2020میں ملک میں جمہوریت کا معیار آئیڈیل نہیں تھا:پلڈاٹ

لاہور(نیوز رپورٹر) پلڈاٹ کے زیر اہتمام ایک مکالمے کا انعقاد کیا گیا جس میں  2020 میں جمہوریت کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 2020 میں جمہوریت کا معیاروہ نہیں تھاجو ہونا چاہیے،بڑھتی ہو ئی سیاسی پولرائزیشن سے نمٹنے اور جمہوری حکمرانی کو بہتر بنانے کیلئے سیاسی کھیل کے قواعد طے کرنے کیلئے آئین کواصول رہنمائی ہونا چاہیے۔ سابق سینیٹر جاوید جبار،تجزیہ کار سید طلعت حسین، پلڈاٹ صدر احمد بلال محبوب اور پلڈاٹ کی جوائنٹ سیکریٹری آسیہ ریاض نے شرکت کی۔ آسیہ ریاض نے کہا کہ 2020کے دوران دنیا  بھر میںبہت ساری جمہوریتوں میں آمرانہ رحجانات کو دیکھاگیا۔حزب اختلاف کے اتحاد کے طور پر پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ پاکستان میںجمہوریت کیلئے ایک امید کی کرن ہے۔ احمد بلال محبوب کاکہنا تھا کہ 2020 میں پاکستان میں جمہوریت کا معیار خراب ہوا ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں نے خاص طور پر کورونا وائرس کے اثرات کو سنبھالنے میں نگرانی کا مطلوبہ کردار ادا نہیں کیا۔  پلڈاٹ صدر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا  یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں ہائبرڈ حکومت کو سیاسی جماعتوں کے ذریعہ چیلنج کیا جارہا ہے جو سن 2020 میں جمہوریت کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے۔اس موقع پر تجزیہ کار،سید طلعت حسین نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ پر کس قدر کم توجہ دی ہے اور وفاقی حکومت نے 2020 میں قانون سازی کے بجائے آرڈیننس پر کتنا انحصار کیا ہے ۔جاوید جبار نے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کے نظام کی کمزوری کی بڑی وجہ ملک میں مقامی حکومتوںکے نظام کی عدم موجودگیکو قرار دیتے ہیں۔