بھارت کی طرف سے ریگولیٹری ڈیوٹی کے باعث پاکستانی سیمنٹ زیادہ متاثر ہو گا

اسلام آباد (عترت جعفری) پاکستان اور بھارت کی دوطرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر کے قریب ہے اور یہ واضح طور پر بھارت کے حق میں رہا ہے۔ سیفٹا معاہدہ‘ بھارت کی طرف سے پاکستان کو ایم ایف این درجہ دینے (اب واپس لے لیا) کے باوجود پاکستان سے بھارت کے لئے برآمدات میں کبھی اضافہ نہیں ہوا اور دونوں ملکوں کی باہمی تجارت بھارتی ’’نان ٹیرف رکاوٹوں‘‘ کے باعث ہمیشہ بھارت کے حق میں گئی۔ بھارت نے گزشتہ روز پاکستان سے منگوائی جانے والی اشیاء پر 200 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کر دی جس سے خصوصی طور پر پاکستانی سیمنٹ متاثر ہو گا جس کی بھارت میں خاصی مارکیٹ ہے اور اس کے کافی کنٹینرز واہگہ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان بھارت سے ادویات‘ مرغیوں کی خوراک سمیت متعدد چیزیں منگواتا ہے۔ بھارت سے پاکستان کے لئے درآمدات ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر جبکہ برآمدات 300 سے 500 ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارتی اقدام کا جواب دینے کے لئے کافی فورم موجود ہیں تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان غیر ضروری ردعمل نہیں دے گا کیونکہ سڑک کے راستے بہت اہم چیزیں جو خام مال کے زمرے میں آتی ہیں ملکی تاجر درآمد کرتے ہیں۔ جن کی درآمد روکنے کے اقدامات سے مقامی مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔ تاہم مارکیٹ ذرائع نے بتایا ہے کہ آلو‘ ٹماٹر‘ پیاز کی بھارت سے درآمد مخصوص حالات میں ہی ہوتی ہے۔ یہ دونوں اشیاء ملک میں وافر موجود ہیں۔