نیا سیاسی پلیٹ فارم، کال ریکارڈنگ اور فوجی جوانوں کی شہادتیں!!!!!!

سب سے پہلے وطن کے دفاع کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ دفاعی اداروں کے جوان ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شور ہے۔ مہنگائی کا طوفان ہے، بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت انتہا پر ہے، سیاسی قیادت کی طرف سے منفی باتیں سننے کو ملتی ہیں، شہدا کی قربانیوں کو داغدار کرنے کی بھی کوششیں وقتا فوقتا ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہوئے ہمارے بہادر جوان قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ رواں سال کے چھ ماہ میں چھ سو سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز ہو چکے ہیں اگر یہ کارروائیاں نہ ہوتیں تو اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں امن کے دشمن نہتے شہریوں کو کیسے نشانہ بناتے، کیسے ملک میں امن تباہ کرتے، کیسے ہمارے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے کارروائیاں کرتے، کیا کبھی کسی سیاست دان نے سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں پر بیان جاری کرتے ہوئے اس پہلو پر غور کیا ہے۔ ابھی مولانا فضل الرحمن کا بیان نظر سے گذرا ہے، وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے ماضی کے حوالے دے رہے ہیں۔ مولانا بتائیں کہ کیا ان آپریشنز کی وجہ سے ملک میں دہشت گردوں کی کارروائیوں پر قابو نہیں پایا گیا، کیا ملک کو خود کش دھماکوں سے نجات نہیں ملی، کیا وادی سوات میں لوگوں کی زندگی معمول پر نہیں آئی، کیا دیگر علاقوں میں زندگی نسبتا معمول پر نہیں آئی۔ اب اگر ملک میں کہیں کہیں یہ عناصر موجود ہیں تو کیوں ان کے خاتمے کی کوششیں نہ کی جائیں۔ مولانا کو کیوں ملک کا امن تباہ کرنے والوں سے ہمدردی ہے، مولانا فضل الرحمن اور ان کی طرح ایسی کارروائیوں کی مخالفت کرنے والے دیگر سیاست دانوں کو اپنے جوانوں کی شہادتیں اور عام، نہتے شہریوں کا خون کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام کی کوششوں کو بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آج پاکستان کے رابطے دنیا سے بحال ہوئے ہیں، ملک میں بین الاقوامی کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہیں، غیر ملکی وفود اور سرمایہ کار آ رہے ہیں تو امن کی اس فضا کو قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ستر ہزار سے زائد انسانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے افواج پاکستان، رینجرز، حساس ادارے، پولیس کے جوانوں سمیت شہریوں نے اپنا خون دیا ہے۔ آج اگر ملک کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے تو اس معاملے میں سیاسی قیادت کو سیاسی مفادات کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ آج بھی ہمارے بہادر جوان دفاع وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ کیپٹن اسامہ بن ارشد کا نام بھی انہی شہدا میں شامل ہے۔ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد نے جام شہادت نوش کیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، چوبیس سالہ کیپٹن آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ 
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا مؤثر انداز میں پتا لگایا اور سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ شمالی وزیر ستان میں شہید ہونے والے کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد شہیدکی نماز جنازہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر وزیر دفاع، وزیر اطلاعات اور حاضر سروس و ریٹائرڈ فوجی افسران، فوجی جوانوں اور شہید کے لواحقین نے بھی بڑی تعداد میں نماز جنازہ میں شرکت کی۔کیا یہ قربانیاں ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی خاطر نہیں ہیں۔ کیا ان قربانیوں کا کوئی سیاسی مقصد ہے، سیاسی قیادت سے گذارش ہے کہ خدا کے لیے سنجیدہ ہو جائیں اور قوم کو بہتر پیغام دیں۔ 
دوسری طرف آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا جس میں بہادر فوجی جوان سپاہی اسد اللہ، سپاہی محمد سفیان اور زین علی شہید ہوئے ہیں۔ تیس سال کے سپاہی اسد اللہ شہید کا تعلق مٹیاری سے تھا، اٹھائیس سال کے سپاہی محمد سفیان شہید ڈی آئی خان کے رہائشی تھے جبکہ چوبیس سال کے زین علی شہید کا تعلق بہاولنگر سے تھا۔ ان شہدا کو سلام ان کے اہلخانہ کو سلام، اور اس موقع پر سیاسی قیادت کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سیاسی قیادت کو ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے بہتر فیصلوں کی توفیق عطاء فرمائے۔ کیونکہ بدقسمتی سے آج بھی ہم سیاسی مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہیں ملکی مفاد کو قربان کر دیتے ہیں اور یہی سوچ ہماری ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کیونکہ اگر نمایاں سیاسی قیادت نے بہتر کام کیا ہوتا تو کبھی نئی سیاسی جماعتوں کی ضرورت پیش نہ آتی، آج کیوں ہر جگہ یہ بات ہو رہی ہے کہ ملک میں نئے سیاسی پلیٹ فارم کو ہونا چاہیے۔ پہلے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کے ساتھیوں نے عوام پاکستان پارٹی لانچ کی اور اب سابق گورنر سندھ عشرت العباد بھی یہی بات کر رہے ہیں۔ عشرت العباد بھی سمجھتے ہیں کہ ملک کو نئی سیاسی قیادت یا سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک دہائیوں سے سیاست کرنے والوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بہت ہو چکا ہے۔ آج بھی وہی گھسے پٹے بیانات اور اقدامات ہو رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی حکومت کی عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کو نشانہ بناتے ہوئے زراعت کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے بھاری ٹیکسوں کے نفاذ کو نشانہ بنایا ہے۔ کیا حکومت نے اس عمل میں اپنی سب سے بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اگر صدر پاکستان آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی نئے مالی سال میں وفاقی حکومت کی بجٹ پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ اگر ملک کے صدر یہ سمجھتے ہیں کہ جاگیرداروں پر ٹیکس نافذ ہونا چاہیے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت مالداروں پر ٹیکس لاگو کرنے کے بجائے مالی اعتبار سے کمزور طبقے پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دو بڑی جماعتیں ہیں ان دونوں جماعتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ بعض معاملات میں فوری سہولت کی ضرورت ہے، بعض معاملات میں طویل المدتی منصوبوں پر کام ہو سکتا ہے لیکن ہر معاملے کو دو تین یا پانچ سال کا خواب دکھا کر شہریوں کی زندگی کو اجیرن نہیں کیا جا سکتا۔ اگر زراعت ہمارا مستقبل ہے تو کیوں زرعی شعبے کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ 
آخر میں فرحت عباس شاہ کا کلام
اگر ہے وہ جو برائے سگاں میسر ہے
تو کہنے دیجئے ہم کو کہاں میسر ہے
ہمیں پتہ ہے کہ ترتیب میں نہیں ہیں ہم
ہمیں وہی ہے کہ جو ناگہاں میسر ہے
مگر وہ تم جو نہ خود ہو نہ تذکرہ ہے کہیں
مگر یہ ہم جنہیں نام و نشاں میسر ہے
ہمیں پتہ ہے کہ نایاب ہے جو ہے وہ ہے
زمانے بھر میں نہیں پر یہاں میسر ہے
زمانہ ہے تجھے از روئے کیف مستقبل
ہمیں تو گزرا ہوا  کل کلاں میسر ہے
جو فکر ِ فاقہ نہ ہوتی تو مر گئے ہوتے
یہ کم نہیں کہ جو بارِ گراں میسر ہے
تری کریمی کے باعث تِری عطاء کے طفیل
ہیں خوش نصیب جنہیں رائیگاں میسر ہے
کْھلے گی دھوپ تشکر کی انتہا  بہ رضا
مگر وہ لوگ جنہیں سائباں میسر ہے
ہم ایسے خا نہ پرستوں کی سادگی پہ نہ جا
وہیں ٹھہر تے ہیں جا کر جہاں میسر ہے
ہمیں تو آتی نہیں پھر بھی شعر دیکھیے گا
تمہیں تو خیر سے اْردو زباں میسر ہے

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...