پاکستان کے عوام کو ایک’’ نیلسن منڈیلا ‘‘کی ضرورت

09 دسمبر 2013

   21 ویں صدی کی عظیم شخصیت ڈاکٹر نیلسن منڈیلا نے  جنوبی افریقہ  کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کی طویل جدو جہد کی  جس کے باعث انہیں  پوری دنیا میں قدر ومنزلت کی نگاہ  سے دیکھا جاتا ہے انکی وفات سے دنیا ایک عظیم  رہنما سے محروم ہوگئی ہے 27سال  کی’’ قید تنہائی‘‘ سے رہائی کے30 ماہ  بعد وہ افریقن نیشنل کانگریس کے سربراہ کی  حیثیت سے پہلی بار  3اکتوبر1992ء کو پاکستان  کے دورے پر آئے تو پاکستان کے عوام نے ان کا شاندار استقبال کیا  دوسری بار مئی 1999ء میں جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے  پاکستان  آئے توان کے استقبال میں کوئی کمی نہ  آئی اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور نسلی امتیاز کے خلاف ربع صدی سے زیادہ جدوجہد کرنے والی عظیم شخصیت نے دوبار پاکستان کا دورہ کیا تو  پاکستان میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت تھی دونوں  باروزیر اعظم محمد نواز شریف نے پوری کابینہ کے ہمراہ ان کا اسلام آباد ائیرپورٹ پر شاندار استقبال کیا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اپنی قوم کو بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد کرنے والے لیڈر کی پاکستان کے عوام اور حکومت کے دلوںمیں کتنی قدرو منزلت پائی جاتی ہے  جنوبی افریقہ میں گوروںکی نسلی امتیاز کی حامل اقلیتی حکومت نے سیاہ فام اکثریت کو اپنے ہی ملک میں  غلاموں  سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا تھا زندگی کے  ہر شعبہ میں سیا ہ فام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتاتھا  ان کا حق حکمرانی تو سرے سے  تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تھاحتیٰ کہ  ریستوران  کے باہر ’ کتوں اور کالوں ‘‘ دونوں کا داخلہ ممنوع قرار دئیے جانے کا  بورڈ نصب  ہوتا تھا انسانیت کی اس سے زیادہ تذلیل کیا ہوسکتی تھی ؟جس طرح امریکہ میں طویل جدوجہد  کے بعد 60ء کے عشرے میں  سیاہ فام شہریوں کو گوروں کے مقابلے میں برابر کے حقوق دلوائے گئے   اسی طرح اپنے ہی دیس میں  نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے 27 سال قید تنہائی میں گذار کر غلامی سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کئے گئے سیاہ فام شہریوں کو ان کاحق حکمرانی دلوایاافریقن نیشنل کانگریس اور افریقہ کی ڈی کلارک حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجہ میں500 کی رہائی اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد میں مارے جانے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکا  اگرچہ قیام پاکستان کی تحریک کے منطقی انجام تک پہنچانے  میں برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو آگ اور خون کے دریا عبور کرنا پڑے لیکن تحریک پاکستان کے روح رواں قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک روز بھی جیل جائے بغیرمذاکرات کی میز پر پاکستان کا مقدمہ جیت لیا ان کی وفات کے بعد پاکستان  کے عوام کو  ایک ایسے قائد کی تلاش رہی جوان کی کشتی کو منزل مقصود تک پہنچا سکے پاکستانی قوم ایک ایسے مسیحا کی تلاش میں ہے جو اس کے دکھوں کا مدوا کر سکے  پاکستان کی 66سالہ زندگی  کا کم وبیش نصف حصہ فوجی آمریت کے سائے میںگذر گیا پاکستان پر آمریت کی طویل سیاہ رات مسلط رہی  حکمرانوں نے پاکستان کے عوام کو’’ لولی پاپ‘‘ دے کر اپنی حکمرانی کو طوالت تو بخشی لیکن ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے اضافہ ہی کرتے رہے ان میں سے کوئی بھی نیلسن منڈیلا بننے کی صلاحیت رکھتا تھااور نہ ہی کسی نے ان کی راہ پر چلنے کی کوشش کی جب نیلس منڈیلا جنوبی افریقہ کے صدر بنے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ’’ آج سے  نیشنل افریقن کانگریس ان کی پارٹی ہے ،نہ قبیلہ اور خاندان‘‘ ۔انہوںنے اپنے آپ کو پورے ملک کا صدر بن کر دکھایا انہوں نے پانچ سال تک شفاف انداز میں حکومت کی۔ حکومت کی  مدت پوری ہونے کے بعد سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لی پھر مڑکر انہوں نے حکومت کی طرف نہیں دیکھا اگر وہ چاہتے تو ’’بابائے قوم‘‘ ہونے کی حیثیت سے اقتدار سے چمٹے رہتے لیکن انہوں نے  اپنے آپ کواقتدار کی دوڑ سے رضاکارانہ طور پرالگ کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کی جس کی تیسری دنیا میں شاید ہی مثال مل سکے پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ بیشتر سیاست دانوں نے فوج کی ’’نرسری‘‘ میں پرورش پائی اور پھر تناور درخت بن کر پاکستان پربے رحمی سے حکمرانی کی۔ ایوان صدر کے’’ مکین ‘‘اور ’’ تخت اسلام آباد ‘‘پر بیٹھنے والوں نے آئین وقانون کی پاسداری کی اور نہ ہی انہوں نے عوام  کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی بلکہ ایسے حالات  پیدا کئے جاتے رہے کہ ہر جانے والے کے دورکو آنے والے دور سے بہترسمجھا جانے لگاپاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کمپنی باغ(لیاقت باغ)میں شہید کر دیا گیا اس مقام سے دو اڑھا ئی کلومیٹر دور راولپنڈی جیل میں ذالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا 12اکتوبر 1999ء کو ایک فوجی جرنیل نے  منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر آئین پاکستان کو اپنے بوٹوں تلے روند دیا اور منتخب وزیر اعظم کو جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا اسی طرح جب ’’خود ساختہ ‘‘جلاوطنی ترک کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو انہیں ’’ وعدہ خلافی ‘‘ پر اسی مقام پر شہید کر دیا گیا جہاں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو شہید کیا گیا تھا پاکستان میں خوشامدیوں نے  اپنے قائدین کو ’ ’ قائد عوام اور قائد اعظم ثانی ‘‘ کے خطابات سے تو نوازا لیکن کوئی بھی  لیڈر عوام کے دلوں میںوہ مقام پیدا نہ کرسکا جو نیلسن منڈیلا نے اپنے کردار وعمل سے اپنی قوم سے حاصل کیا تھا۔ قائد اعظم  کی وفات کے بعد ان کی بہادر ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناح کے لئے لوگوں کے دلوں میں مقام تھا لیکن ایک ڈکٹیٹر کے بنائے ہوئے’’ بنیادی جمہوریت ‘‘کے نظام نے ان کو ملک کا صدر نہیں بننے دیا ۔مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن مقبول ترین لیڈر تھے لیکن انہوں نے اپنی مقبولیت کو پاکستان کو یکجا رکھنے کے لئے بروئے کار لانے کی بجائے اسے دولخت کرنے کے لئے استعمال کیا  بچے کھچے پاکستان میںذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے مقبول لیڈروں میں شمار  ہوتے تھے لیکن انہوں نے بھی’’ ادھر ہم ادھر تم ‘‘کا نعرہ لگا کر شیخ مجیب الرحمنٰ کے لئے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے  کے لئے راہ ہموار کی پیپلز پارٹی کے دوست اس بات سے شاید اتفاق نہ کریں  آج کے دور میں وزیر اعظم محمد نواز شریف  ملک کے مقبول ترین  لیڈر ہیں عمران خان تیزی سے  ان کا تعاقب کررہے ہیں عمران خان کی مقبولیت  میں  پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن نے اضافہ کیا  تھالیکن اب  صورت حال بالکل مختلف ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ نوازشریف کی’’ گڈ گورننس ‘‘ ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی کا باعث بن جائے ان کے ’’نعروں پر مبنی سیاست ‘‘ دن بدن  عوام میں ایکسپوز ہورہی ہے  وہ جس طرح نیٹو سپلائی بند کرنے کانعرہ لگاکر سیاست کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی ناکامیوں کو نیٹو سپلائی کی بندش کی دھول میں چھپانا چاہتے ہیں۔خیبر پختونخوا حکومت ایسا طرز عمل اختیار کر رہی ہے جو گورنر راج کے نفاذ کا باعث بن جائے۔ بد قسمتی سے اس وقت پاکستان میں  ایسی  قیادت کا فقدان ہے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کی فکر کو لے کرآگے چلے اور اپنے سیاسی مقاصد سے بالاتر ہوکر ایک قومی ایجنڈے پر اتفاق کرے یہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان میں بھی نیلسن منڈیلا جیسی قیادت سامنے آئے گی جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر سوچے گی لہذاآج کے پاکستان کو ایک نیلسن منڈیلا کی ضرورت ہے جو اس کی کشتی کو گرداب سے نکالے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن وہ اسی صورت میں ملک کو بحرانوں نکال سکتے ہیں جب انہیں تمام سیاسی جماعتوں کی تائید وتعاون حاصل ہو ان کی حکومت کو 6 ماہ گذر گئے ہیں لیکن ابھی تک وہ تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے قومی ایجنڈا پیش نہیں کر سکی وہ سولو فلائٹ کر رہی ہے اپنی ’’کامیابیوں و ناکامیوں‘‘میں دوسروں کو شریک نہیں کرنا  چاہتی جس طرح وہ’’ جیو اورجینے دو‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اسے تمام سیاسی جماعتون کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے  جب تک تمام سیاسی جماعتیں قومی ایجنڈے پر متفق نہیں ہوتیں اس وقت تک  قومی مسائل کے حل کی کوئی راہ نہیں نکلے گی۔وزیر اعظم محمد نواز شریف کو قومی ایجنڈا تیار کرنے کے لئے تمام سیاسی قوتوں  کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔