عمران خان ایک بندگلی میں

سیاست اور جمہوریت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، کسی بھی ترقی کرنےوالے معاشرے کےلئے ضروری ہے کہ وہاں عوام کی رائے مقدم ہو اور عام آدمی کو بھی ہرطرح کی جمہوری آزادی حاصل ہو۔ اسی طرح سیاست کے بھی کچھ بنیادی تقاضے ہیں جن کا احترام کرکے ہی اس میدان میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست کا لفظ منفی معنوں میں لیاجاتاہے جس کی بنیادی وجہ ہمارے سیاسی اکابرین کا مجموعی طور پر غیرجمہوری طرز عمل ہے، سیاست میں رواداری، لچک، مذاکرات اور ایک دوسرے کے سیاسی اورجمہوری وجود کو تسلیم کرنا ضروری امر ہیں۔ اگر کوئی سیاسی رہنما اپنے آپ کو عقلِ ک±ل سمجھے اور دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنے سے صرف اس وجہ سے انکار کرے کہ وہ اسے اچھا نہیں لگتا یا اسکے اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر پورا نہیں اترتا توپھر اسے کامیاب سیاستدان نہیں کہاجاسکتا، پاکستان کی سیاست ویسے تو ہروقت ہی تلاطم کا شکار رہتی ہے مگر گزشتہ ایک سال سے اس تلاطم میں بہت زیادہ اضافہ ہواہے جس کی بنیادی وجہ گزشتہ سال اپریل میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان کی طرف سے پیدا کیاجانے والا سیاسی بحران ہے۔ اقتدار ایک آنی جانی چیزہے جس کے حصول کےلئے آئینی اور قانونی جدوجہد کرنا ہرکسی کا سیاسی حق ہے لیکن اس کی آڑ میں انارکی پیدا کرنا ملک کےلئے کسی صورت بھی اچھا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک سال سے جاری اس سیاسی بحران کا نقصان آج پوری قوم اٹھارہی ہے۔ سیاست کو کبھی بھی پوائنٹ آف نوریٹرن کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔
اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد جوکہ ایک آئینی طریقے سے ختم ہوئی عمران خان نے فوری طور پر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، یہ اعلان کرتے وقت ان کا خیال تھا کہ اس سے نئی حکومت پر دباﺅ بڑھے گا اور پارلیمنٹ غیرفعال ہوجائے گی جس کی وجہ سے حکومت ملک میں نئے انتخابات کروانے پر مجبور ہوجائے گی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اتنی بڑی تعداد میں استعفے آنے کے بعد قومی اسمبلی اپنا اخلاقی جواز کھوبیٹھے گی جس کی وجہ سے قانون سازی بھی نہیں ہوسکے گی۔ عمران خان کے بعض ساتھیوں، ہمدردوں اور آئینی وقانونی ماہرین نے بھی انہیں مشورہ دیاکہ استعفے دینے کی بجائے وہ اسمبلی کے اندر موجود رہ کر اپنا آئینی وقانونی کردار ادا کریں اور حکومت کو ٹف ٹائم دیں، صرف چند ووٹوں کی عددی برتری پر قائم حکومت اتنی بڑی اور موثر اپوزیشن کا سامنا نہیں کرسکے گی اور خود ہی اسمبلی توڑ کر انتخابات کروانے پر مجبور ہوجائےگی۔ بطور قائدحزب اختلاف جناب عمران خان اپنے آپکو ایک بہتر اور منجھا ہوا سیاستدان ثابت کرسکیں گے اور حکومت کےلئے یہ ممکن ہی نہیں رہے گاکہ اتنی مضبوط اور موثر اپوزیشن کا سامنا کرکے اسمبلی کی کارروائی آگے بڑھائیں، اسکے برعکس توقعات کے عین مطابق عمران خان نے کسی کی نہ سنی اور اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے استعفے واپس نہیں لئے، نتیجتاً حکومت کو میدان کھلا مل گیا اور وہ گزشتہ ایک سال سے پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق چلارہی ہے، قانون سازی بھی ہورہی ہے اور اپوزیشن کا پریشر بھی نہیں ہے، اس ضد اور ہٹ دھرمی نے عمران خان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے اور اب جبکہ وہ استعفے واپس لینے کا اعلان بھی کرچکے ہیں تو حکومت ایک بہتر حکمت عملی کے تحت انہیں ایسا نہیں کرنے دے رہی۔
اسی طرح پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اپنی دو صوبائی حکومت کو ختم کرکے بھی عمران خان نے ایک بہت بڑا سیاسی بلنڈر کیاہے اس بارے میں تو اس کے اپنے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی بھی کھل کر اس بات کا اظہارکرچکے ہیں کہ انہوں نے جناب عمران خان کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیاتھا مگر وہ نہیں مانے۔ ایسا کرتے وقت بھی عمران خان کویہ امید نہیں یقین تھا کہ حکومت یہ پریشر برداشت نہیں کرسکے گی اور ملک میں عام انتخابات کا اعلان کردےگی مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہوا، بعد میں عدالتوں کو ساتھ ملاکر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ بھی دی گئی مگر آج تک یہ انتخابات نہیں ہوسکے۔اگر آج یہ دونوں صوبائی حکومتیں موجود ہوتیں تو حالات مختلف ہوتے، عمران خان اور تحریک انصاف کےساتھ یہ پولیس اوردوسرے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کا سلوک اس طرح نہ ہوتا، گورننس کے ذریعے لوگوں کو ریلیف دےکر عام انتخابات میں اپنی پوزیشن مزید بہتر کرسکتے تھے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا اور نصف سے زیادہ ملک پر حکومت کرکے عمران خان اپنے لئے ایک مزید بہتر Naritiveبناسکتے تھے مگر یہاں بھی انکی انا آڑے آئی اور انہوں نے کسی قسم کی لچک دکھانے کی بجائے اپنی دونوں حکومتیں توڑ دیں اور آج ہر طرف سے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔
کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتاہے۔ جناب عمران خان کا شروع دن سے ہی یہ وطیرہ اور سوچ رہی ہے کہ انہوں نے کسی سے بات چیت نہیں کرنی کیونکہ بقول انکے یہ سب چور ڈاکو ہیں۔ اگر وہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر جہاں وہ خود کیس لے کر گئے تھے حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر الیکشن کی ایک تاریخ پہ متفق ہو جاتے تو پھر پاکستان آج بہت بہتر حالت میں ہوتا۔ حکومت کا یہ مو‘قف تھاکہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے پراکتوبر میں الیکشن کروا دیں گے جبکہ عمران خان کا موقف تھا اور اب بھی ہے کہ فوری طور پر انتخابات کا اعلان کیا جائے جو بوجوہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ویسے بھی اکتوبر میں اب وقت کیا باقی رہ گیا ہے۔ مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کا نقصان عمران خان اور ان کی اپنی جماعت کو ہی ہواہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران عمران خان نے جس طرح مسلسل اپنے کارکنوں بالخصوص نوجوانوں کی ذہن سازی کی ہے اور انہیں اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے مشتعل کیاہے اسکا ایک نتیجہ9مئی کو سامنے آیا جب ایک کرپشن کے کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں ملک میں تشدد اور جلاﺅ گھیراﺅ دیکھنے میں آیا جس کا مرکزی ہدف ہمارے دفاعی ادارے اور ان سے منسلک تنصیبات تھیں، یہ ایک ایسا عمل تھا جس کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ فوج پاکستان کے دفاع اور بقاءکی علامت ہے اور اس پر حملہ دراصل پاکستان پر حملے کے مترادف ہے اس عمل میں عمران خان کی جماعت اور اسکے رہنما براہ راست ملوث تھے جس کے واضح ثبوت سب کے سامنے ہیں، اس حرکت کے بعد ردعمل آنا ایک قدرتی امر تھا کیونکہ ریاست اس پر خاموش نہیں رہ سکتی تھی، اب عمران خان کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے انکے بہت سے ساتھی انہیں چھوڑ کرجاچکے ہیں جبکہ مزید بھی تیار ہیں جبکہ بہت سے لوگ اب قانون کی گرفت میں ہیں اس انا، ہٹ دھرمی اور نفرت کی سیاست نے جناب عمران خان کو ایک بند گلی میں لاکھڑا کیاہے۔