کرپشن بڑھ گئی، ٹرانسپیرنسی: نواز دور کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، وزیراعظم

کرپشن بڑھ گئی، ٹرانسپیرنسی: نواز دور کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، وزیراعظم

اسلام آباد (نامہ نگار) پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی، گزشتہ سال کی نسبت بدعنوانی میں اضافہ ہوا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2020ء میں پاکستان کی 4درجے تنزلی ہو گئی ہے۔ پاکستان 180ممالک میں سے 124ویں درجے پر آگیا۔ جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 120ویں نمبر پر تھا۔ اس کے ساتھ ملک کا سکور بھی 100میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے میں کم ہو کر 31ہوگیا۔ سال 2019ء میں پاکستان کا درجہ 180ممالک کی فہرست میں 120 تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حکومت کو مقننہ، انتظامیہ اور پولیس کے شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔ دوسری جانب بھارت کے سکور میں بھی ایک پوائنٹ کی کمی ہوئی اور یہ 41سے کم ہو کر 40ہوگیا جبکہ بھارت اس فہرست میں 80ویں درجے سے گر کر 86نمبر پر پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے 2ذرائع رول آف لا انڈیکس اور ورائٹی آف ڈیموکریسی سے متعلق شعبے میں بھی کم سکور کیا جس کی وجہ پاکستان کے مجموعی سکور میں سی پی آئی 2020ء کے مقابلے ایک درجے کی کمی ہوئی۔ عالمی انصاف پروگرام (ڈبلیو جے پی) رول آف لا اینڈ ورائیٹیز آف ڈیموکریسی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات سرکاری افسران، قانون سازوں، ایگزیکٹوز، عدلیہ، پولیس اور فوج کی کرپشن کے بارے میں تھے جس کی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے وضاحت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت نے ان چاروں شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا  نیب کی جانب سے گزشتہ 2برسوں کے دوران 3کھرب 63ارب روپے برآمد کرنے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے 3کھرب روپے کی برآمدگی کے دعووں اور غیر معمولی کوششوں کے باوجود رینکنک اور سکور کم ہوا۔ خطے کے دیگر ممالک میں بھارت، ایران اور نیپال کا سکور ایک درجے جبکہ ملائیشیا کا 2درجے کم ہوا البتہ افغانستان کا سکور 3درجے اور ترکی کا ایک درجہ بہتر ہوا۔ سی پی آئی 2020ء میں انکشاف ہوا  مسلسل کرپشن صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو نقصان پہنچارہی ہے اور جمہوریت کی گراوٹ میں کردار ادا کررہی ہے۔ ان کے مقابلے میں فہرست میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ممالک صحت عامہ میں زیادہ سرمایہ کاری کررہے اور عالمگیر صحت کی سہولیات دینے کے بہت اہل ہونے کے ساتھ وہاں جمہوری اصولوں اور اداروں یا قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کا امکان کم ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 180ملکوں اور خطوں کے سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیا گیا جس میں سب سے زیادہ کرپٹ کو صفر اور شفاف ترین ملک کے لیے 100کا ہندسہ رکھا گیا۔ فہرست میں نیوزی لینڈ اور ڈنمارک 88پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست ہیں جبکہ شام کے 14پوائنٹس، صومالیہ کے 12اور جنوبی سوڈان کے بھی 22پوائنٹس ہیں۔ علاوہ ازیں مسلسل گراوٹ کے رجحان کے ساتھ امریکا نے 67پوائنٹس کے ساتھ 2012کے بعد اپنا سب سے کم سکور حاصل کیا۔ اعلی سطح پر مفادات اور عہدے سے بدسلوکی کے مبینہ تنازعات کے علاوہ سال 2020میں 10کھرب ڈالر کے کووڈ 19امدادی پیکیج کی کمزور نگرانی نے شدید خدشات کو جنم دیا اور حکومت کی جوابدہی کو فروغ دینے والے دیرینہ جمہوری اصولوں سے پسپائی ظاہر کی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ انگلش میں ہے، سو پٹواری آج خوب لڈیاں ڈالیں گے، ان کو کل سمجھ آئے گی کہ یہ رپورٹ ہمارے زمانے کے ڈیٹا پر مرتب ہوئی ہے۔  سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹر پر پانے بیان میں معاون خصوصی شہباز گل نے  کہا کہ پی ڈی ایم اور اس کے حواری ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2019 کی رپورٹ کے پیچھے اپنے گندے گناہ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، قوم کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ کہ یہ ن، پی پی اور فضل کی کرپشن کا گند ہے، کیوں کہ رپورٹ کے لئیے جو ڈیٹا استعمال ہوا وہ 2017، 2018 اور 2019 میں پبلش ہوا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کرپشن بڑھنے کے ذمہ دار صوبائی محکموں کو قرار دیدیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ سب ایشوز وفاق کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ پہلی بار ملک میں سکینڈل سے پاک کابینہ ہے۔