ٹی پی گورنر کمانڈر سمیت 3 دہشتگرد ہلاک

 کراچی ‘اسلام آباد‘پشاور (خبرنگارخصوصی‘نوائے وقت رپورٹ) خیبر پی کے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کئے گئے ایک آپریشن کے دوران ہائی پروفائل دہشتگرد سمیت تین ملک دشمنوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران چار جوان بھی شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع پشاور کے علاقے حسن خیل میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کی طرف سے مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر عبدالرحیم سمیت تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد کمانڈر عبدالرحیم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا اور حکومت نے اس پر 6 ملین روپے کی ہیڈ منی مقرر کر رکھی تھی، مجرم دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہا، اور کیپٹن حسین جہانگیر شہید اور حوالدار شفیق اللہ کی شہادت کا بھی ذمہ دار تھا جو 26 مئی 2024 کو شہید ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے نتیجے میں افسروں اور جوانوں کی شہادت کا نہ صرف بدلہ لیا بلکہ مرکزی مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں بھی لایا گیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران چار بہادر سپوت، سپاہی محمد ادریس (عمر: 34 سال، رہائشی ضلع صوابی)، سپاہی بدام گل (عمر: 34 سال، رہائشی ضلع کوہاٹ)، سب انسپکٹر تاجمیر شاہ، (عمر: 38 سال، رہائشی: ضلع پشاور) اور سی ٹی ڈی خیبرپختونخواہ کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد اکرم (عمر: 34 سال، ساکن ضلع مانسہرہ) نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پاکستان بھر میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔کراچی ‘سی ٹی ڈی انویسٹی گیشن پولیس نے اتحاد ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درہ آدم خیل کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد نے محرم الحرام کے دوران اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اورنگی ٹاؤن میں ماتمی جلوس پر خودکش حملہ کروانے کا اعتراف کیا ہے۔ گرفتار ملزم نے خود کش حملے کے لئے اپنے ساتھی و رشتہ دار اسحاق کے ساتھ ملکر منصوبہ بندی کی تھی۔ گرفتار دہشت گرد نے خیبر ایجنسی میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 16 مزدوروں کو تاوان کی رقم نہ ملنے پر قتل کر کے ان کی نعشیں علاقہ گل تنگی جواکی میں اجتماعی قبر میں دفنا دی تھیں۔ گرفتار دہشت گرد کا بیٹا فوج سے مقابلے میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہو چکا ہے۔ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے ایک کلاشنکوف‘ 2 ہینڈ گرنیڈ‘ آر ڈی ایکس بارودی مواد اور ایک آئی ای ڈی برآمد ہوئی ہے۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...