’’ایسٹ انڈیا کمپنی کی واپسی‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’ایسٹ انڈیا کمپنی کی واپسی‘‘

جس ملک میں عوام کی رائے کا احترام کرنے کا رواج نہ ہو وہاں "آلودگی" جانچنے کا نظام نہ ہونے پر چُنداں حیرت نہیں "سموگ" لمحہ موجود کا تباہ کن فیز۔ اِس کو "ماہرین پانچواں" موسم قرار دے رہے ہیں۔ جو ایجاد دریافت نہ ہوئی اُس کا جواز دینا مشکل ہے۔ جو دریافت رجسٹرڈ نہ کروائی جا سکے اُس کا استعمال حد درجہ خطرات کے ساتھ جُڑا ہے۔ دہلی اور لاہور میں تازہ مقابلہ زیادہ آلودگی کاتمغہ جیتنا ہے۔ ہم سے بے حسی کی اموات کا تمغہ کوئی نہیں جیت سکتا۔

ایک دن میں 5"سماعتیں"۔ اِس سے پہلے "عدالت عالیہ" کا کہنا تھا "سموگ" سے زندگیاں کم ہو رہی ہیں۔ پنجاب حکومت سو رہی ۔ "پانچواں موسم" ویسے ہی خطرناک ہے ۔ لگتا ہے جس طرح صفائی سے دوائیوں تک ہر چیز "ٹھیکے" پر جا چکی ہے۔ اِسی طرح ایک دن خبر پڑھیں گے "سموگ" کو ہٹانے۔ مٹانے کا ٹھیکہ فلاں "برادر ملک" کو دیدیا گیا۔ معاہدے کی کامیابی کے گن گائے جائیں گے۔ پھر انگنت فوائد ۔ ثمرات سے کروڑوں کے اشتہار بمعہ "تصویر" چھپتے رہیں گے کہ "لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا"۔ عوام کی حد تک تونہیں معلوم البتہ "اعلیٰ عدالتوں" کے ریمارکس ضرور یاد رہیں گے کہ "حکومت کی کارکردگی صرف کاغذوں اور دستاویزات تک نظر آرہی ہے"۔ ذہین کو ماؤف کر دینے والی خبروں کا انبار ہے۔ تباہی کی لاتعداد کہانیاں ہیں۔ جب ہم یہ خبر پڑھتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال 21" ارب ڈالرز" کا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے تو دماغ میں فوراً "عمران خان" کا بیان گھومنے لگتا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ انکشاف "سینٹ فورم برائے پالیسی ریسرچ" میں "چیئرمین ارسا" نے کیا۔ بیان قومی سطح کے لیڈر نے دیا ۔ دونوں کی اہمیت۔ الفاظ میں وزن سے آنکھیں موندی نہیں جا سکتیں۔ اگلی خبر بھی ایسی نہیں تھی کہ بے حسی کی پوری بارات کے ساتھ نظر انداز کر دی جاتی ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک "غیر ملکی "کو" ایس ای سی پی "کا" سی ای او" مقرر کر دیا گیا ۔ ابھی "P-I-A" کا حشر ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا نہ ہی "غیر ملکی سربراہ" کی کُھلے عام طیارہ کرپشن ۔ نا اہلی کے داغ دُھل پائے تھے کہ ایک اور اہم مگر بیحد حساس ادارہ غیر ملکی تصرف میں دیدیا ۔ لگتا ہے جیسے "ایسٹ انڈیا کمپنی" کی واپسی ہورہی ہے۔ ہو رہی کیا بلکہ ہو چکی ہے۔
ایک وقت تھاکوئی سر پھرا "رپورٹر" جان ہتھیلی پر رکھ کر غبن۔ غلط کاری کی خبر نکلواتا تھا۔ پھر باقاعدہ "تحقیقی رپورٹر" کا دور چلا ۔ وقت کی گردش نے رفتار پکڑی تو بالکل نیا نقشہ سامنے آگیا۔ اب پارلیمنٹ کی کمیٹیاں انکشاف کرتی ہیں بلکہ دُہائی دیتی ہیں۔ "پی اے سی" کی رپورٹ میں ناقص پلاننگ کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کے التواء کا ذکر ہوا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ "اندرونی مافیا" منصوبوں کی لاگت بڑھواتا ہے۔ ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ یہ بھاری پتھر کبھی کوئی اُٹھائے گا؟ انکشاف۔ تقاریر کی حد تک محدود رہنے والے معاشرے میں "عمل" نام کی دریافت کب ہوگی۔
"سٹیفن ہاکنگ" کے مضمون سے ویب سائٹ کرپش کر گئی۔ کیونکہ وہ صرف لکھتا نہیں۔ ٹھوس عملی کام بھی کرتا ہے۔ کندھے پر سجے "تمغے" اِس کا ثبوت ہیں۔ عمل کامیابی کی ضمانت تو اپنے وطن۔ قوم کے ساتھ بلا تعصب۔ بلا تفریق۔ بلا غرض محبت اشتہاروں کی تعریف کی محتاج نہیں ہوتی۔ اپنے پیشے سے صرف وابستگی اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔ خلوص۔ لگن۔ ذِمہ داری نبھانے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ "کالے انگریزوں" کے سائے۔ پورے معاشرے کو لپیٹے ہوئے ہیں۔ اِن کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا مگر سفاکیت اتنی کہ ایک طرف بھوک۔ تنگ سے معصوم بچے مر رہے ہیں دوسری طرف ایک ہی واردات میں درجن بھر افراد ناحق مار دئیے جاتے ہیں۔ آہوں۔ سسکیوں کی آوازوں سے بلند قلعوں کے دروانے نہیں کُھلتے اسلئیے کہ وہ اپنے مقصد۔ انتخاب کے عظیم کاز سے فرار ہیں ۔ ذمہ داری سے باغی ہیں۔ ہر بڑی واردات کے بعد کاروائی۔ رسمی کاروائی۔ وہ بھی چند گھنٹوں کی۔ اُس کے بعد جامد سکوت۔
"ٹی بی" میں پاکستان کا پانچواں نمبر ۔ یہ انکشاف بھی "سینٹ کی ذیلی کمیٹی برائے صحت" کے اجلاس میں ہوا۔ یقینی طور پر انسداد ٹی بی کے لیے مختص فنڈز واپس چلے جائیں گے۔ کمیٹی نے تو تصدیق کر دی ۔ اِس خبر کو شائع ہوئے کافی دن گزر گئے کِسی بھی طرف سے ہلکی سی جبنش بھی دیکھنے کو نہیں ملی کیونکہ عوام کی صحت ہماری ترجیح ہے نہ ملکی سلامتی۔ قومی وقار کا تحفظ ہمارا مطمع نظر۔ ہم صرف اپنی ذات کے اسیر ہیں۔ ہماری سانسیں رواں رہنی ضروری ہیں۔ دشمن۔ سازشیں چاہے کِسی بھی طرف سے گُھس آئے۔ قوم کا کتنا ہی نقصان کر جائے ۔ طوفان اُمنڈ اُمنڈ آئیں۔ کوئی پرواہ نہیں ۔ صرف اتنا ہو کہ اِن کا رُخ کِسی بھی صورت ہمارے محلات۔ دھن۔ دولت کی طرح نہ ہو ۔ ایسا ہوا تو یہ نا انصافی ہوگی ۔ ظلم ہوگا۔