آزاد کشمیر‘ متحدہ کے 2 وزرا برطرف: الطاف کو گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ چلایا جائے: خیبرپی کے اسمبلی

05 اگست 2015

پشاور+ مظفر آباد+ لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں+ وقائع نگار خصوصی) خیبر پی کے اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الطاف حسین کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے اور غداری کا مقدمہ درج کیا جائے، فوج اور ریاست کے خلاف الطاف حسین کے شرانگیز بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت نے متحدہ کے 2 وزرا کو برطرف کردیا۔ ایم کیو ایم کے وزراء کو عبوری آئین کی دفعہ 14 کے تحت برطرف کیا گیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے طاہر کھوکھر اور سلیم بٹ کی برطرفی کے احکامات جاری کئے۔ چودھری عبدالمجید نے دونوں وزیروں کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ 72 گھنٹے میں الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کریں، ورنہ خود کو کابینہ سے فارغ سمجھیں۔ وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر چودھری عبدالمجیدکی صدارت میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی تمام تنظیموں کے نمائندوں کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے منظم قتل عام کی بھارتی منصوبہ بندی، مسلم آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور خصوصاً جموں میں کشمیریوں کی نسل کشی کے سنگین واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور انتہا پسند بھارتی حکمرانوں کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی گئی اور اقوام عالم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی بندکرائیں اور کشمیری عوام کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ استصواب رائے کا حق دلائیں۔ اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر آباد شہری آبادی کو بھارتی گولہ باری سے محفوظ بنائے۔ اس موقع پر الطاف حسین کی پاک فوج کے خلاف تقریر کی شدید مذمت کی گئی اور پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری جانب پاک فوج کے خلاف منفی بیانات اور عوام کو بھڑکانے پر حکومت کو الطاف حسین کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے لئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کر دی گئی۔ بیرسٹر ظفراللہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الطاف حسین پاکستان میں بغاوت، قتل اور بھتہ خوری سمیت متعدد مقدمات میں نامزد ہیں اور ان کو عدالت نے اشتہاری بھی قرار دے رکھا ہے تاہم حکومت انہیں گرفتار نہیں کر سکتی کیونکہ پاکستان اور برطانیہ میں مجرموںکی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے الطاف حسین آئے روز پاکستان کے خلاف مختلف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ عدالت نہ صرف ملک میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دے بلکہ یہ بھی حکم دیا جائے کہ حکومت الطاف حسین کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کرے۔