حضور نبی کریم ﷺ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں آپ ﷺ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلی تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمﷺ کی خدمت کرتا رہا ہوں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان دس سالوں میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں ۔ 
حضور رحمت عالم ﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے ۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے ۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے ۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوںکو ان کی شان کے مطابق نوازتے ۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریم ﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں ۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپ ﷺ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپ ﷺ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا ۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے ۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے ۔آپ ﷺکا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا ۔ بد اخلاقی ، سنگدلی ، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپ ﷺ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے ۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے ۔ کوئی بھی سائل آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے “۔(سورة آل عمران ) ۔
 اگر کوئی آپ ﷺ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ھدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اسکے بدلے ہدیہ سے نوازتے ۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا ۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے ۔ آپ ﷺ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے /