خیبر پی کے حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار، مجھے وزیراعظم بنادیں 300یونٹ مفت بجلی دونگا : بلاول

 پشاور( نوائے وقت رپورٹ)  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اتنے ممالک اور فوج کو افغانستان میں شکست ہوئی، دورہ افغانستان سے مسائل حل نہیں ہوتے نہ چائے کا کپ پینے سے، افغانستان اور پاکستان کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے افغانستان کے سارے مسائل ان کے کنٹرول میں نہیں۔بلاول بھٹو زرداری پشاور پہنچے جہاں گورنر خیبر پختون خوا نے ان کا استقبال کیا۔  ارکان اسمبلی، پشاور پریس کلب کی کابینہ، اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ہم غربت کا مقابلہ کررہے ہیں، بلاسود قرضے دیے،سیلاب سے متاثرہ گھروں کو مالکانہ حقوق دیں گے۔بعدازاں گورنر ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مثبت سیاست کی  گالم گلوچ کی سیاست پریقین نہیں رکھتے خیبرپختونخوا میں گالم گلوچ کی سیاست ہے نفرت اور انائوں کی سیاست ہے پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا میں تنظیم نو کرنا چاہتی ہے ہم اس صوبے میں نفرت کی سیاست کا مقابلہ مثبت سیاست سے کریں گے۔بلاول نے کہا کہ اس صوبے میں امن و امان کے بڑے مسائل ہیں یہاں  بڑی قربانیوں سے امن قائم ہو اتھا، پختونخوا سے بلوچستان تک دہشت گردتنظیمیں سراٹھا رہی ہیں، ہم وزیراعظم کی اے پی سی میں اپنے موقف کے ساتھ شرکت کریں گے ہم مل کر مسائل کا مقابلہ کریں گیہم ہمیشہ عوام کے ساتھ اور فوج کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی وجہ سے یہ حکومت کھڑی ہے ہم سے بجٹ سے پہلے بات ہونی چاہیے تھی،اگلے بجٹ میں پیپلز پارٹی سے پہلے مشاورت کی جائے گی۔اتنے ممالک اور فوج کو افغانستان میں شکست ہوئی، دورہ افغانستان سے مسائل حل نہیں ہوتے نہ چائے کا کپ پینے سے،  افغانستان اور پاکستان کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے افغانستان کے سارے مسائل ان کے کنٹرول میں نہیں۔پیپلز پارٹی کے سوا کون دہشت گردی کے بارے میں پوچھتا ہے؟ ہمارے مطالبے پر جنرل (ر) باجوہ اور فیض حمید نے پارلیمان کو بریفنگ دی تھی، اے پی سی کے منتظرہیں تاکہ حقائق کی بنیاد پر اپنا موقف سامنے رکھیں، ہم حکومت کے ہر فیصلے پر نہ تو تنقید کرتے ہیں نہ تعریف۔انہوں ںے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پندرہ برس سے دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے وزیراعظم بنادیں تو تین سو یونٹ مفت دیں گے،ہم ان ڈائریکٹ ٹیکس زیادہ لیتے ہیں توغرباء  پرسب سے زیادہ بوجھ پڑتاہے، بوجھ غرباء سے اشرافیہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا تومعیشت بہترنہیں ہوگی۔انہوں ںے کہا کہ ہم وزارتوں کے خواہش مند نہیں، امن کے معاملے میں صرف اتحادیوں سے نہیں بلکہ اپوزیشن سے بھی رائے لی جائے، ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے اچھے دن کب آئیں گے؟ امن و امان کی سب سے بدتر حالت خیبرپختونخوا میں ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی لوڈ شیڈنگ سب سے اہم مسئلہ ہے ، خیبرپختونخوا میں سستی بجلی پیدا ہوتی ہے پہلا حق بھی اسی صوبے کا ہے، وفاق کو چاہیے کہ وہ چاروں صوبوں میں سولر انرجی پارک بنائے یہی توانائی کی کمی کاعلاج ہے، سندھ میں ہم سولر انرجی پارک بنارہے ہیں جس سے بجلی فراہم ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ پر کوئی تنقید نہیں کررہے، قیدی نمبر 804 کے خلاف کوئی کیس کرانا چاہے تو روکیں گے نہیں لیکن میں کوئی کیس نہیں کررہا، دوسروں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں اور خود رونا دھونا لگا رکھا ہے، سب نے جیلیں بھگتیں اور کیسوں کا سامنا کیا کسی نے اتنا رونا دھونا نہیں کیا۔ بلاول نے کہا کہ مولانا صاحب جو کرنا چاہیں کریں وہ اچھے سیاست دان ہیں الیکشن سے پہلے اور بعد کے موقف کو کیا کہیں، مولانا صاحب الیکشن مہم میں الیکشن جلد کرانے کی بات کرتے تھے ہار جائیں تو ہار  بھی مانیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بجٹ سے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کی جارہی ہے۔ہمیشہ مثبت سیاست کی ہے، معاشی مسائل تاریخی سطح پر پہنچ چکے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام، افواج نے شہادتیں دیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نفرت کی سیاست کرنے والوں کا مثبت سیاست سے مقابلہ کریں گے، آج پاکستان کو تاریخی مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی،غربت ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے، دن بدن حالات بگڑ رہے ہیں، اگرسیاست دان سنجیدگی سے مسائل حل نہیں کریں گے توعوام کے ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت پورے پاکستان میں مثبت سیاست کا فقدان ہے، نفرت، انا، گالم گلوچ کی سیاست خیبرپختونخوا میں عروج پر ہے، غیرجمہوری سیاست کا سیاسی اندازمیں مقابلہ کرنا پڑیگا۔ افسوس خیبرپختونخوا سے لیکر بلوچستان تک پھر دہشت گردی سراٹھا رہی ہے،ہشت گردی کے حوالے سے پالیسی میں بھی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکی، ڈپلومیسی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، بہادر افواج نے دہشتگردوں کو تاریخی شکست دی،  ایجنسیز چاروں صوبوں میں قربانیاں دے رہی ہیں، ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیںں اس سے انکار نہیں ہے، وافغانستان کے مسائل کا حل افغان حکومت کے پاس نہیں۔

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...