پنجاب سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری‘ خاتون ملازم بے ہوش

11 فروری 2018

لاہور ( این این آئی) پنجاب سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں چیئرنگ کراس چوک میں پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا ، ایک ملازم احتجاج کے دوران بیہوش ہو گئی جسے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، دھرنے کے باعث مال روڈ اور اس سے ملحقہ شاہرائوں پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔پنجاب سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر ایسوسی ایشن کا پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی ۔احتجاجی ملازمین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا کر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کوئی حکومتی عہدیدار ملازمین سے مذاکرات کے لئے نہ پہنچا ۔ملازمین نے کہا کہ ہم تقریباً2000سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروئزرز کو 2007،2008،2009 میں موجودہ حکومت نے پورے صوبے میں بنیادی مرکز صحت کی سطح پر تعینات کیا ، ہم لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں کوئی بھی آفیسر ماسٹرز سے کم نہیں ، زیادہ تر لوگ ایم فل ، پی ایچ ڈی ہیں ، ہم لوگ پبلک سکولز اور کمیونٹی میں ہیلتھ ایجوکیشن اور ہیلتھ پروموشن کا کام کرتے ہیں۔ڈینگی ، پولیو ، خسرہ ، ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ اور دیگر قسم بچائو مہمات کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہیں۔2009ء میں تمام محکمہ جات کے گریڈ 1سے 19تک کے ملازمین بشمول محکمہ صحت ہمارے تمام ساتھیوں کو ریگولر کر دیا گیا مگر ہمارے کیڈر کو جان بوجھ کر کنٹریکٹ پر رکھا ہو ا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ہمار ے کئی ساتھی دوران سروس وفات پا گئے جن کو مستقل ملازم والا کوئی بھی فائدہ نہیں ملا ۔ خادم اعلیٰ ، وزیر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ، سیکرٹری سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ باقی تمام ملازمین بشمول محکمہ صحت کے ملازمین کی طرح ہمیں بھی بغیر کسی شرط کے فی الفور مستقل کیا جائے ورنہ اسمبلی ہال لاہور سے اٹھ کر کسی صورت نہیں جائیں گے اور تادم مرگ اپنے حق کے لئے ادھر ہی لڑیں گے ۔احتجاج کے باعث مال روڈ اور اس سے ملحقہ شاہرائوں پر دن بھر ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے سے شہری ذلیل و خوار ہوتے رہے ۔